تازہ ترین

شہسوارِراہِ وفا۔۔۔

حضرت عثمان بن عفانؓ

تاریخ    7 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


شہنواز مصطفوی
 
فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے مطابق تمام صحابہ کرام عادل ستاروں کی مانند ہیں اور اہل زمین کے لئے باعث امان ونجات ہیں مگر جملہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھما میں خلفائے راشدین کو جو مقام و مرتبہ حاصل ہے وہ مقام ومرتبہ ہی ان نفوس قدسیہ کی ایمانی فضیلت اور ذات مصطفیٰؐ سے غیر معمولی وابستگی کی دلیل ہے۔ ان نفوس قدسیہ نے اپنے احساس ذمہ داری ،فلاح وبہبود عامہ ،تبلیغ اسلام اور انتہائی کٹھن وقت میں اپنے صبر واستقامت کی بدولت یہ ثابت کردیا کہ ان کا انتخاب حق اور شوکت وغلبہ دین کے باعث تھا، ان میں سے ہر ایک کی شخصیت آسمان رشد و ہدایت پر جگمگاتےہوئے ستاروں کی سی حیثیت رکھتی ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے فیضان صحبت اور تعلیم وتربیت کی بدولت صحابہ کرام ؓ اشاعت اسلام کے اولین داعی اور راہ حق میں استقامت و ثابت قدمی کے پہاڑ بن گئے۔ انہوں نے غلبہ دین حق اور اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے ایسی فقیدالمثال قربانیاں پیش کیں کہ ان کا انفرادی واجتماعی کردار تا قیامت امت مسلمہ کے لئے مشعل راہ بن گیا ۔ان ہی نفوس قدسیہ میں ایک شخصیت کا اسم گرامی خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی ؓ ہے۔
حضرت عثمان بن عفان ؓ کے خادم حضرت مسلم ابو سعیدسے روایت ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے بیس غلاموں کو آزاد کیا اور ایک پاجامہ منگوایا اور اسے زیب تن کرلیا، اسے آپ نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں کبھی پہنا تھا اور نہ ہی زمانہ اسلام میں، پھر انہوں نے بیان کیا کہ میں نے گزشتہ رات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے اور آپ کے ساتھ ابو بکرؓ اور عمر ؓ بھی ہیں، ان سب نے مجھے کہا ہے کہ ائے عثمان! صبر کرو پس بے شک تم کل افطاری ہمارے پاس کروگے پھر آپ نے مصحف منگوایا اور اس کو اپنے سامنے کھول کر تلاوت فرمانے لگے اور اسی اثناء میں آپ کو شہید کردیا گیا ۔اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے حضرت عثمان ؓ کو اپنی طرف  سےبلاوا بھیجا، جب وہ آئے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی طرف بڑھے اور آپ نے ان کے ساتھ جو آخری کلام فرمایا :وہ یہ تھا ۔ائے عثمان بے شک اللہ تعالی تمہیں خلافت کی قمیص پہنائے گا ،اگر منافقین اس کواتارنے کا ارادہ کریں تو از کو ہرگز نہ اتارنا، یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو۔ پس آپ نے تین مرتبہ ایسا فرمایا اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا
حضرت عثمان بن عفان ؓ ایک مالدار اور با حیاء شخصیت تھے، جنہوں نے اسلامی تحریک کو اس وقت اپنا مال پیش کیا، جب اس کی اشد ضرورت تھی۔ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی حضرت عثمان غنیؓ سے بے حد محبت تھی۔ حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت نبی اکرم ﷺ سے پوچھا :کیا جنت میں بجلی ہوگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا :ہاں! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، بے شک عثمان جب جنت میں منتقل ہوگا تو پوری جنت اس کی وجہ سے چمک اٹھے گی (حاکم المستدرک) حضرت عثمان غنیؓ کی خصوصیت میں سے یہ بھی ہے کہ حضور نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا فرمان عالی شان ہے کہ ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرا رفیق عثمان ؓ ہے۔ اس روایت کو امام ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
کون عثمان غنی ؓ جس نے مسلمانوں کے لئے اس وقت اپنے مال سے ایک کنواں خریدکر وقف کردیا، جب مسلمان پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترس رہے تھے، یہ وہ عظیم شخصیت ہے جنہوں نے حضورﷺ کے ایک ایک فرمان پر لبیک کہتےہوئے اپنی دولت اس وقت اسلام اور بانی اسلام حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی عزت اور ناموس کی حفاظت کے لئے نچھاور کردی، جب تحریک اسلامیہ داخلی اور خارجی سازشوں کی شکار تھی۔
حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی بارگاہ میں حضرت عثمان ؓ کا ذکر کیا گیا۔ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا: وہ تو نور والے ہیں۔ عرض کیا گیا نور سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا نور سے مراد آسمانوں اور جنتوں کا آفتاب ہے اور یہ نور جنتی حوروں کو بھی شرماتا ہے اور میں نے اس نور یعنی عثمان بن عفان سے اپنی صاحبزادی کا نکاح کیاہے ۔بس اس وجہ سے اللہ تعالی نے عالم ملائکہ میں ان کا نام ذاالنور( نور والا) رکھا ہے اور جنتوں میں ذاالنورین( دونوروالا)رکھا ہے۔ اس روایت کو ابن عساکر نے فی تاریخ دمشق الکبیر میں بیان کیا ہے۔
 امیرالمومنین حضرت سیدنا عثمان غنیؓ داماد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خلافت 24 ہجری سے 35 ہجری تک تقریبًا بارہ سال پر مشتمل رہی اور وسعت خلافت تقریبًا 44 لاکھ 46 ہزار مربع میل تھی ۔آپ کے دور خلافت میں مشرق وسطیٰ ،مشرق ادنی،اور افریقہ کی مہمیں خلافت اسلامیہ کے شاندار ماضی کی عکاسی کرتی ہیں ۔حرم کعبہ کی توسیع اور مسجد نبوی کی از سر نو تعمیر اور ترتیب قرآن جیسے عظیم کام آپ ہی کے دور خلافت کی دین ہے۔ مگر بدقسمتی سے دشمنان اسلام کی مکاریوں اور عیاریوں سے اسلام کو ہمیشہ کی طرح اس وقت بہت بڑے نقصان سے دوچارہونا پڑا ،جب حضرت عثمان غنیؓ کو منافقوں اور باغیوں نے 18 ذالحجہ 35 ہجری کو شہادت کے مرتبے پر فائز کردیا اور ملت اسلامیہ پھر سے ایک بار داخلی اور خارجی شازشوں کا شکارہوگئی ۔بلوائیوں نے نہ صرف آپ کو شہید کیا بلکہ آپ کے جنازے پر سنگ باراں کر کے آپ کے جنازے کو بھی منتشر کرنے کی کوشش کی ۔وہ عثمان ؓ جن کو رسول اللہؐ جنت کی بشارت دے، وہ عثما نؓ جس کی عظیم ذات اور جس کا پاک مال ہمیشہ ہمیشہ اسلام اور بانی اسلام کی ناموس کی پہرے داری میں پیش پیش رہا اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی رضا کی خاطر اپنی جان کا نظرانہ پیش کیا۔
tousifeqbal555@gmail.com

تازہ ترین