عورت کوئی کھلونہ نہیں ؟

تاریخ    30 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


ریاض فردوسی
  قیس ابن عاصم نامی ایک شخص اپنی معصوم سی بچّی کو زندہ دفن کرنے کو تیار ہے،اس سے قبل وہ ا پنی 9بیٹیوں کو زندہ دفن کر چکا تھا،اس کے ہاتھ ان پھول سے بھی زیادہ نازک کلیوں کو ز ندہ دفن کرنے کے وقت نہ کانپے۔جبکہ اس کی لڑکی نے دفن ہونے کے وقت کہا ’’ابا آپ کی ڈارھی میں ریت لپٹی، اِسے صاف کرلے‘‘ اس وقت وہ معصوم خود گردن تک دفن ہو چکی تھی،لیکن دسویں لڑکی کو دفن کے وقت قیس ابن عاصم کے ہاتھ لرز رہے ہیںکیوں کہ ظلمت کی سیاہ چادر کو چاک کرنے اللہ کے حبیب ؐ روئے ارض پر عزت وعظمت کے ساتھ تشریف لا چکے ہیں۔ اب لڑکیاں دفن نہ ہو نگی،ما ئوں کی عزت ہوگی،یتیموں سے شفقت ومحبت،مظلوموں کی دادر سی ،کمزوروں کے، بیوائوں کے ہمدرد ،انسانیت کے محسن تشریف لا چکے ہیں، آپؐ کی آمد سے قبل عورتوں کی مظلومیت کا عالم، ایران میں باپ بیٹی کواپنے چمن سے جب رخصت کرتا تودس کوڑے مارتا اور وہی کوڑا داماد کے ہاتھ میں دے دیتا کہ اِسے مارتے رہنا کہ یہ میرے گھر میں کیسے پیداہوئی۔اس دور میں تمام ملکوں کی خواتین کو قانونی شہریت حاصل نہیں تھی بلکہ مرد اس کا نگراں ہوتا تھا ،ہر شکل میںخواتین براہ راست قانونی کارروائی نہیں کرسکتی بلکہ عورت کے تمام معاملات مرد کے زیر نگرانی چلتے تھے۔ خواتین کو جائداد رکھنے کا حق محدود تھا۔ تاہم خواتین جہیز، تحائف اور اگر مرد چاہے تو کچھ بھیک کی شکل میں اُسے کچھ دیتا تو رکھ سکتی تھی۔ عورت کا سرپرست ہی اس جائداد کی خرید و فروخت کا مختار تھا۔ قدیم تہذیب میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل کسی عورت کو مکمل شہریت حاصل نہیں ہوئی تھی۔یونانی روایات کے مطابق پینڈورا (Pandora) ایک عورت تھی، جس نے ممنوعہ صندوق کو کھول کر انسانیت کو طاعون اور غم کا شکار کر دیا۔یہودیوں کی کتاب ’’کتاب مقدس‘‘ میں لکھا ہے کہ عورت موت سے زیادہ تلخ ہے(تمدن عرب ص:373)
رومی قانون میں عورت کر مرد سے کمتر قرار دیا گیا تھا۔ مسیحی روایت بھی اسی طرح کے افکار کی حامل تھی۔انگلینڈ کے آٹھویں بادشاہ ہینری 8 نے اپنے دور میں پارلیمنٹ میں یہ قانون پاس کیا تھاکہ عورت مقدس کتاب انجیل کی تلاوت تک نہیں کرسکتی کیونکہ وہ ناپاک تصور کی جاتی تھی۔ان کے یہاں نن کا تصور بھی موجود تھا ،جو آج بھی جاری ہے۔
عیسائی مذہب عورت کو معصیت کا دروازہ،گناہوں کا سر چشمہ سمجھتے ہیں۔پرانی بائبل کے مطابق سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ایک عورت حوّاکے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے سولی پر چڑھے تھیں۔ تبتؔ کے مذہبی پیشوا عورت سے سے تعلق رکھناروحانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔یونان میں عورت کو شیطان کی زبان اور دیگر تذلیلی الفاظ سے موسوم کیا جاتا تھا۔ہندوستان میں اگر عورت بیوہ ہو جاتی تھی تو وہ منحوس ہو جاتی تھی،اس کو دیکھنا،اس سے ملنا جلنا،اس کو اپنے خوشی میں شامل کرنا،گویا تباہی اوربربادی کو دعوت دینا تھا۔عرب میں لڑکیوں کوزندہ دفن کرنے کا چلن تھا، سب سے بڑھ کر اسے شوہر کی چتا پر زندہ جلنا تھا، اُسے ستی کی رسم کہتے تھے۔ اسپارٹاؔمیں اس بد نصیب عورت کو، جس سے کسی قومی سپاہی پیدا ہونے کی اُمید نہ ہوتی، مار ڈالا جاتاتھا، جس وقت کسی عورت کے یہاں بچہ پیدا ہوچکا ہوتا تھا تو ملکی فوائد کی غرض سے اس عورت کو دوسرے شخص کی نسل لینے کے لیے اس کے خاوند سے عاریتاً لے لیتے تھے‘‘(تمدن عرب:373)
ہندوستانی تہذیب میں’’عورت صغر سنی میں باپ کی مطیع ہوتی ہے، جوانی میں شوہر کی اور شوہر کے بعد اپنے بیٹوں کی اور اگر بیٹے نہ ہوں تو اپنے اقرباء کی، کیوں کہ کوئی عورت ہرگز اس لائق نہیں ہے کہ خود مختار طور پر زندگی بسر کرسکے‘‘(ستیارتھ پرکاش باب نمبر4 ص: 152،153)
اسلام ایک ایسا مذہب ہے، جس نے عورت کو ذلت وپسماندگی کے گہرے سمندر سے نکالااور عزت اور عافیت کی بلندی پر فائز کیا، جس کی یہ حقدارتھی۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا(سورہ البقرہ۔آیت۔187)
ابوسعید خدری ؓکی روایت ہے کہ رسول  ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی ان کو تعلیم تربیت دی، ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ (بعد میں بھی) حسنِ سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے‘‘۔آپؐ نے اپنے صحابی کو غمگین دیکھا تو ان سے ان کا حال دریافت کیا ، انہوں نے کہا ،مجھ سے زمانہ جاہلیت میں گناہ سرزد ہو گیا ہے، اسی خوف سے غمگین رہتا ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا گناہ بتاؤ ، انہوں نے پورا واقعہ سنایا کہ میری ایک خوبصورت بچی تھی اور جب وہ بڑی ہوئی تو اس کی شادی کے پیغامات آنے لگے تو میری غیرت نے جوش مارا، لہٰذا میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں فلاں قبیلہ میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے جارہا ہوں، بچی کو بھی میرے ساتھ جانے کے لئے تیار کردو۔ شوہر کی خواہش پر انہوں نے بچی کو اچھے عمدہ لباس پہنادیے اور اس کو ساتھ لے کر چلا کہ راستے میں ایک کنواں دکھائی دیا،میں اپنی بچی کو اس کنویں میں ڈالنے لگا تو بچی نے مجھے پکار پکار کر کہا کہ میرے بابا! مجھے اس کنویں میں اکیلے چھوڑ کر کیوں جارہے ہو؟ کیا میں تمہاری پیاری بیٹی نہیں ہوں؟ یہ میرےکس جرم کی سزا ہے؟ بچی کی ان باتوں سے میرا دل دہل گیا، محبت پدری غالب آگئی،میں نے اسے کنویں سے نکال لیا لیکن پھر مجھ پر شیطان نے غلبہ کیا اور دوبارہ میں نے اسے اسی کنویں میں ڈال کر ہمیشہ کے لئے موت کی نیند سلا دیا۔ جب نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دلخراش انسانیت سوز واقعہ کو سنا تو آپ کو سخت صدمہ ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی۔ آپ نے انتہائی غضب کے عالم میں فرمایا: اگر زمانہ جاہلیت کے کاموں پر سزا دیتا تو یقیناًتم کو سزا دیتا، لیکن اسلام سے ما قبل کے تمام گناہ معاف ہیں، اس لئے تم اس گناہ سے بری ہو۔ 
آپ نے ؐ حج الوداع کے موقع پر فرمایا:   ’’لوگو! عورتوں کے بارے میں میری وصیت قبول کرو وہ تمہاری زیر نگین ہیں، تم نے ان کو اللہ کے عہد پر اپنی رفاقت میں لیا ہے اور ان کے جسموں کو اللہ ہی کے قانون کے تحت اپنے تصرف میں لیا ہے، تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ گھر میں کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں، جس کا آنا تمہیں ناگوار ہے، اگر ایسا کریں تو تم ان کو ہلکی مار مار سکتے ہو اور تم پر اُن کو کھانا کھلانا اور پلانا فرض ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے مشورہ نہ لیاجائے اور کنواری عورت کا نکاح بھی اس کی اجازت حاصل کیے بغیر نہ کیا جائے۔اگر بچپن میں کسی کا نکاح ہوگیا ہو، بالغ ہونے پر لڑکی کی مرضی شامل حال نہیں تو اسے اختیار ہے کہ اس نکاح کو وہ رد کرسکتی ہے، ایسے میں اس پر کوئی جبر نہیں کرسکتا۔ہاں اگروہ ایسے شخص سے شادی کرنا چاہے جو فاسق ہو،کافر ہو، تو ایسی صورت میں اس کی ولی کو دخل اندازی کا اختیار ہے۔شریعت اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا قلع قمع کیا جو عورت کے انسانی وقار کے منافی تھیں اور عورت کو وہ حقوق عطا کیے جس سے وہ معاشرے میں اس عزت و تکریم کی مستحق قرار پائی، جس کے مستحق مرد ہیں۔ اسلام نے مرد کی طرح عورت کوبھی عزت، تکریم، وقار اور بنیادی حقوق کی ضمانت دیتے ہوئے ایک ایسی تہذیب کی بنیاد رکھی جہاں ہر فرد معاشرے کا ایک فعال حصہ ہوتا ہے۔ اسلام سے پہلے جو اخلاقی مذاہب تھے ان سب میں عورت کو اور عورت ومرد کے ازدواجی تعلق کو بہت حد تک اخلاق وروح کی ترقی ومدارج کے لیے مانع تسلیم کیا گیا تھا، ہندوستان میں بودھ، جین، ویدانت، جوگ اور سادھو پن کے تمام پیرو اس نظریے کے پابند تھے، عیسائی مذہب میں تجرد اور عورت سے بے تعلقی ہی کمالِ روحانی کا ذریعہ تھا۔
دور حاضر میں ہماری ماں اور بہنوں کو بھی اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ ان کو خود اپنی عزت کی حفاظت کریں ۔آج بھی آزادی نسواں کے نام پر مردوں کے ہاتھ کا کھلونہ ہی بنایا جا رہا ہے۔نہایت افسوس کی بات ہے کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے،شادی کے بعد سب سے زیادہ تکلیف ،ساس ،نند ،دیور کی بی بی ،اور دیگر خاندان کی عورتوں سے ہی ہوتی ہے،بہت ہی کم مردوں سے۔وہ بہن ،وہ بیٹی بھی ساس ،سسر ،اور دیگر رشتے داروں کو اپنا ماننے کو کم ہی تیار رہتی ہے۔اس سے معاشرے کا توازن ہی بگڑ چکا ہے،اب تویہ انفجار کی شکل اختیار کر کے معاشرے کا نظام ہی تباہ وبرباد کرچکاہے۔
      آج ضرورت ہے کہ حکومتی سطح پرعورتوں کی جنسی استحصال کو روکنے کے لئے قانون کو سخت کیا جائے ،سب سے بڑھ کر معاشرے کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔اس میں مذہبی علماء کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
(رابطہ۔9968012976)
 

تازہ ترین