تازہ ترین

برفباری کا قہر ،اب تک 300سے زائد بجلی کھمبے تبدیل

گزشتہ دو ہفتوں میں 86 خراب ٹرانسفارمروں کی مرمت کی گئی

تاریخ    15 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


سمت بھارگو
راجوری//خراب اور نامساعد موسمی حالات بالخصوص بھاری برف باری ن راجوری ضلع میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے اور محکمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پچھلے دو ہفتوں کے دوران تین سو سے زیادہ تباہ شدہ کھمبوں کو تبدیل کیا ہے اور 86 پاور ٹرانسفارمروں کی مرمت کی ہے۔06 جنوری سے 09 جنوری تک ہونے والی شدید برف باری کے باعث بجلی کے کھمبوں اور بجلی کی ترسیلی لائنوں سمیت بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا جس کے نتیجے میں کئی علاقے گھپ اندھیر ے میں ڈوب گئے تھے ۔ایگزیکٹیو انجینئر پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (جے پی ڈی سی ایل) راجوری، ایر نروتم کمار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ برف باری میں لو ٹینشن اور ہائی ٹینشن ٹرانسمیشن لائنوں کے کھمبوں کی ایک بڑی تعداد کو نقصان پہنچا ہے اور محکمہ نے اب تک تین سو سے زیادہ کھمبوں کو تبدیل کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جمعہ کی سہ پہر کو نئے کھمبوں کی جگہ 300 کا ہندسہ عبور کر گیا اور ان کی تعداد اب بھی بڑھ رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دیہات کی سطح پر نصب گھریلو ٹرانسفارمرز کاجلنا محکمہ کو سردیوں کے موسم میں درپیش ایک اور بڑا مسئلہ ہے اور پچھلے کچھ دنوں میں خراب ٹرانسفارمرز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یکم جنوری سے اب تک محکمہ نے بجلی کے 86 ٹرانسفارمرز کی مرمت کی ہے اور کام ابھی بھی جاری ہے۔
 
 

بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کی کوششیں :انتظامیہ 

سمت بھارگو 
راجوری//ضلع انتظامیہ راجوری نے ضلع میں پاور سیکٹر کو مضبوط کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے جمعہ کو راجوری کے تھوڈی ریسیونگ اسٹیشن پر 6.3 ایم وی اے صلاحیت کا ایک اضافی ٹرانسفارمرنصب کیاہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ راجوری قصبہ کو بجلی کی سپلائی پہلے 10 ایم وی اے کی صلاحیت کے فیڈر سے فراہم کی جاتی تھی لیکن بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب سے فیڈر پر بوجھ بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے قصبے میں جبری کٹوتی کی جارہی تھی ۔جاری ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی غیر مقررہ کٹوتی کی وجہ سے عوام کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا لیکن اب اس نئے ٹرانسفارمر کے لگنے سے مرکزی راجوری قصبہ کے لوگوں کی مشکلات میں کافی حد تک کمی آئے گی کیونکہ یہ کٹوتی اب کم مدت کی ہوگی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری وکاس کنڈل  کی قیادت میں انتظامیہ عام لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے و ضلع کی بجلی کی طلب کو پورا کرنے کیلئے موثر اقدامات کر رہی ہے اور مستقبل قریب میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑھانے کیلئے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈی ڈی سی راجوری وکاس کنڈل نے ضلع میں بجلی کے منظر نامے کا جائزہ لیا ہے اور ضلع میں بجلی کے منظر نامے کے سلسلے میں متعدد ہدایات جاری کی ہیں۔ڈی ڈی سی نے قصبہ میں 6 عدد مختلف صلاحیت والے ٹرانسفارمر لگانے کی بھی ہدایت دی ہے اور پی ڈی ڈی حکام کو ہدایت دی ہے کہ اس 6.3 ایم وی اے ٹرانسفارمر کو جلد سے جلد شروع کیا جائے اور اس سے مرکزی قصبہ راجوری کے بجلی کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔
 
 

کوٹرنکہ کے دیہات میں بجلی نظام تباہی کا شکار 

مرکزی حکومت کی چلائی گئی سکیمیں بے سود ثابت 

محمد بشارت
کوٹرنکہ //سب ڈویژن کوٹرنکہ کے دیہات میں محکمہ بجلی کا حال بے حال ہو تا جارہا ہے جس کی وجہ سے صارفین کی مشکلات ہر گزرتے دن بڑھتی جارہی ہیں ۔سب ڈویژن کے اکثر دیہات میں 80فیصد سے زائد کا ترسیلی نظام لکڑی کے کھمبوں و سبز درختوں کی مدد سے ہی بحال رکھا گیا ہے تاہم موسم خراب ہوتے ہی مذکورہ نظام تباہ ہو جاتا ہے ۔گزشتہ دنوں پہاڑی علاقوں میں ہوئی شدید برفباری کی وجہ سے درجنوں دیہات میں ترسیلی لائنوں کیساتھ ساتھ لکڑی کے کھمبے بھی ٹوٹ گئے ہیں جس کی وجہ سے بجلی منقطع ہو چکی ہے ۔صارفین نے بتایا کہ دیہات میں بجلی کی فراہمی میں سبز درختوں اور لکڑی کے کھمبوں کا ایک اہم رول ہے جبکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مرکزی حکومت کی جانب سے کئی سکیمیں شروع کی جارہی ہیں جن کی مدد سے بجلیکے نظام کو جدید بنانے کی نعرے لگائے جارہے ہیں لیکن کوٹرنکہ سب ڈویژن کی عوام کیلئے مذکورہ سکیمیں بے سود ثابت ہورہی ہیں ۔مکینوں و پنچایتی اراکین نے بتایا کہ کوٹرنکہ کی پنچایتوں و تحصیلوں میں ہوئی والی عوامی اجلاس کے دوران بھی بجلی نظام کو درست کرنے کیلئے معاملات اٹھائے گئے ہیں لیکن صرف یقین دہانیوں سے ہی آفیسر ان عوام کو ٹال رہے ہیں جبکہ زمینی سطح پر نظام کر بہتر بنانے کی جانب دھیان ہی نہیں دیاجارہا ہے ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی سکیموں کی عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے متعلقہ محکمہ کو متحرک کیا جائے جبکہ صارفین کو بجلی کی معیاری سپلائی فراہم کروائی جائے ۔
 
 

مینڈھر کے پنجنی علاقہ میں 20دنوں سے بجلی بند 

جاوید اقبال 
مینڈھر //سب ڈویژن مینڈھر کے سرحدی علاقہ پنجنی کی متعدد وارڈوں میں گزشتہ 20دنوں سے بجلی سپلائی بند ہوئی ہے لیکن ابھی تک محکمہ کے ملازمین نے سپلائی کو بحال کرنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی ۔صارفین نے بتایا کہ پنچایت دھراٹی کے پنجنی علاقہ کی وارڈ نمبر 5اور 6کا بجلی ٹرانسفارمر 20روز قبل خراب ہو گیا تھا لیکن کئی بار ملازمین و آفیسران سے رجوع کرنے کے بعد بھی اس کی مرمت ہی نہیں کی جارہی ہے ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ملازمین ڈیوٹی پر حاضری ہی نہیں ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے بجلی کا بنیادی ڈھانچہ ہی خستہ حال ہو نا شروع ہو گیا ہے ۔صارفین نے بتایا کہ کئی دنوں سے ان کے موبائل فون بھی بند پڑے ہوئے ہیں اور وہ آفیسران ،ملازمین و ضلع انتظامیہ کے دیگر آفیسران سے بھی مشکلات کے سلسلہ میں رابطہ قائم نہیں کر پارہے ہیں ۔غور طلب ہے کہ مذکورہ علاقہ صفر لائن پر آباد ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کی دقتیں مزید بڑھ گئی ہیں ۔لوگوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ جلداز جلد ٹرانسفارمر ٹھیک کروایا جائے ۔
 
 

ٹرانسفارمروں کی مرمت 

ورکشاپوں پر 24گھنٹوں کام جاری :محکمہ 

سمت بھارگو
راجوری// جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (جے پی ڈی سی ایل) کی انتظامیہ اور راجوری انتظامیہ نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ محکمہ کی افرادی قوت نے بجلی کے بحران کے سلسلے میں عام لوگوں کی مشکلات کو کم کرنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے ہوئے ہیں۔محکمہ کے افسران کا کہنا تھا کہ موسم سرما کے دنوں میں سب سے بڑا مسئلہ بجلی کے نظام پر اوورلوڈ کا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف محکمہ کو غیر طے شدہ کٹوتی پر مجبور کیا جاتا ہے بلکہ بجلی کے گھریلو ٹرانسفارمرز کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔حکام نے بتایا کہ ’’ہمارے پاس راجوری میں ایک ٹرانسفارمر کی مرمت کا ورکشاپ ہے جہاں ضلع کے مختلف علاقوں کے ٹرانسفارمروں کو خراب ہونے کے بعد مرمت کیا جاتا ہے‘‘۔محکمہ کے اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر منوج کمار نے کہا کہ ورکشاپ کی افرادی قوت تمام سخت حالات کا مقابلہ کر رہی ہے اور دن رات کے اوقات میں کام کر رہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ  گزشتہ دو ہفتوں سے ورکشاپ کو 24 گھنٹوںجاری رکھا گیا ہے ۔