تازہ ترین

دورافتادہ اورسرحدی علاقے ہنوذ منقطع | عوام کو راحت پہنچانے کیلئے بروقت اقدامات کی ضرورت :ساگر

تاریخ    12 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری حاجی علی محمد ساگر نے کہاکہ برفباری کے بعد اب بھی بہت سارے علاقے کٹے ہوئے ہیں اور بجلی و پینے کے پانی کی سپلائی کے علاوہ دیگر لازمی خدمات بحال نہیں ہوپائے ہیں۔ انہوںدونوں صوبوں کی ڈویژنل انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ برفباری کے نتیجے میں منقطع ہوئے علاقوں اور دیہات کے ساتھ سڑک روابط بحال کرنے کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کریں کیونکہ ایسے علاقوں میں لوگوںکو زبردست اور گوناگوں مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹنگڈار، کیرن، کرناہ، گریز، ٹیٹوال، والٹینگو، جنوبی کشمیر، خطہ چناب اور پیرنچال کے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میںلوگ گھروں میںمحصور ہوکر رہ گئے ہیں اور لازمی خدمات کیلئے ترس رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں مریضوں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے اور مقامی ہسپتالوں میں ڈاکٹر بھی دستیاب بھی نہیں۔ انہوں نے صوبائی کمشنروں اور ضلع ترقیاتی کمشنروں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی طور پر عوام کی راحت رسانی کے اقدامات کی نگرانی کریں اور سرحدی علاقوں میں متعلقہ انتظامیہ اور فیلڈ سٹاف کو متحرک کریں اور ساتھ ہی ان علاقوں میں غذائی اجناس اور ادویات کا وافر سٹاک پہنچایا جائے جو ابھی تک کٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے محکمہ بجلی کے حکام سے بھی اپیل کی کہ وہ جنگی بنیادوں ایسے علاقوں میں بجلی کی مکمل سپلائی بحال کریں جہاں برفباری سے ترسیلی لائینوں کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے بجلی حکام پر زور دیا کہ وہ بجلی کی بحال کیلئے کام کررہے عملے کی حفاظت کیلئے فیلڈ سٹاف کو ضروری ساز و سامان میسر رکھیں تاکہ انسانی جانوں کا زیاں نہ ہو۔ ساگر نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اُن لوگوں کی بازآبادکاری کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جن کے رہائشی مکانات بھاری برفباری کی وجہ سے ناقابل رہائش ہوگئے ہیں۔