ہماری لاڈلی بیٹیاں اور آج کا ظالم معاشرہ

فہم و فراست

تاریخ    20 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


سبزار احمد بانڈے
 
خالق دو جہاں نے اس دنیا کو بہت خوب صورت بنایا ہے اور اس کی خوب صورتی کو مختلف چیزوں اور رشتوں میں چھپایا ہے۔ ان رشتوں میں سے ایک قدرت کا انمول تحفہ بیٹی ہے، مگر کچھ لوگ اس رحمت کو زحمت سمجھتے ہیں۔اولاد اللہ پاک کی اَن گنت نعمتوں میں سے بہت خاص نعمت ہے۔ اللہ کے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں ’’بیٹیاں اللہ پاک کی رحمت ہوتی ہیں‘‘۔ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:’’جب اللہ پاک اپنے بندے پر بہت زیادہ خوش ہوتا ہے تو اِسے اولاد میں بیٹی دیتا ہے‘‘۔
آپؐ، صحابہ کرامؓ اور تابعین کے اپنی بیٹیوں، بہنوں، مائوں اور بیویوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کے واقعات ہم سب کے لیے روشن دلیل ہیں کہ اسلام میں عورت کا کیا مقام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی بیٹیوں کے ساتھ حُسنِ سلوک اور ان کو احترام و عزت دینا آج کے مسلمانوں کے لیے سبق ہے۔ آخرت کے اجر و ثواب کے علاوہ بیٹیاں تو اِس دنیا کی زندگی کے لیے بھی ماں باپ کے لیے باعث ِسکون و راحت اور رحمت کا سرچشمہ ہیں۔
 اکثر والدین بڑے فخر سے اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں بیٹی کی پیدائش سے گھر میں خوشحالی، برکت و رونق آگئی ہے۔ ہمارے گھر میں جب بیٹی کی پیدائش ہوتی ہے تو جو خوشگوار تبدیلیاں گھر میں رونما ہوتی ہیں ،وہ قابلِ تحسین اور قابلِ ذکر ہیں۔مکان گھر بن جاتا ہے، رزق میں اضافہ ہوجاتا ہے اور گھر کے در و دیوار بھی کھِل کھلا اُٹھتے ہیں۔
دین ِ اسلام میں بیٹی کا بہت اعلیٰ مقام ہے کہ جب وہ بیٹی ہوتی ہے تو باپ کے لیے جنت کا دروازہ کھلواتی ہے، بیوی ہوکر شوہر کا آدھا دین مکمل کرواتی ہے، اور سبحان اللہ جب ماں بنتی ہے تو جنت اس کے قدموں تلے رکھ دی جاتی ہے۔ زمانۂ جہالت میں عورت کی کوئی قدر و منزلت نہ تھی۔ چاہے وہ بیٹی ہو، بیوی یا ماں۔۔۔ہر صورت میں عورت کو حقارت سے دیکھا جاتا تھا۔ یہ واحد دین ِ اسلام ہی ہے جس میں عورت کو ہر صورت میں عزت و تکریم سے نوازا گیا ہے۔
بیٹیاں رحمت ِقدرت کا حسین تحفہ اور عطیہ خداوندی ہوتی ہیں، ان سے گھر کا آنگن آباد ہوتا ہے، چڑیوں کی طرح چہچہاتی اور کوئلوں کی طرح کوکتی ہیں۔ ان کی چمک دھمک سے زندگی رنگین اور خوبصورت بن جاتی ہے، اِن کے آ جانے سے گویا بہار آ جاتی ہے۔ قانون قدرت ہے کہ بڑے نازوں میں پلنےے والی اِن بیٹیوں کو بیاہ کے دن دوسرے گھر بھیج دیا جاتا ہے اور پھر ُان کے جانے سے جیسے والدین کے گھر خالی رہ جاتے ہیں۔ ماں اور باپ کی انگلی پکڑ کے چلنے والی بیٹیاں بابل کی دہلیز پار کر کے پیا کی دہلیز تک پہنچ جاتی ہیں اور بیٹیوں کے جانے سے گھر ہی نہیں ،دِل بھی ویران اور سونے سونے ہو جاتے ہیں۔ملک کے نامور اور شہرت یافتہ شاعر منور رانا نے ان حسین الفاظ میں بیٹیوں کے گھر چھوڑنے کی ترجمانی کی ہیں۔؎
ایسے لگتا ہے کہ جیسے ختم میلہ ہو گیا
اُڑگئی آنگن سے چڑیاں گھر اکیلا ہو گیا
افسوس صد افسوس !کہ آج کے مسلمان زمانۂ جاہلیت کے لوگوں سے بھی آگے نکل گئے ۔ اس بچی پر باپ،شوہر اور بھائی کی طرف سے اس طرح کا ظلم ڈھایاجاتا ہے کہ وہ یہ کہنے سےمجبور ہوتی ہے کہ کاش میں تیری بیٹی نہ ہوتی ۔؎
تاریخ عرب کی پڑھی تو پتہ چلا 
بیٹی کو قتل کرنا جہالت کا نام ہیں
حالانکہ ہم سبھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ جس گھر میں بیٹی نہ ہو، اس گھر میں رحمت نہیں ہوتی ۔ اور اللّٰہ تعالی ٰ لڑکیوں پر بہت زیادہ مہربا ن ہوتا ہے ۔ لیکن جب ہم آجکل کے معاشرے کی طرف دیکھتے ہیں تو ایسے بے شمار لوگ ملتے ہیں جو اپنی بیٹوں کی کثرت پر ناز کرتے ہیں اور اپنی بیٹیوں پر افسوس کرتے ہے انہیں اللہ تعالی سے ڈرنا چاہئے ۔ غرور وتکبر کرنے کے بجائے اللّہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہئے ۔ جس نے انہیں اولاد جیسی نعمت سے نوازا ۔ لڑکایا لڑکی کی پیدائش انسان کی اپنی پسند یا ناپسند سے نہیں ہوتی بلکہ اللہ کی عطا ہوتی ہے ۔یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے ۔خدارا ! اپنی بیٹیوں کی پیدائش پر رنجیدہ مت ہوں بلکہ خوشی کا اظہار کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے گھر رحمت بھیجی ہے۔یہی بیٹیاں آپ کے لیے بیٹوں سے بڑھ کر ہوسکتی ہیں ،اگر ان کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کی جائے۔لہٰذا اپنے دلوں کو کشادہ کریں اور بیٹوں کی پیدائش کے ساتھ ساتھ بیٹیوں کی پیدائش پر بھی اپنے ربّ کا شکر ادا کریں کہ ربّ العزت نے آپ کو اولاد سے نوازا ہے۔ وہ بڑا کارساز ہے، ربّ کی دی ہوئی کوئی نعمت بندے کے لیے زحمت نہیں ہوسکتی، جب تک کہ بندے کا اس سلسلے میں اپنا کردار منفی نہ ہو۔ اسی لیے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔؎
بیٹیاں سب کے مقدر میں کہاں ہوتی ہیں
گھرخداکوجوپسند آئے وہاں ہوتی ہیں
بیٹی جب تک اپنے ماں باپ کے گھر پر ہوتی ہے تو شہزادیوں کی طرح زندگی گزارتی ہے۔ نہ اسے کوئی طعنے دیتا ہے اور نہ تکلیف پہنچاتا ہے۔ سارے گھر والے اُس سے پیار کرتے ہیں۔ لیکن جب اس بیٹی کا بیاہ کا وقت آتا ہے توبیٹی کے والدین کسی نہ کسی طرح قرض اُٹھا کر اپنی پیاری بیٹی کو دوسرے گھر رخصت کردیتے ہیں۔ ایک نئے اور دشوار گزار سفر پر، جس کے راستے میں پھول بھی ہوسکتے ہیں اور کانٹے بھی، یہ اُس کا مقدر بن جاتا ہے۔ اس کا شوہر اور اس کا سسرال اب اس کی نئی منزل بن جاتی ہے۔ جہاں اس نے ساری عمر رہنا ہے۔ ساس ،سسر، دیور اور نند کی صورت میں نئے رشتے اس کی زندگی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ جب وہ دوسرے گھرمیں پہلی رات کا سامنا کرتی ہے تو وہ رات اس کی اچھی اور پرسکون زندگی کی مانند بھی بن سکتی ہے اور نہ ختم ہونے والے دکھوں کا آغاز بھی۔اس کے مقدر میں اگر ایک نفیس اور ہمدرد جیون ساتھی لکھ دیا جائے تو جو خواب اس نے اپنے حسین مستقبل کے لئے دیکھےہوتے ہیں وہ اُن کی تعبیر پا لیتی ہے۔ بدقسمتی سے اکثر اوقات ایسا نہیں ہوتا،کبھی خواب ،خواب ہی رہتے ہیں۔ ان کی تعبیر قسمت والیوں کو ملتی ہے۔  ہمارےظالم سماج میں نہ جانے کتنے گھر ایسے ہیں، جہاں ظالم شوہر، سسر، ساس اور نند اس بیٹی اور بہو جیسے انمول رشتے کو آگ میں جلا دیتےہیں اور کہیں اس کو خودکشی پر مجبور کردیتے ہیں۔ اپنی بیٹی کو عزت اور پیار تو دیا جاتا ہے لیکن پرائی بیٹی جو بہو کے روپ میں اُس کے آنگن میں اُترتی ہے، قابل نفرت ٹھہرتی ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کی کہانی ہے۔بچے دیر سے پیدا ہوں یا لڑکی بانجھ ہو، جہیز کم لائی ہو یا سامان برینڈڈ نہ ہو۔ اس کا رنگ کیسا ہو یا قد چھوٹا ہو۔ وہ گھریلو کام کاج میں تھوڑی سی بھی کوتاہی کردے تو ساس اور نندوں کے طعنوں کا سامنا کرنا اس کا نصیب بن جاتا ہےاورحالات اس قدر بنائے جاتے ہیںکہ کہیں موت اور کہیں طلاق اس کا مقدر بنتی ہے۔
زمانے کی پست سوچ اور جاہلیت کی وجہ سے اس کا جینا حرام کر دیا جاتا ہے۔ یہاں میں نہایت معذرت کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں بسنے والے خواہ کتنے ہی پڑھے لکھے کیوں نہ ہوں۔ وہ اپنی گھریلو زندگی میں بہو کو بیٹی جیسا مقام نہیں دیتے۔ وہ محترم اخباروں میں لکھنے والےجو خواتین کے حقوق پر صفحے کے صفحے کالے کر دیتے ہیں ،ان کا اپنا حال بھی پتلا ہو سکتا ہے۔ ان کے گھر کی بہو بھی تکلیف میں ہو سکتی ہے۔ ان سب کے لئے میرا ایک سوال ہے کہ کیا وہ اپنی ذاتی زندگی میں بیٹی اور بہو کو ایک آنکھ سے دیکھتے ہیں؟ یا دونوں رشتوں کے لیے انہوں نے مختلف پیمانے یا معیار مقرر کر رکھے ہیں۔جب تک ہم سب ماں ،بیٹی، بہن اور بہو کو ایک نظر سے نہیں دیکھیں گے۔ تمام رشتوں کو برابر کی عزت اور احترام نہیں دیں گے۔ اس وقت تک انسانیت کا حق ادا نہیں ہوگا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس منفی اور زمانۂ جہالت کی سوچ کو بدلا جائے اور بیٹی کو زحمت کے بجائے رحمت سمجھا جائے اور بیٹیو ں کے ماں باپ کو بُرا نہ سمجھا جائے، کیوں کہ یہ رشتہ اللہ نے بنایا ہے اور ہمیں بھی اس کی رضا میں راضی رہناچاہیے۔
( ماندوجن شوپیان کشمیر)
<sabzarbanday27@gmail.com
 

تازہ ترین