تازہ ترین

ایرانی سیبوں پر فوری طور پابندی لگائی جائے

مرکز مقامی پیدوار بچائے، خاموشی اختیار نہ کرے:فروٹ گروورس

تاریخ    13 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر //ایرانی سیبوں کی ملک کی منڈیوں میں درآمد پر روک لگانے کے معاملہ پر جموں وکشمیر حکام کی جانب سے مرکزی سرکار کو بھیجے گئے مکتوب کے باوجود بھی اس پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں جموں وکشمیر کے فروٹ گروورمرکز سے نالاں ہیں ۔ میوہ کاشتکاروں نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیرون ممالک سے آنے والے سیبوں کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کرے تاکہ کسانوں کو نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ کشمیر ویلی فروٹ گروورس وڈیلرز ایسوسی ایشن اور نیو کشمیر فروٹ ایسوسی ایشن کے صدر بشیر احمد بشیر نے سرینگر کے پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ایرانی سیب کی سپلائی نے کشمیری سیب کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ بشیر احمد بشیر نے کہا کہ ایرانی سیبوں کی منڈیوں میں دستیابی کے سبب کشمیر ی سیب کی مانگ کافی کم ہو گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں اس سے قبل کشمیر سیب فی ڈبہ کی قیمت 12سو روپے تھی وہ کم ہو کر 600روپے ہو گئی ہے اور قیمتوں میں 50فیصد کی کمی ہوئی ہے ۔بشیر احمد نے کہا کاشتکاروں کو سیب کا ایک ڈبہ تیار کرنے میں 600روپے سے زیادہ کی لاگت آتی ہے ، اس کے علاوہ فی ڈبہ300روپے ٹرانسپورٹ کا کرایہ الگ ہے۔انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی 12 فیصد سے بڑھ کر 18 فیصد ہو گیا ہے، اب ایک کاشتکار اپنی پیداوار کو اتنے کم نرخوں پر کیسے بیچ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس تعلق سے مرکزی سرکار کو متعدد بار آگاہ کیا گیا لیکن اس سنگین مسئلہ کی جانب کوئی بھی توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن نے مرکزی وزیر زراعت سے بھی ملاقات کی لیکن انہوں نے سپلائی روکنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی۔ انکا کہنا تھا کہ وزیر اعظم، اور لیفٹیننٹ گورنر کے دفاتر کو خطوط لکھے گئے، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا‘‘۔ انہوں نے مرکزی سرکار سے سوال کیا کہ اگر وزیر اعظم میک ان انڈیا کا نعرہ لگاتے ہیں تو پھر ہم باہر سے میوہ کیوں درآمد کر رہے ہیںجبکہ ہمارے پاس اچھی خاصیت کا میوہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ باغبانی شعبہ جموں وکشمیر کیلئے ریڈھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے اور حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ اس کی حفاظت کی جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ اس شعبہ کے ساتھ تقریباً 70 سے 80 فیصد آبادی وابستہ ہے اور اس سے اپنی روزی روٹی کما رہی ہے۔بشیر احمد بشیر نے کہا کہ ایرانی سیبوں پر ٹیکس لگنا چاہئے کیونکہ ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ ایران میں فی کلو سیب کی قیمت 20روپے ہے اور یہ سیب یہاں کے سی اے سٹوروں میں بھیجے جاتے ہیں ۔انہوں نے مرکزی سرکار سے اپیل کی ہے کہ وہ ایران سے درآمد ہونے والے سیبوں پر پابندی لگائیں اور مارکیٹ سے ان سیبوں کو  اٹھایا جائے تاکہ یہاں کی مقامی پیداوار کو بچایا جاسکے۔معلوم رہے کہ ایرانی سیبوں کے معاملے پر نیشنل کانفرنس نے بھی مرکزی اور ریاستی سرکار کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ انہوں نے اس تعلق سے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جبکہ جموں وکشمیر حکام نے مرکزی سرکار کو اس حوالے سے ایک خط بھی روانہ کیا ہے ۔5جنوری 2022کو محکمہ باغبانی کے پرنسپل سکریٹری نے ایک خطہ زیر نمبر Dhk/pur/2021/5314.16مرکزی سرکار کو روانہ کیا جس میں کہا گیا ہے کہ  بہت سارے تاجر غیر قانونی طریقے سے ایران کے سیبوں کو غیر قانونی طور پر فروخت کر رہے ہیں،لہٰذا اس پر مکمل طور پابندی عائد کی جائے ۔خطہ میں لکھا گیا ہے کہ مرکزی سرکار کو پابندی کا یہ فیصلہ جموں وکشمیر اور ہماچل پردیش کے سیبوں کو بچانے کیلئے لینا چاہئے ۔خطہ میں لکھا گیا ہے کہ ایسا ہونے سے سیب کی گھریلو صنعت متاثر ہو سکتی ہے ۔
 

تازہ ترین