تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    28 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیر احمد قاسمی
س:۱-کیااللہ تعالیٰ انسان کی تقدیر صرف ایک بار لکھتاہے یا بار بار انسان کی تقدیر میں ہر کوئی چیز آتی ہے جن میں موت بھی شامل ہے اور موت مختلف قسم کی ہوتی ہے، تو پھر خودکشی ناجائز کیوں ہے ؟
س:۲-کیا قیامت کے دن ہر کسی جاندار چیز سے حساب لیا جائے گا یا صرف انسان سے ہی ؟
س:۳-اگر کوئی انسان کسی سے کچھ رقم یا اور کوئی چیز لیتاہے جو بعد میں واپس کرنی ہومگر پھر یہی انسان بھول گیا کہ اس نے کسی سے کچھ رقم لی یا کوئی اور چیز اور دینے والا بھی اس سے مانگنے کی جرأت نہ کرے یا وہ بھی بھول گیا ہو تو کیا اس صورت میں قیامت کے دن ادائیگی کرنی ہوگی ؟
غلام محی الدین بٹ …بانڈی پورہ 

اموراتِ تقدیر کی وضاحت

ج:۱-انسان کی زندگی کے کچھ امور تو وہ ہیں جن میں انسان کو کوئی دخل نہیں ہےاورنہ انسان اُن میں کسی تغیر وتبدل کرنے کا اختیار رکھتاہے ۔ مثلاً موت کا وقت ،جگہ اور جائے دفن وغیرہ ۔ ان امور کے متعلق اللہ نے انسان کے متعلق جو کچھ لکھ دیاہے وہ اٹل ہے اور انسان اس سے لاعلم بھی ہے اور اس کے سامنے بے بس بھی۔ اور کچھ امور وہ ہیں جن کے کرنے یا نہ کرنے کا انسان کو اختیار دیا گیا ہے ۔ وہ اپنی سوچ ، عقل ، نفع ونقصان کے متعلق غور وفکر کرنے او رپھر اپنے ارادے اور عزم سے ترک وقبول کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرتاہے ۔ یہ ایک واضح اور ناقابل انکار حقیقت ہے کہ انسان کسی بھی اچھے یا برے کام کے متعلق سوچنے ، کرنے ،چھوڑنے ، بچنے ، انجام دینے  یاارتکاب کرنے کی قوتِ فیصلہ ، اور پھر اسی کے مطابق قدم اٹھانے کی صلاحیت بھی رکھتاہے اور طاقت واستطاعت بھی ۔ چونکہ وہ قوتِ تمیزاور اختیاری ترک وقبول کا حامل ہے اسی کی وجہ سے وہ انعام کا بھی مستحق بنتاہے اور سزاکا بھی ۔ اس قوت اختیار کے بعد اب وہ کون سا راستہ اختیار کرے گا یہ اللہ کے علم میں ہے ۔ اس علم الٰہی کو بھی تقدیر ہی کہتے ہیں لیکن انسان جو کچھ بھی اچھا یا برا کرے وہ اس لئے نہیں کرتا کہ اس کے لئے یہ لکھ دیا گیا ہے یا اس لئے کہ وہ مجبور ہوکر کرتاہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ جو کچھ اپنی مرضی او راختیار سے کرنے والا ہے وہ پہلے ہی علم الٰہی میں ہے جیسے کہ کوئی ماہرطبیب کسی مریض کے متعلق یہ کہہ دے کہ یہ مریض اب صحت یاب نہ ہوگا ، تو مریض کا صحتیاب نہ ہونے کا سبب طبیب کی اطلاع نہیں ہے بلکہ اس کا مرض ہے ۔ اس طرح تقدیر کا معاملہ ہے ۔
خودکشی میں انسان اپنی سوچ ، عقل ، تدبیر ، قوت فیصلہ استعمال کرتے ہوئے ایک غلط قدم اٹھاتاہے ۔ اس غلط قدم اٹھانے کو جرم اور حرام قرار دیا گیا ہے ۔ یہ اقدام خودکشی کامیاب ہوگا یا نہیں اس سے قطع نظر یہ اقدام بجائے خود جرم ہے ۔ اب یہ اقدام کس نتیجہ پر منتج ہوگا ، یہ علم الٰہی میں طے ہے مگر انسان کا اقدام خودکشی اپنی مرضی اور خود کے فیصلہ کے بعد ہوگا ۔ اور اپنی اسی مرضی اور قوت فیصلہ کا منع کئے ہوئے کام کے لئے استعمال کرنا جرم ہے جبکہ اُسے اُس وقت اس کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ میری تقدیر میں کیا لکھاہے تو انسان اپنے عزم وارادے سے جو کچھ کرتاہے اُس پر اُسے انعام بھی ملتاہے اور اسی کی بناء پر وہ مجرم بھی قرار پاتاہے ۔ حدیث میں خودکشی کرنے والے کے متعلق ارشاد ہواہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے مجھ پر سبقت لے کر اپنے آپ کو موت سے ہمکنار کیا ۔ اس لئے اس پر جنت حرام ہے ۔(بخاری)
ج:۲-قیامت میں اصل حساب وکتاب تو صرف دومخلوقات کا ہوگا اور وہ ہیں جنات وانسان کیونکہ یہی احکام الٰہی کے مکلف ہیں ۔ ہاں جانوروں میں سے جس نے کسی کمزور کو کوئی تکلیف پہنچائی ہو اس کو زندہ کرکے اُسی طرح کی تکلیف یا چوٹ اُس کمزور جانور سے لگوائی جائے گی او ربس ۔پھر وہ ہمیشہ کے لئے فنا ہوجائیں گے۔

قرض کی ادائیگی ہر حال میں لازم

ج:۳-رقم لے کر واپس کرنا لازم ہے ۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، قرض کی ادائیگی لاز م ہے ۔ اگر دنیا میں قرض ادا نہ کیا گیا تو قیامت میں اس کی ادائیگی لازم ہے ۔ حضرت رسول رحمتؐ سے ایک شخص نے سوال کیا اگر میں اللہ کی راہ میں شہید ہوجائوں تو کیا میرے سارے گناہ معاف ہوں گے ؟ ارشاد ہواکہ ہاں ، تین مرتبہ یہ سوال پوچھا گیا ، ہر مرتبہ یہی جواب ملا ۔ وہ شخص چل پڑا تو دربارِ رسالتؐ میں اسے واپس طلب کیا گیا اور ارشاد ہوا کہ قرض معاف نہ ہوگا۔ا سلئے قرض کی ادائیگی بہرحال لازم ہے ۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مساجد کے حمام میں نماز و تلاوت کامسئلہ

س:-عموماً لوگ حمام کے غسل خانوں میں بغیر طہارت کے داخل ہوتے ہیں۔ کیا اس جگہ نماز یا کلمات پڑھنا جائز ہوگا؟  
  ( منظور احمد …برزلہ) 
ج: -کشمیر میں مساجد میں غسل خانوں سے ملحق پتھر کی سلو ں کا وہ حصہ جس کو حمام کہاجاتاہے ،دراصل اس کو حمام کہنا ہی غلط ہے او ریہ غلط العوام کی وہ قسم ہے جس سے شرعی مسائل تک متاثر ہوجاتے ہیں ۔ حمام کے اصل معنی غسل خانے کے ہیں ۔ چنانچہ جہاں گرم پانی سے نہانے کا انتظام ہو اور ایک بڑے ہال کو چاروں طرف سے بند کردیا گیا ہو پھر چاروں طرف گرم پانی کے نلکے ہوںیا گرم پانی کا حوض ہو اُس ہال میں داخل ہوکر نہانے کا ،بدن کوگرم کرنے کا کام لیا جاتاہے ۔ اسی کو حمام کہاجاتا ہے۔ حمام دراصل صرف نہانے کی جگہہے ۔ شرح ترمذی۔ احادیث میں جس حمام میں نماز پڑھنے کی ممانعت ہے وہ یہی حمام ہے ۔ یہاں کشمیر میں مساجد یا گھروں میں جو حصہ پتھر کی سلوں سے تیار شدہ ہوتاہے اور جس کو یہاں حمام کہا جاتا ہے اس کا اصلی نام صفّہ ہے جس کو یہاں کے شرفاء  ’’صوفہ ‘‘کہا کرتے تھے ، جو مسجد نبوی کے صفّہ سے ماخوذ ہے ۔ اُس صوفہ پر نماز ، تلاوت ، تسبیح وغیرہ سب جائز ہے ۔ مساجد میں جو صفہ یعنی یہاں کے عرف میں حمام ہے اُس میں یقینا بے وضو وغسل آدمی داخل ہوتاہے مگر اُس کی وجہ سے وہاں نماز پڑھنا ممنوع قرار نہیں پائے گا۔ جیسے کہ اپنے گھروں میں میاں بیوی کے مخصوص کمرے میں بھی انسان بے وضو وبے غسل ہوتاہے تو اُس وجوہ سے وہاں نماز پڑھنا ممنوع نہیں ہوتا ۔اسی طرح مساجد کے صفہ(حمام)کا معاملہ ہے کہ یہ مسجد کا حصہ بھی ہے مگر مسجد کے حکم میں نہیں ۔اُس گرم حصہ پر اگر صف بچھائی جائے اور اس صف پر سنتیں ، نوافل ،تلاوت ،تسبیح ، ذکر وغیرہ کیا جائے تو یقینا یہ جائز ہے ۔ بلکہ اس کی وجہ سے وہ لغوباتوں کے بجائے محل عبادت بن سکتاہے ۔ ورنہ یہ صفہ طرح طرح کی لغویات کا مرکز بن جاتاہے ۔  
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
س:۱-کیا عورت کی نماز بیٹھ کر ہوجاتی ہے؟
س:۲-اگر جماعت کے دوران امام رکوع میں ہوں، آنے والا تکبیر کہہ کر سیدھا رکوع میں چلا جائے یا پہلے سینے پر ہاتھ باندھے۔ ؟
س:۳-اگرجمعہ کی نمازکی ادائیگی کیلئے دیر سے پہنچے، سنت کی چار کعت ا بھی باقی ہوں اور خطبہ شروع ہوگیا۔ کیا پہلے سنت کی چار رکعت پڑھے یا خطبہ سننے میں مشغول ہو جائے ۔ کیا سنت بعد میں پڑھ سکتے ہیں۔ سنت کس ترتیب سے پڑھیں ۔ 
س:۴- دو عیدین کے درمیان اُن خاندانوں میں ، جن میں پہلے کوئی نکاح کی مجلس منعقد نہ ہوئی ہو شاد ی کرنا برا مانتے ہیں۔کیا ایسادرست ہے ؟
عبدالرشید …مانتری گام 

بلاعذر بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز نہیں

ج:۱-قیام پر قدرت ہوتے ہوئے بیٹھ کر بلاعذر نفل کے علاوہ کوئی نماز پڑھنا ہرگز جائز نہیں بلکہ کھڑے ہوکر پڑھنا ضروری ہے ۔ قیام کا یہ حکم مردوں کے لئے بھی ہے اور خواتین کے لئے بھی  ۔ 

اتباعِ امام واجب ہے

ج:۲-مسنون طریقہ یہ ہے کہ حالت قیام میں تکبیر تحریمہ کہے پھر فوراً دوسری تکبیرکہتا ہوا رکوع میں جائے ۔تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ نہ باندھے ،رکوع میں امام کے ساتھ ذراسی شرکت بھی کافی ہے ۔اس کے لئے ایک تسبیح کی بقدر رکوع میں ٹھہرنا واجب ہے ۔اس کے بعد بقیہ تسبیحات چھوڑ کر اتباعِ امام واجب ہے ۔ 
ج:۳- خطبہ شروع ہونے کے بعد سنت نہ پڑھے بعد نماز جمعہ کے پڑھے ۔ اس ترتیب سے کہ پہلے نمازجمعہ کے بعد کی چار رکعت سنت پھر دورکعت سنت اور بعد میںپہلے والی چار رکعت سنت پڑھ لے۔
ج:۴-یہ بالکل غلط عقیدہ ہے ۔ یہ قطعاً غلط اور بیہودہ خیال ہے۔ اسلام نے کوئی مہینہ ایسا نہیں بنایا جس میں نکاح ناجائز ہو۔ حضرت فاطمہؓ کا نکاح حضرت علیؓ سے شوال کے مہینے میں ہواہے اور ظاہر ہے کہ یہ دو عیدوں کے درمیان ہے ۔ 
 

تازہ ترین