سماجی بے راہ روی کےسدِباب کی اَشد ضرورت

وقت کی پُکار

تاریخ    20 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


حمیرا فاروق
 دنیا میں کوئی بھی انسان یا کوئی بھی مذہب ایسا نہیں ہے، جو بے حیائی اور بدکاری کو پسند کرتا ہو۔ مسلمان ہو یا کافر ، ہر کوئی اس چیز سے نفرت کرتا ہے۔ کیونکہ اس سے دنیا میں بدامنی ، بے سکونی ،فتنہ و فساد اور لڑائی جھگڑے برپا ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ ’’زنا کے قریب نہ جاؤ کیونکہ یہ کھلی ہوئی بے حیائی اور نہایت بری راہ ہے‘‘ ۔ دین اسلام مرد و زن کے اختلاط کو کبھی قبول نہیں کرتا کیونکہ اس سے سماج میں لا تعداد برائیاں جنم لیتی ہیں ۔ جب ایک انسان میں اخلاقی بگاڑ پیدا ہوجائے تو وہ اچھائی اور برائی میں تمیز کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا۔ جب انسان میں حیوانی صفت آجاتے ہیں تو پھر وہ غلط راستے اختیار کرکے اپنی خواہشات نفس کی تکمیل کرنا شروع کرتا ہے ۔ سورہ الاعراف میں بھی اللہ تعالیٰ نے بے حیائی کو حرام ٹھہرایا ہے خواہ پھر وہ کھلی ہو یا پوشیدہ ۔ 
اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ایک صالح معاشرہ بنانے کیلئے پاکیزہ اور دیندار عورت سے شادی کرنے کا حکم دیا ۔ پاکیزہ معاشرہ قائم کرنے کیلئے پاکیزگی بہت ضروری ہے۔   ۔والدین اگر غلط کاموں میں ملوث ہو تو انکے بچوں پر انکا اثر پڑے گا اور پھر قوم میں صالح اولاد کے بجائے چور ، بدکردار اور نافرمان انسان پیدا ہونگے ، اور جب ایسی نسل وجود میں آئے گی تو معاشرہ خودبہ خود بگڑ جائے گا ۔ ہم نے دیکھا کہ گزشتہ قوموں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کیا معاملہ کیا۔ کیونکہ وہ بھی اخلاقی برائیوں میں ملوث تھے، جیسے ہم قوم لوط کو کیسے اللہ نے دنیا والوں کیلئے عبرت کا نشانہ بنایا ۔ وہ ہم جنس پرستی میں مبتلا تھے ۔ انہوں نے غیر فطری طور طریقے اختیار کرکے اللہ کے احکام کو جھٹلایا، جسکی وجہ سے ان پر عذاب مسلط کر دیا گیا ۔ لہٰذا ایک انسان ہونے کے ناطے ایسا کام نہیں کرنا چاہے کہ اللہ ہم پہ ویسا ہی قہر و عذاب مسلط کردے ۔ 
جو بھی قوم بے حیائی میں ملوث رہی، وہ قوم کبھی کامیابی کی راہ پہ گامزن نہیں ہوئی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس قوم میں بے حیائی عام ہو جاتی، حتیٰ کہ اسکی تشہیر کی جائے تو جان لو اللہ تعالیٰ اس قوم میں ایسی بیماریاں نازل کر دیتا ہےجن کا انکے آباء و اجداد نے نام تک نہ سنا ہوگا ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آجکل ہم مصیبت میں پھنس گئے ہیںاورہر کوئی پریشانی میں مبتلا ہے ۔ بے حیائی کی وجہ سے آخر کار انسان کوصرف خسارہ ملتا ہے ۔ دنیا میں جو لوگ بھی بے حیائی میں ملوث رہتے ہیں تو ان سے رزق میں برکت چھین لی جاتی ہے۔ مایوسی اسکی مقدر بن جاتی اور عمر گھٹ جاتی ہے ۔ ان کا ذہن کافی پریشان رہتا ہے، وہ خوشگوار زندگی نہیں گزار پاتے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے بڑھ کر اپنی اُمت کو اخلاق حسنہ فروغ دینے کی کوشش کی ۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ مومنوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچے رکھے ۔ عام طور پر گناہوں کی شروعات نگاہ سے ہوتی ہے ۔ آج کل کی نوجوان نسل بہت بگڑ چکی ہے ۔ غلط صحبتوں نے تربیت یافتہ بچوں کی بھی زندگی بگاڈ دی ہے ۔ بچے منشیات کے نشے میںملوث ہوچکے ہیں اور پیسے کی حصولیابی کے لئے  وہ چوری اور دیگر غلط اقدام اٹھاتے ہیں ۔ اس ضمن میں اگر دیکھا جائے تو والدین اسکے ذمہ دارہیں، جو اپنے بچوں کا خیال نہیں رکھتے اور ان کی تمام سرگرمیوں پر نظر نہیں رکھتےاور نہ ان کا محاسبہ کرتے ہیں۔اس طرح وہ انسانیت کو زبردست نقصان پہنچاتے ہیں۔ اگر والدین اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دیںایک فلاحی معاشرہ وجود میں آجائے گا۔انصاف پرور اورعادل لوگ پیدا ہوں گے،جو دنیا میں امن و امان قائم کرکے نظام حق اور قانون الہٰی کے روادار ہں گے۔ ہماری قوم کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ ایک دوسرے کی اصلاح کریں ۔ایک دوسرے کے لئے ہمدرد اور شفیق  بن جائیں ۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :  تم مومنوں کو آپس میں رحم و ہمدردی کے معاملے میں ایک جسم کی طرح پاؤ گے، کہ اگر ایک عضو میں تکلیف ہو تو سارا جسم اسکی خاطر بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہوجائے ۔ لہٰذا اگر ہم بھی کسی میں کوئی عیب دیکھیں تو بحیثیت مسلمان ہمارا فرض ہے کہ اسکی اصلاح کریں اور اپنے آپ کو صحابیاتؓ جیسی مثالی شخصیت بنائیں ۔ اور نبی ؐ تو ہمارے لیے بہترین رول ماڈل ہیں،جن کے جیسا نہ کوئی تھا اور نہ کوئی ہوگا ۔ ہمیں اُنہیں کے نقش قدم پہ چل کے زندگی گزارنی چاہیے۔ 
 آجکل ٹیلی ویژن میں والدین اور انکے بچے ایک ساتھ کھلے عام بے حیائی کےمظاہرے کر رہے ہوتے ہیں ۔ سوشل میڈیا بھی بے حیائی کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کر رہا ہے۔ چھوٹوں اور بڑوں میں حیا  باقی نہیں رہی ہے اور انسان کا کردار دن بہ دن بگڑتا چلا جارہا ہے۔چنانچہ جب انسان کا کردار خراب ہوجاتا ہے تو وہ انسان نہیں حیوان بن جاتا ہے ۔ اسلام نے ہر ایک کام میں ہمارے لیے آسانی رکھی ہے۔ایک عورت ہونے کے ناطے اگر دیکھا جائے تو بھی اسلام نے ہمیں کیا مقام دیا۔ جہالت کی پستیوں سے نکال کر افضل ترین مقام دلوایا ۔ اگر ہر کوئی انسان اپنے وجود پہ غور وفکر کرے تو کوئی بھی انسان غلط اور فضول کاموں میں ملوث نہیں رہے گا۔ ہمیں اشرف المخلوقات کے درجے سے اللہ رب العزت نے نوازا ہے ۔ ہمارے اندر وہ صلاحیت رکھی ہے کہ ہر آدم کا بیٹا اور حوا کا بیٹی محفوظ و ممنون رہے گی ۔ اللہ نے ہمیں محض اس لئے پیدا نہیں کیا کہ ہم اپنی خواہشات کی تکمیل کریں بلکہ اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ میں فرماتے ہیں کہ میں نے جن و انس کو اپنی عبادت کیلے پیدا کیا ۔ لیکن افسوس کی بات ہے جہاں جہاں انسان جائے، وہاں اللہ کی نافرمانیاں ہوتی ہیں ۔ اس زمین پہ صرف یہی دو نالائق گروہ ہیں، جو اُس اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں جو ستر ماؤں سے بھی زیادہ شفیق و مہربان ہیں ۔ 
 ہمارے تعلیمی اداروں میں مخلوطی نظام ہے جو ہمارے سماج میں بےراہ روی کو بڑھاوا دینےکی وجہ بن رہی ہے ۔ اسلام نے پہلے ہی مخلوطی نظام کو ناپسند قرار دیا کیونکہ یہ انسان کے اندر اخلاقی بگاڈ پیدا کرتاہے ۔ مغرب سے آیا ہوا یہ طوفان، انسان کے اندر شرم و حیا نکال کر اسکی شخصیت کو بگاڑ کر رکھ دیتا ہے۔ علم حاصل کرنے سے کوئی روکتا نہیں، جتنی دینی تعلیم ضروری ہے اتنا ہی عصری تعلیم کا ہونا بھی ضروری ہے ۔ ہمارے سماج میں ڈاکٹروں ،انجینروں اور اساتذہ غرض ہر ایک کی ضرورت ہے ۔ لیکن اگر کوئی انسان ان مقامات پہ کوئی غلط کام کرے اور اپنے رب کو بھول جائے تو ایسی تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ جس تعلیم سے ایمان چلا جائےاور اخلاقی بگاڑ پیدا ہوجائے، اسکا کوئی فایدہ نہیں ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا مفہوم ہے کہ قیامت کی نشانی میں ہے کہ لونڈی اپنے آقا کو جنم دے گی، تو سمجھ جانا کہ قیامت شروع ہوگئی ۔ یعنی اولاد نافرمان ہوجائیں گے ۔ بیٹی اپنی ماں کے ساتھ لونڈی جیسا سلوک کرے گی ،ہمیں اپنے آپ کے اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔  
نیک اور پاکیزہ زندگی گزارنے کے لیے اصلاحی معاشرے کا ہونا لازمی ہے ۔ ایک انسان کو زندگی کے بہت سے مرحلوں میں صبر سے کام لینا چاہیے ۔ کیونکہ انسان کے ساتھ شیطان بھی رہتا ہے جو اسکو قدم قدم پہ گناہوں کی رغبت دلاتا ہے ۔ انسان کو گناہوں میں لذت اور فائدہ نظر آتا ہے لیکن آخرکار خسارے اور پشتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ اگر ایک انسان صبر کر کے اپنی خواہشات پہ قابو پائے تو وہ دنیا کا کامیاب ترین انسان ہےاور معاشرے میںایسی نسل وجود میں آئے گی جو قوم کو روشن کرکے ہی رہے گی ۔ بس اپنے نفس اور خواہشات کو قابو میں رکھنا ہوگا تب جاکے ہم اور ہماری قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہونگے ۔ایک بہترین  معاشرہ بنانے کے لیے اللہ نے نکاح کو ہمارے لیے حلال کیا ۔ لہٰذا اس بارے میں ہمیں لاپرواہی نہیں برتنی چاہئے ۔ والدین کو اس بارے میں خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ بچے بالغ ہوجائیںتو انکے نکاح کی تلاش کریںتاکہ وہ غلط کاموں میں ملوث نہ ہوجائیں ۔ لیکن افسوس معاشرے میں آج نکاح کو مہنگا اور زنا کو سستا بنا دیا گیا ۔ ایک باپ کے لیے بیٹی یا بیٹے کا نکاح کرنا اتنا مشکل ہوگیا کہ بہت سارےکچھ لوگ بغیر شادی کے رہ جاتے ہیں۔ اس چیز کے گنہگار ہم سب ہیں ،جنہوں نے ایسا معاشرہ بنا کے حلال کام کو حرام طریقوں سے فروغ دیا ۔ سماج میں بے راہ روی کو ختم کرنے کا واحد علاج وقت پر نکاح کرناہے اور اللہ سے اس بارے میں دعا کرنی چاہیے کہ اچھی زندگی ملے کیونکہ انبیاء اور رسول بھی دعا کو اپنا سہارا بناتے تھے ۔ دعا سے تقدیر بدل جاتی ہے اور آنے والی ہر مصیبت ٹل جاتی ہے ۔ ہمیں امید کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا ہے۔  اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھلے کام کرنے کی توفیق دے ۔ آمین
(آونیرہ شوپیان ۔طالبہ: جامعةالبنات سرینگر )
mirumarfarooq299@gmail.com
 

تازہ ترین