الوداع رمضان و عید

تاریخ    1 مئی 2022 (00 : 01 AM)   


 الوداع اےماہِ رمضان الوداع 

تقویٰ و ایمان کی جان الوداع
الوداع اے ماہِ رمضان الوداع
       الوداع اے ماہِ رمضان الوداع
نام سے تیرے تھیں آئیں رحمتیں
اے حسیں انعامِ رحمان الوداع
       الوداع اے ماہِ رمضان الوداع
زندگی تجھ سے جو رونق بار ہے
اب یہ ہو جائے گی سنسان الوداع
       الوداع اے ماہِ رمضان الوداع
تیس دن کا اک مہینہ ہوکے اے
سال بھر کے جاہ و سلطان الوداع
       الوداع اے ماہِ رمضان الوداع
دیکھ تو رخصت پہ تیری کس قدر
اہلِ ایماں ہیں پریشان الوداع
       الوداع اے ماہِ رمضان الوداع
برکتیں ہی برکتیں تھیں تیرے ساتھ
قاسمِ فیضانِ قرآن الوداع
       الوداع اے ماہِ رمضان الوداع
جا مگر تیرا رہے گا انتظار
اے مرے پاکیزہ مہمان الوداع
       الوداع اے ماہِ رمضان الوداع
تیرے دم سے جو بہت آباد ہے
ہوگی کل یہ بزم ویران الوداع
       الوداع اے ماہِ رمضان الوداع
 
ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادتگنج۔بارہ بنکی،یوپی
موبائل نمبر؛7007368108
 
 

عید غزل

دعائے خیر کرے خاکسار عید کے دن
مراد سنتا ہے پروردگار عید کے دن
سجائی میں نے دکاں ذی وقار عید کے دن
مسرتوں کا کیا کاروبار عید کے دن
سحر سے شام تک آنکھیں بچھائی چوکھٹ پر
مجھے کسی کا رہا انتظار عید کے دن
قریب زلفِ معطر سمیٹ کر آیا
تو میں نے وار دیا حق سے پیار عید کے دن
امیرِ شہر کا اُترن غریب نے پہنا
یونہی ملی نہ خوشی مستعار عید کے دن
کسی نے دل سے لگایا نہ خیریت پوچھی
رہا ملول غریب الدیار عید کے دن
اٹھاؤ صحن میں دیوار یا اخی لیکن
خراب لگتی ہے چیخ و پکار عید کے دن
اسی خیال سے ہم خوشیاں اپنی بانٹتے ہیں
نظر نہ آئے کوئی اشکبار عید کے دن
کسی لحاظ سے تعطیل میں خسارہ ہے
غیاثؔ کام کرو شاہکار عید کے دن
 
غیاثؔ انور شہودی
ہوگلی، مغربی بنگال،موبائل نمبر؛09903760064
 
 

ربِ زُوالجلال سے!

عیاں زمین و زماں کی ہر چیز سے ہے تیرا جمال مولا!
بیان کیا کر سکے گا کوئی بشر یہ جاہ و جمال مولا!
 
جو خاص بندے دِکھا گئے کل جہاں کو اپنا کمال مولا!
اُن ہی کا کیوں آج قافلہ اسقدر ہوا ہے نِڈھال مولا!
 
کسی قیامت سے کم نہیں یہ کہ اُمّتِ مصطفےٰ کے رُخ سے
ہر ایک ناظر کو صاف آتی نظر ہے گردِ ملال مولا!
 
نہ حوصلوں کی اُڑان ویسی، نہ کامرانی کی وہ بہاریں
ہماری خاطر ہے خواب آور یہ نغمۂ ماہ وسال مولا!
 
چہار جانب نہ بُو لہب کی جماعتوں کا ہو اب کے غلبہ
وہ پرچمِ حق کو کہنے والے مصیبتوں کا مآل مولا!
 
اب اور کب تک پڑا رہے گا سفینہ اپنا بھنور میں غم کے
معاف ہوں سب خطائیں، امن و اماں سے کر اب نہال مولا
 
ایس حسن انظرؔ
رابطہ؛بمنہ سرینگر،کشمیر
 
 

میرے الٰہی

اگر چہ تو نگاہوں سے نہاں ہے
میرے لئے مثل ذکا تو عیاں ہے 
پہچانا تجھے فقط اس ادا سے
ہر شئ میں تیرا جذبِ فغاں ہے
نہ رہی حاجت دستِ طلب کی
میرے سوال کا جواب قرآن ہے
ہر نفس زندہ تیری تسبیح سے
صبحِ و مساء جس سے تر زباں ہے
موسیٰؑ کے کمال اور شقِِ ہلال سے
سلطانی جو تیری ہر سُو بیاں ہے
تیری وحدت کا ثبوت اس بات سے
جو ہر سمت گونجے تیری اذاں ہے
جس نےکی تجھ سے تقابل کی ہمت
ہر دور میں کیا اس نے اپنا زیاں ہے
فیضان ہے تیرے رزق کا ہر سو
پتھر میں کیڑا بھی کھا کے جواں ہے
مغفرت کا طالب ہے یہ عاصی سہیلؔ
اس کا گناہوں سے بھرا جہاں  ہے
 
سہیل احمد
ڈوڈہ مرمت 
موبائل نمبر؛6006549235
 
 

رخصت جو ہم سے ماہِ رمضان ہورہاہے

 
آنکھیں تڑپ رہی ہیں دل بھرکے رو رہا ہے
رخصت جو ہم سے ماہِ رمضان ہورہاہے
 
کیسے ملیں گی ساری وہ نعمتیں ہمیں پھر
برکت ہی جارہی ہے اور سکون کھو رہاہے
 
راتوں میں جاگتے تھے، کرتے رہے دعائیں
اب جیسے سارا عالم چُپ ہوکے سو رہاہے
 
وہ رونقیں کہاں ہیں، جو صبح و شام ہوتیں
آنسو لہو کا دل کو گناہوں سے دھو رہا ہے
 
اللہ کرے یہ ساعت پھر ہوں نصیب ہم کو
دل آس کے سحرؔ، ہار پھر سے پیرو رہا ہے
 
ثمینہ سحرؔ مرزا
بڈھون، راجوری

تازہ ترین