تازہ ترین

پاگل

کہانی

تاریخ    2 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


طارق شبنم
’’ اٹینشن ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
دفعتاً لالچوک میں آواز گونجی اور شہزاد اپنے خاص انداز میں چھڑی ہوا میں لہراتے ہوئے نمودار ہوا ۔بازار کے سیٹھ اور ان کی دکانوں میں کام کرنے والے مزدور حیران ہو کر سڑک کی طرف دیکھتے ہوئے آپس میں باتیں کرنے لگے ۔کچھ سیٹھوں نے اپنے نوکروں کو ہدایات دیں کہ کہیں یہ پاگل ان کی دکان کی طرٖٖ ف نہ بڑھے۔بازار کے اکثر دکاندار اس کو اپنی دکانوں پر چڑھنے سے سختی سے روکتے تھے حالانکہ وہ کبھی کسی سے ایک آنے کا بھی تکازا نہیں کرتا تھا ۔ ان کا یہ رویہ دیکھ کر شہزاد بھی اب خال خال ہی کسی دکان کا رخ کرتا تھا۔ خاص بات یہ تھی کہ لالچوک کو آج نئی نویلی دلہن کی طرح سجایا گیا تھا ، یہاں خوب گہما گہمی تھی کیوں کہ آج یہاں کسی سیاسی پارٹی کا جلسہ منعقد ہونے والا تھا اور اتفاق سے شہزاد بھی آج ایک لمبے وقفے کے بعد اچانک یہاں نمودار ہوا تھا ۔
’’ اٹینشن ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
ایک بار پھر فلک شگاف نعرہ سنائی دیا اورسورج کی شفاف کرنوں میں جگمگاتی لالچوک کی اونچی عمارتیں گونج اٹھیں ۔ اس بار شہزاد نے چھڑی ہوا میں لہراتے ہوئے اپنی من پسند جگہ میو نسپلٹی کے باغ کا رخ کیا ۔جہاں اس کو کوئی نہیں ٹوکتا تھا ،سب اس کی باتیں توجہ سے سنتے تھے اور کبھی کوئی سوال نہیں کرتے تھے ۔ لیکن چند قدم چلتے ہی اس کی نظر لالچوک کی پارک ،جہاںجلسہ ہونے والا تھا ،میں بنے ا سٹیج پر پڑی جس کے ارد گرد لوگوں کا ہجوم موجود تھا  ۔شہزاد کے قدم بھی خود بہ خود پارک کی طرف اٹھے لیکن وہاں حفاظت پر معمور اہلکاروں نے اس سے جلسہ گاہ کے اندر جانے سے روک دیا اور وہ کچھ دوری پر فٹ پاتھ پہ بیٹھے سگریٹ کو شعلہ دکھا کر پارک میں بنے سٹیج کی طرف تکتے ہوئے گہری سوچوں میں ڈوب گیا۔۔۔۔۔۔
شہزاد تیس سال کی عمر کا چوڑا چکلا اعلیٰ تعلیم یافتہ با اخلاق جوان تھا جس نے بچپن سے ہی غربت اور دکھوں کے سوا کچھ نہیں دیکھا تھا ، یہاں تک کہ اس کا والد اس کو پڑھانے کی بھی استطاعت نہیں رکھتا تھا لیکن اس نے ہمت کرکے محنت مزدوری کے علاوہ اپنی کچھ زرعی زمین بیچ کر شہزاد کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کیا ۔تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد غربت کا مارا شہزاد  روز گار کی تلاش میں در در بھٹکنے لگا ۔ کئی سالوں وتک دفاتروں کی خاک چھاننے کے با وجود اس کو کچھ حاصل نہیں ہوا کیوں کہ اس کے پاس کوئی سفارش تھی نہ رشوت کی نیلام گاہ میں نوکری خریدنے کی استطاعت ۔ تنگ آکرایک دن وہ اپنی رئوداد لے کر اپنے علاقے کے ایک سیاسی لیڈر کے دروازے پر پہنچ گیا ۔لیڈر نے اس کا پر جوش انداز میں خیر مقدم کیا اور بڑی خندی پیشانی سے اس کی داستا ن غم سننے کے بعد گویا ہوا ۔
’’شہزاد بیٹے ۔۔۔۔۔۔ الیکشن سر پر کھڑے ہیں ،اگر میں نے اس بارالیکشن جیت لیا تو سمجھو آپ کی نوکری پکی‘‘۔
ساتھ ہی اس نے بڑی فنکاری سے سبز باغ دکھا کر، اپنی لچھے دار باتوں سے لبھا کر شہزاد کو الیکشن مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر آمادہ کر لیا ۔شہزاد جو سیاست کی الف بے سے بھی واقف نہیں تھا ، نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے مستقبل کے سنہرے خوابوں کو سجانے کے لالچ میں آکر اس کی چرب زبانی کے جالے میں مکڑی کی طرح فٹ ہوکر اس کے دام میں پھنس گیا اور اپنے کچھ دوستوں کو ساتھ ملا کر بڑھ چڑھ کر پارٹی کے حق میں الیکشن مہم چلانے میں منہمک ہو گیا ۔اس دوران شہزاد کو کئی  پریشانیوں اور تکالیف سے گزرنا پڑا ۔مخالف پارٹی کے کار کنوں سے آئے روز گالی گلوچ ،لڑائی جھگڑے اور مار کٹا ئی ہوتی تھی ۔کئی بار مخالف پارٹی کے کار کنوں نے شہزاد کی جم کر پٹائی کی جب کہ ایک دو بار کچھ وقت کے لئے اس کو جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی ۔لیکن شہزاد،جس کے وجود پر آرزئوں کے کوڑے سفاکی سے برس رہے تھے ،اپنے تشنہ خوابوں کی تعبیر کے لئے یہ سب خندہ پیشانی سے برداشت کرتا رہا ۔۔۔۔۔۔ آخر شہزاد اور دوسرے کارکنوں کی محنت رنگ لائی ، شہزاد کی خوشی کا تب کوئی ٹھکانہ نہ رہا جب اس کا لیڈر نہ صرف الیکشن میں کامیاب ہوا بلکہ اُنکی پارٹی کی حکومت بننے پہ ایک اچھی وزارت پر بھی فائیز ہوگیا۔
     چند دن جیت کی خوشی منانے کے بعد شہزاد منسٹر صاحب کی نظر کرم حاصل کرنے کے لئے کچھ تحائف لے کر فرط نشاط و انبساط میں جھومتے ہوئے مبارک بادی دینے اس کی کوٹھی پر پہنچ گیا۔ جہاں کئی گھنٹوں تک انتظار کے بعد ہی اس کو منسٹر صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ۔منسٹر صاحب ،جس کے تیور اب بدلے بدلے سے لگ رہے تھے، نے شہزاد کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔شہزاد نے تحائف اس کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے مبارکبادی دی اور اس کو اپنا واعدہ بھی یاد دلایا۔
’’ نوکری دینا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے ،تم کچھ مہینے ٹھہر کے آجائو تب دیکھیں گے ‘‘۔
منسٹر صاحب ،جو دل ودماغ میں تکبر کے بلند وبالا پہاڑ لئے صوفے پر لمبی ٹیک لگائے بیٹھا تھا ،نے بے دلی سے ناک سکیڑ کر روکھے سے لہجے میں کہا جس کے ساتھ ہی اس کے سامنے رکھے ٹیلیفوں کی گھنٹی بجی ۔
’’کون ؟چودھری صاحب ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
کہہ کر اس نے فون بند کیا اور اٹھ کر تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے باہر چلا گیا ۔ شہزاد بھی اس کے پیچھے پیچھے آگیا وہ آنگن میں پہنچا تو اسی لمحہ چودھری صاحب کی گاڑی بھی صدر دروازے سے اندر داخل ہو گئی ۔
’’ویلکم ۔۔۔ چودھری صاحب ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’مبارک ہو میرے دوست  ۔۔۔۔۔۔ آخر تم نے مرغی کو اپنی جگہ رکھ کر اس کے نیچے سے سارے انڈے کھسکائے‘‘۔
چودھری نے گاڑی سے اتر کر گلے ملتے ہوئے مذاق کے انداز میں کہا ۔
  ’’ زہے نصیب چودھری صاحب ۔۔۔۔۔ ۔آپ نے بھی تو اپنی باری پر جم کے ملائی کھائی ہے ۔۔۔۔۔۔آئیے ۔۔۔۔۔۔ پدھارئے۔۔۔۔۔۔‘‘۔
منسٹر نے ترکی بہ ترکی جواب دیا اور دونوں ہنستے مسکراتے کوٹھی کے اندر ڈاخل ہوگئے ۔
یہ منظر دیکھ کر شہزاد کے پیروں تلے زمین شک ہو گئی ۔اس کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا کیوں کہ یہ وہی چودھری تھا جس نے مخالف پارٹی کی طرف سے منسٹر کے خلاف الیکشن لڑا تھا اور جس کے خلاف وہ ہمہشہ ایسے زہر اگلتا رہتا تھا کہ کارکن اس کے خون کے پیاسے ہوجاتے تھے ۔۔۔۔۔۔ شہزاد کے تن بدن میں سوئییاںسی چُبھ گئیں، سر تیز رفتار موٹر کی پہیے کی طرح گھومنے لگااور وہ اپنا ریزہ ریزہ وجود لئے زوردار قہقہے لگاتے ہوئے وہاں سے نکل گیا ۔
    تب سے وہ اپنا ایجاد کردہ نعرہ لگا تے ہوئے گلی گلی ،بازار بازا گھومتا ہے ،لوگوں کو اپنے دل کی بات بتانا چاہتا ہے ۔لیکن جب کوئی اس کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا ہے تو وہ میونسپلٹی کے باغ میں جاکر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتا ہے۔شہزاد بہت دیر تک سوچوں میں غلطاںوپیچاںجلسہ گاہ میں موجود لوگوں پر دل ہی دل میں ہنس رہا تھا کہ ایک دم لالچوک نعروں سے گونج اٹھا اور منسٹر صاحب سٹیج پر نمودار ہو کر تقریر کرنے لگا۔منسٹر کو دیکھ کر درد کی ایک ٹیس اس کے پورے وجود میں دوڑ گئی ا ور غصے سے اس کا خون کھل اٹھا ۔
’’ بحروپیے ۔۔۔۔۔دھوکے باز ۔۔۔۔۔۔ فریبی ۔۔۔۔۔۔‘‘۔  
وہ بے قابو ہو کر چلاتے ہوئے تیز تیز قدموں سے اپنی منزل میونسپلٹی کے وسیع عریض باغ میں پہنچ گیا ۔اس کی آنکھوں میں درد کا بیکراں ساگر پنہاں تھا۔
’’ اٹینشن ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
اس نے دور دور تک پھیلے ہوئے سبزہ زاروں پر نظریں دوڑاتے ہوئے اپنا ایجاد کردہ نعرئہ مستانہ لگایا تو وہاں موجود اونچے اونچے درخت گونج اُٹھے اور سارے جانداروں ،جو ٹولیاں بنا کر اطمینان سے بیٹھے سستا رہے تھے ،کے کان کھڑے ہوگئے اور وہ توجہ سے شہزاد کی طرف دیکھنے لگے۔
 ’’اٹینشن پلیز ۔۔۔ میرے عزیزو،ہمارے آج کے لیکچرکا موضوع ہے پاگل کون؟؟؟‘‘
کہتے ہوئے وہ آگے بڑھا اور آستینیں چڑھا کر بڑے ہی مہذب اور مدلل انداز میںموضوع پر بولنا شروع کیا اور سامعین جن میں مختلف قسم کے چوپائیوں کے ساتھ ساتھ کئی رنگ کے پرندے بھی شامل تھے اطمینان سے سننے میں منہمک ہوگئے۔ 
اجس بانڈی پورہ(193502 ) کشمیر
ای میل ؛tariqs7092gmail.com 
 

تازہ ترین