تازہ ترین

قازقستان میںپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر احتجاج جاری

فوج کو مظاہرین پر گولیاں چلانے کا حکم،ہلاکتوں کی تعداد د 46 ہوگئی

تاریخ    8 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


نورسلطان// قازقستان میں پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کیخلاف ہونے والے پ±رتشدد مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 46 ہوگئی ہے جب کہ قازق صدر نے فوج کو بغیر خبردار کیے مظاہرین پر گولی چلانے کی اجازت دیدی۔ قازقستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر 2 جنوری سے ہونے والے پ±رتشدد مظاہروں کے بعد حکومت مستعفی ہوگئی تھی اور صدر نے ہنگاموں سے متاثر ہونے والے دو شہروں میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی۔الماتی اور مینگسو میں ایمرجنسی کے نفاذ اور رات کے کرفیو کے باوجود تاحال حالات کشیدہ ہیں۔ ان شہروں میں صدر صدر قاسم جومارت توقایف نے فوج کو حکم دیا ہے کہ مظاہرین پر وارننگ دیئے بغیر گولی چلائیں۔تاحال مجموعی طور پر 46 ہلاکتیں ہوچکی ہیں جن میں 28 شہری اور 18 پولیس اہلکار شامل ہیں جب کی سیکڑوں زخمی ہیں اور 3 ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔قازق صدر قاسم الماروت نے حالات قابو میں ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ قانون اور حکومتی احکامات کو توڑنے والوں کیخلاف آپریشن کا آغاز کردیا ہے جس میں اب تک 18 پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے دوسری جانب وزات داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی جوابی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے 28 افراد شہری نہیں بلکہ دہشت گرد تھے۔