اب کورونا کے سب سے زیادہ کیسز اومیکرون سے وابستہ، ڈیلٹا کا پھیلاؤ بھی جاری: وزارت صحت

تاریخ    28 جنوری 2022 (34 : 11 AM)   


نیوز ڈیسک

 

نئی دہلی// مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ ملک میں رپورٹ ہو رہے کورونا وائرس کے انفیکشن کے زیادہ تر معاملات اب اومیکرون ویرینٹ سے وابستہ ہیں اور اب یہ سب سے بڑا ویرینٹ بن چکا ہے۔
 
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزارت صحت میں جوائنٹ سکریٹری لو اگروال نے بتایا کہ گزشتہ ایک مہینے کے دوران ملک میں رپورٹ ہونے والے کورونا کے بیشتر کیسز اومیکرون سے وابستہ ہیں۔ تاہم حکومت نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ ڈیلٹا ویرینٹ اب بھی بڑے پیمانے پر موجود ہے اور اس کے پھیلنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
 
وزارت صحت کے جوائنٹ سکریٹری لو اگروال نے کہا، ’’دنیا میں اس وقت کورونا کے 6.5 کروڑ کیسز فعال ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، یونان اور جنوبی افریقہ میں کورونا کیسز کم ہو رہے ہیں۔ ہندوستان میں تقریباً 22 لاکھ فعال کیسز ہیں۔
 
صرف 11 ریاستیں ایسی ہیں جہاں کورونا کے فعال کیسز کی تعداد 50 ہزار سے زیادہ ہے۔
 
اس کے علاوہ 14 ریاستوں میں 10 سے 50 ہزار تک فعال کیسز ہیں جبکہ 11 ریاستیں ایسی ہیں جن میں کورونا کیسز کی تعداد 10 ہزار سے کم ہے۔
 
ملک بھر میں 400 اضلاع ایسے ہیں جہاں پازیٹوٹی ریٹ 10 فیصد سے زیادہ ہے۔ کرناٹک، کیرالہ، تمل ناڈو، گجرات، آندھرا پردیش، راجستھان ایسی ریاستیں ہیں جہاں کیسز بھی زیادہ ہیں اور پازیٹوٹی کی شرح بھی زیادہ ہے۔‘‘
 
 
وزارت کے مطابق ملک میں 15-18 سال کی عمر کے 59 فیصد نوعمروں کو اب تک انسداد کورونا ویکسین کی پہلی خوراک دی جا چکی ہے۔
 
ملک میں 97.03 لاکھ ہیلتھ ورکرز، فرنٹ لائن ورکرز اور 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کو انسداد کورونا ویکسین کی 'احتیاطی' خوراک دی جا چکی ہے۔
 
انہوں نے بتایا کہ کرناٹک، کیرالہ، تمل ناڈو، گجرات، آندھرا پردیش، راجستھان سے کورونا ککے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، جبکہ مہاراشٹر، اتر پردیش، دہلی، اوڈیشہ، ہریانہ، مغربی بنگال میں کورونا کیسز اور انفیکشن کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔
 
وہیں، این سی ڈی سی کے ڈائریکٹر سوجیت سنگھ نے کہا کہ اومیکرون کے معاملوں میں دسمبر کے بعد جنوری میں ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا۔
 
دسمبر میں اومیکرون کے 1292 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ جنوری میں یہ بڑھ کر 9672 ہو گئے۔
 
دوسری طرف جنوری میں ڈیلٹا ویرینٹ کے 1578 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ تین ریاستیں مہاراشٹر، اوڈیشہ اور مغربی بنگال میں ڈیلٹا پایا گیا ہے۔ دہلی میں بھی ڈیلٹا کے کیسز سامنے آ رہے ہیں، لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈیلٹا ویرینٹ کا اثر تاحال ختم نہیں ہوا ہے۔
 

تازہ ترین