تازہ ترین

وزیر اعظم کی حفاظت میں کوتاہی | تحقیقات کیلئے سابق جج اندو ملہوترا انکوائری کمیٹی چیئرمین مقرر

تاریخ    13 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


یو این آئی
نئی دہلی// سپریم کورٹ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ پنجاب کے دوران سیکورٹی میں مبینہ کوتاہی کی جانچ کے لیے بدھ کو سپریم کورٹ کی سابق جج اندو ملہوترا کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی۔چیف جسٹس این وی رمن ، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی بنچ نے پیر کو این جی او 'لائرز وائس' کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہاتھا کہ وہ ہائی کورٹ کے سابق جج کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی انکوائری کرنا چاہتی ہے ۔بنچ نے کہا کہ وزیر اعظم کی سیکورٹی میں کوتاہی سے متعلق حساس معاملے کو مرکزی یا ریاستی حکومتوں کی طرف سے یکطرفہ تحقیقات کے لیے نہیں چھوڑا جا سکتا۔ عدالتی شعبہ میں تربیت یافتہ شخص اس معاملہ کی تحقیقات کرے ۔عدالت عظمیٰ کی بنچ نے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے ) کے ڈی جی یا اس کی نامزد اتھارٹی، قومی خطہ چنڈی گڑھ کے ڈی جی پی، پنجاب کے ڈی جی پی کے علاوہ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کو ممبرز کے طور پر مقرر کیا۔ اس کمیٹی کی سربراہی جسٹس ملہوترا کریں گی۔چیف جسٹس نے کہا‘‘ہم جسٹس اندو ملہوتراکی قیادت میں ڈی جی این آئی اے ، ڈی جی سیکورٹی پنجاب اور رجسٹرار جنرل پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کی ایک کمیٹی مقرر کرتے ہیں۔’’سماعت کے دوران چیف جسٹس این وی رمن نے جسٹس ملہوترا کمیٹی سے درخواست کی کہ وہ جلد از جلد اپنی انکوائری رپورٹ پیش کرے ۔سپریم کورٹ نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کو سپریم کورٹ کے حکم پر جمع کی گئی تمام تفصیلات اور دستاویزات انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔ عدالت نے واضح کیا کہ مرکزی اور پنجاب حکومتوں کی تشکیل کردہ انکوائری کمیٹیوں کی کارروائی پر روک برقرار رہے گی۔خیال رہے پیر کو این جی او 'لائرز وائس' کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ کے سابق جج کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیاتھا۔بنچ نے یہ فیصلہ عرضی گزار، مرکزی حکومت اور پنجاب حکومت کے دلائل سننے کے بعد لیا۔درخواست میں مستقبل میں وزیر اعظم کی ‘سیکیورٹی لیپس' کی تکرار سے بچنے کے لیے پورے واقعہ کی‘موثر اور پیشہ ورانہ’ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ بھٹنڈہ کے ضلع جج کو سیکورٹی کی خلاف ورزی سے متعلق تمام ریکارڈ اپنے قبضے میں لینے کی ہدایت دے ۔