تازہ ترین

مہنگائی وناجائز منافع خوری اور انتظامیہ؟

تاریخ    15 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


  عوام کا ہر گزرتا دن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میںمسلسل اضافے سے مشکل سے مشکل تر بنتا جارہا ہے ۔اشیائے ضروریہ اور روزمرہ کے استعمال کی اشیا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جارہی ہے۔دنیا کو درپیش معاشی بحران اور انحطاط کی وجہ سے پہلے ہی معاشی ترقی کی رفتار بُری طرح متاثر ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے بے شمار لوگ روز گار سے محروم ہوگئے ہیں اور کئی پرائیویٹ کمپنیوں ،کارخانوں اور اداروں میں تنخواہوں اور اُجرتوں میں کٹوتی کی گئی جبکہ عام آدمی کی آمدنی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہی ہے ۔غذائی اجناس کی قیمتوں میں مسلسل بڑھوتری سے ایسا لگتا ہے کہ ان قیمتوں پر قابو پانے کی انتظامیہ میں کوئی سکت نہیں،اس لئے اس تعلق سے سرکار زیادہ فکر مند بھی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔جموں وکشمیرکےعوام کو اِس وقت جس بےلگام اور کمر توڑ مہنگائی کا سامنا ہے اُس کا شائد گورنر انتظامیہ کو بھی ادراک ہو،لیکن اس حوالے سے مجاز حکام کو اس پر قابو پانے کے لئےکوئی مؤثر ہدایت نامہ جاری نہیں کیا کیاہے۔موجودہ وبائی قہر کے دوران وادی ٔ کشمیر میں روز مرہ استعمال ہونے والی ضروری چیزوں کی قیمتوں میں بدستور اضافے سے پوری آبادی پریشان ہے۔ عرصہ دراز سے جاری اس بحران بھی کو ٹالنےکی ہزار کوششوں کے باوجود یہ ٹلنے کا نام نہیں لے رہا، ذخیرہ اندوز اور اسمگلنگ مافیا پوری طرح سرگرم ہے۔ کیونکہ ان کے خلاف آج تک کوئی بھی فیصلہ کن مہم شروع نہیں کی گئی ہیں۔ یہاں یہ بات ایک سوالیہ نشان ہے کہ مقامی فصلوں سمیت درآمد کی جانے والی اشیاکی مجموعی مقدار طلب کے مقابلے میں کم نہیں ،پھر بھی یہ کہاں جا رہی ہیں کہ مارکیٹ میںاس کی قیمتیںدوگنی یا تِگنی ہو چکی ہیںاورپھر بھی اشیائے ضروریہ کی فروختگی سے وابستہ ہر چھوٹابڑاکاروباری ،تاجر ،دکاندار ،یہاں تک کہ ریڑہ بان بھی ناشکراں ہیں۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ یہاں کے معاشرے میں ایمانداری ،حق پرستی اور انصاف کا فقدان ہے،جس کے نتیجہ میں عام لوگوں کے مسائل میں دن بہ دن اضافہ ہوتا رہتا ہے۔سچائی یہ بھی ہے کہ وادیٔ کشمیر میں ایک طویل عرصہ سے نامساعد حالات کے ساتھ ساتھ لمبے لمبے لاک ڈاون اور پھر کرونائی قہر سےمعاشرے کا ہر فرد بُری طرح متاثر تو ہوچکا ہے ، لیکن حیرت کا مقام ہے کہ اس حقیقت کو جانتے ہوئے بھی ہمارے معاشرے کے بعض افراد ایک دوسرے کو ٹھگنے اور لوٹنے میں مصروف ہیںاوراپنے غلط طرز ِعمل کو جاری رکھ کر اخلاقی و ذہنی پستی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔یہاں یہ بات بھی نمایاں ہے کہ جہاں سرکاری انتظامیہ میں بدنظمی ،نااہلی اور کئیںکئیںکورپشن اور بدعنوانیاں ہوں ،وہاں معاشرے کےمختلف طبقوں، جسمیں چھوٹے بڑے تجار بھی شامل ہیں ، کے کچھ حلقے ناجائز منافع خوری اور خود غرضی کے دلدل کے دِلدادہ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور یونین ٹرییٹریز بنانے کے بعد بھی مہنگائی کے جِن کو قابو کرنے کی کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی جاسکی ہے۔اگرچہ جموں و کشمیر کو یونین ٹریٹری بنانے کے لئےلوگوں کی ترقی ،خوشحالی اور بہتری اور سہولت کی فراہمی کے نعرے اور دعوے کئے گئے تھےلیکن تا حال یہ سبھی نعرے کھوکھلے ثابت ہورہے ہیں۔ کرونا وائرس کی اس وبائی فضا میں بھی عام لوگوں کو ابھی تک ایسی کوئی سہولت یا بنیادی ضرورت فراہم نہیں ہوپارہی ہے جس کے اثرات اُن کی زندگی پر مرتب ہوئے ہوں،اُن کی زندگی میں ایسی کوئی بہتری نہیں لائی جاسکی جس کا تذکرہ کیا جاسکے۔جبکہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خور مافیا ایک طاقتور شکل اختیار کرچکا ہے۔جس کا  عام حربہ ذخیرہ اندوزی کے ذریعے اشیائے صرف کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ان کی قیمتیں بڑھانا ہوتا ہے۔ اس وقت اس صورتحال کی زد میں بہت سی ادویات بھی آرہی ہیں خصوصاً رجسٹرڈ کمپنیوں کی وہ ادویات جو پہلےہی بہت مہنگی ہیں اور عام بیماریوں کے لئے لازمی ہوتی ہیں، ان کی مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کر کے من مانی قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے جبکہ ڈپلی کیٹ ادویات کی اچھے داموں میں حصولیابی کی بہتات ہے ۔ ذخیرہ اندوزی،ناجائز منافع خوری اور اسمگلنگ کے خلاف اگرچہ سخت قوانین موجود ہیں لیکن عملی طور پر انکا نفاذ نہیں ہوتا۔ جسکی کی وجہ سے یہ سارے کام کھلے عام ہو رہے ہیں اورغریب عوام کو ان عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑدیا گیا ہے۔اشیائے ضروریہ ،خاص طور پر کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ ساتھ ادویات کی قیمتوں میں کئی سو گنا اضافہ کرنے کا فائیدہ کن کی جیبوں میں جا رہا ہے، یہ بھی انتظامیہ ہی کو معلوم ہوگا؟غریب آدمی کے لئے پہلے دو وقت کی روٹی کھانی مشکل ہو رہی تھی اب تو ایک وقت کی روٹی بھی نا ممکن ہوتی جا رہی ہےاور یہ سب اُن عام لوگوں کے ساتھ ہو رہا ہے جن کی 65فیصد تعداد خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ سفید پوش لوگ تو چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں۔ انتظامیہ اگر فوری طور پر مہنگائی اور ناجائز منافع خوری پر قابو پانے اور کنٹرول کے کے اقدامات نہیں کرتی ہے تو پھر غریب طبقہ کے لئے جینا مزید دوبھر ہوجائے گا۔