کشمیری روایتی کانی شال کی صنعت زوال پذیر کیوں؟

تاریخ    28 جنوری 2022 (11 : 01 PM)   
(File Photo)

یو این آئی
سری نگر// وادی کشمیر کی جو روایتی دستکاری کی چیزیں دنیا کے گوشہ وکنار میں اپنی ایک منفرد شناخت و مقام رکھتی ہیں ان میں کانی شال سر فہرست ہے لیکن اس اہم اور تاریخی دستکاری کی صنعت گذشتہ کئی برسوں سے روبہ انحطاط ہے۔
 
اس صنعت سے جڑے دستکاروں کا کہنا ہے کہ بیوپاریوں کی طرف سے انتہائی کم مزدوری ملنے کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ اس صنعت سے وابستہ دستکار کنارہ کشی کرکے روزی روٹی کے لئے دوسرے پیشے اختیار کر رہے ہیں بلکہ کوئی بھی نیا شخص اس پیشے کو اپنے روزگار کا ذریعہ نہیں بنا رہا ہے۔
 
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں دستکاری کی یہ صنعت ختم ہی ہوسکتی ہے جس سے ہماری شاندار ثقافت کی عمارت کا ستون زمین بوس ہوسکتا ہے۔
 
کانی شال کی صنعت سے گذشتہ 18 برسوں سے وابستہ دستکار فیصل احمد لون نے یو این آئی کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں اس پیشے سے جڑے رہنے سے گھر کا گذارہ بڑی مشکل سے ہوجاتا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے عیال کی وقت کے تقاضوں کے مطابق پرورش نہیں کر پا رہے ہیں لیکن اس روایتی صنعت کے ساتھ لگاؤ اور محبت نے ہمیں باندھ رکھا ہے۔
 
ان کا کہنا تھا: ’کوئی بھی دستکاری ہمارے لئے روز گار کا ہی ذریعہ نہیں ہے بلکہ ان کے ساتھ ہماری شاندار ثقافت جڑی ہوئی ہے، یہ ہماری پہچان ہے اور ہمارا میراث بھی‘۔
 
سری نگر کے نور پورہ صفا کدل علاقے سے تعلق رکھنے والے موصوف دستکار نے کہا کہ کانی شال کی صنعت زوال پذیر ہے۔
 
انہوں نے کہا: ’بہت کم لوگ کانی شال کی صنعت سے اب وابستہ ہیں کئی دستکاروں نے اس سے کنارہ کشی کرکے روز روٹی کے لئے دوسرے پیشے اختیار کئے کیونکہ اس کے ساتھ رہ کر گھر میں چولھے جلانا مشکل بن گیا ہے‘۔
 
ان کا کہنا تھا: ’اب مسئلہ یہ ہے کہ نئے لوگ بھی اس پیشے کو اختیار نہیں کر رہے ہیں کیونکہ یہاں مزدوری بہت کم ہے جس سے آج کے مہنگائی کے دور میں گھر چلانا ممکن نہیں ہے‘۔
 

تازہ ترین