بنتِ حوّا ہوں... دُکھ دے یا رسوائی

تاریخ    30 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر امتیاز وانی
        ایک اچھی اور خوشحال زندگی کا تصور آرام دہ گھر آمدورفت کی سہولیات، موٹر گاڑی ،سکون و راحت کے نت نئے اسباب، اچھے اور خوبصورت ملبوسات من چاہی زندگی گزارنے کے بقدر آمدنی، معیاری اسکولوں میں بچوں کی تعلیم و تربیت ہر کس و ناکس اس کی تمنا کرتا ہے۔ مرد ہو یا عورت ہر کسی کو اچھی اور خوشحال زندگی کی طلب ہوتی ہے۔ ہندوستان میں ایک بڑا طبقہ اُن افراد سے وابستہ ہے جو ایسی زندگی کی تمنا کرتے کرتے اپنی زندگی کے دن تمام کردیتے ہیں، اور ان کی خوشحالی کے خواب کبھی پورے نہیں ہوتے، جبکہ سطح غربت اور اس سے بھی کم درجہ کی زندگی گزارنے والے بے شمار خاندان تو ایسے ہیں جن کو اپنی محدود ضروریات زندگی کی تکمیل کے لیے اپنی خواتین کو بھی روزانہ طرزِ اُجرت جیسے کاموں سے وابستہ کرنا پڑتا ہے یا پھر حساس ذمہ دار خواتین اپنی اور اپنے خاندان کی لازمی ضروریات کی تکمیل کے لیے خود ہی ایسے روزگار سے وابستہ ہوجاتی ہیں۔روزگار سے وابستہ خواتین کے لیے صنعتوں میں پیش آنے والے مسائل کے ساتھ ساتھ سب سے پیچیدہ اور اہم مسئلہ اپنی گھریلو ذمہ داریاں پوری کرنے کا ہوتا ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ عورت کو کام پر جانے سے پہلے اپنے لیے اور افراد خانہ کے لیے پکوان تیار کرنا ہوتا ہے، گھر کی صفائی ستھرائی اور دیگر امور انجام دینے ہوتے ہیں اور بچوں کو تیار کرکے انہیںاسکول کے لیے روانہ کرنا ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں دیگر خامدانی مسائل بھی ہوتے ہیں، ایسے میں بچوں کی صحیح نگہداشت اور تربیت کے لیے اسے بے شمار دشواریوں کا سامنا رہتا ہے۔ لیکن اپنی ان دوہری ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی کوشش میں ہمیشہ لگی رہتی ہیں۔نیزعورت ان مشکلات کے ساتھ اتنی ساری ذمہ داریوں سے نبردآزما ہوتی ہے اور ان نہ ختم ہونے والے مسائل کے پیچھے اپنے آپ کو ہلکان کر دیتی ہے اور کئی ذمہ داری کو جو حقیقت میں اس کے شوہر کی ہوتی ہیںبرداشت کرتے ہوئے اپنی ذات اور خواہشات تک کو بھول جاتی ہے اور اپنی صحت کو دائو پر لگا دیتی ہے ۔سب سے پہلے اس کے ساتھ ناانصافی کی شروعات اس کو تعلیم سے محروم رکھنے کے ساتھ ہی وقوع پزیر ہوئی۔چونکہ تعلیم نسواں کا مسئلہ ہر دور میں اور ہر جگہ پر زیربحث رہا ہے کسی نے سرے سے عورتوں کی تعلیم سے انکار کرکے عورت کی زندگی کو گھر گھر ستی اور چولہے ہانڈی تک محدود کردیا تو کسی نے صرف پڑھنے کی اجازت دی اور لکھنے سیکھنے سے منع کیا۔ اس طرح تعلیم کے میدان میںصنف نازک ہمیشہ سے نا انصافیوں کا شکار رہی۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عورت قوم و ملک ، معاشرہ اور سماج کی سب سے بڑی معمار ہے قومیں اس کی آغوش میں پلتی اور جوان ہوتی ہیں۔ عورت کی گود ہر دور میں پیدا ہونے والی نسلوں کی اول ترین درسگاہ اور تربیت کدہ رہی ہے اس نظریہ اور اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو مردوں کے مقابلہ میں عورت کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ہی زیادہ ضروری ہے۔چونکہ عورت ہر دور اور ہر زمانے میں محنت و مشقت کرتی رہی ہے، لیکن کبھی اس کی محنت کو نہیں سراہا گیا اور کبھی اس کی مشقتوں کی توصیف نہیں کی گئی، مردوں کی محنت، مشقت اور قربانیوں کو سراہا گیا ان کی تاریخ لکھی گئی، داستانیں بنیں اور زبان زد عام ہوئیں، لیکن عورت کے صبروتحمل، اس کی محنت و مشقت، اس کی قربانیوں اور ایثار کو ہمیشہ نظرانداز کیا گیا۔ جبکہ ہندوستان میں ہزاروں بلکہ لاکھوں خاندان ایسے ہیں جن کی معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ مردوں کے شانہ بشانہ خواتین بھی اٹھا رہی ہیں۔زمانے کی بدلتی قدروں بالخصوص سائنس اور تیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے آج ہم انسانوں کو چاند پر چہل قدمی کا اہل بنادیا ہے۔ لیکن آج بھی کئی مسائل ایسے ہیں جن سے ہمہ وقت انسانیت نبردآزما ہورہی ہے۔معاشرے میں خواتین کے سماجی موقف اور ان کے مرتبے کا بہت زیادہ چرچا ہوتا ہے۔ آئے دن میڈیا میںخواتین سے متعلق خبروں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ماں،بہن،بیٹی اور بیوی جیسے کئی ایک روپ میں انتہائی معزز اور محترم کہلائی جانے والی یہی عورت آج زندگی کے مختلف شعبوں میں نت نئے الجھنوں اور مسائل سے ہمہ وقت جوجھتی نظر آتی ہے۔ہندوستان میںعورتوں کے نسوانی رول پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے جس کا لازمی اثر بچپن ہی سے ان کی شخصیت پر پڑتا ہے اسی لیے عورت کسی بھی معاملہ میں الگ مضبوطی سے اپنی رائے رکھنے میں ہچکچاتی ہیں۔آزادی رائے کا نہ ملنا اور ان قیود کی وجہ سے عورتوں کی زندگی پر اس کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ عورتیں گھر کے کام کاج کے بوجھ تلے دبی رہتی ہیں ۔ شہری زندگیوں میں خواتین کے لیے پھر بھی کچھ آسانیاں ہیں جس سے گھر کا کام کسی قدر سہل ہوجاتا ہے اس طبقہ کی عورتوں کے رول میں بہت وسعت ہوگئی ہے۔ان کے مقابلہ میں دیہاتی عورتوں کو روایتی فرائض کے علاوہ نئے فرائض بھی انجام دینے ہوتے ہیںاور طرح طرح کی ذمہ داریاں اٹھانا پڑتی ہیں۔ان حالات کی بنا پر ان کی زندگی بہت کٹھن ہوجاتی ہے۔ بہت کم عورتیں ایسی ہیں جنہیں مالی فراغت اور خاندان کی ہمدردیاں حاصل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی ذہنی، اخلاقی اور تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھاوا ملتا ہے ۔
 ابتدا میںخواتین کوجو تعلیم سے محروم رکھا گیا اُس وجہ سے ہی آج خواتین کی ترقی کی رفتاربیشتر معاملات میں سست ہے اور بدقسمتی کے ساتھ یہاں کے سماجی رویوں کی وجہ سے عورتوں کا ملازمت و روزگار کواختیار کرنا اور بھی مشکل ہوگیاہے۔ عورتوں کا اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سماج کی نظر میں پسندیدہ بھی ہے اور ناپسندیدہ بھی۔ اگر چہ مالی بوجھ ان کی آمدنی سے کم ہوتا ہے معیار زندگی بلند ہوتا ہے مگر پھر بھی باہر نکل کرکام کرنے والی عورتوں کوبدنام ہی کیا جاتا ہے جس کوبدقسمتی سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ نئے سماجی قوانین سے ابھی بہت کم خواتین واقف ہیں اور یہ درست ہے کہ سماج کے ادارے اور رویہ تیزی سے نہیں بدلتے مگر عورتوں کی فلاح و بہبودی اور ترقی کے عمل میں تیزی اس طرح سے لائی جاسکتی ہے کہ اس میں سوچ و بچارکے بعد منصوبہ بندی کی کوششیں کی جائیں اور اس کی ذمہ داری ریاست، سماج اور ان سب لوگوں پر یکساں عائد ہوتی ہے جو عورتوں اور مردوں میں مساوات کے قائل ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں خواتین کے مسائل کے حل اور ان کی تعلیم و ترقی کے لیے متعدد تدابیر اپنائی گئیں لیکن ان حکمت عملیوں کے باوجود خواتین کی حالت میں کوئی سدھار نہ آیا اس کا سبب معاشرے میں موجود عورت و مرد کے درمیان برتا جانے والا وہ امتیازی رویہ و نظریہ ہے جس کی جڑیں بڑی گہرائی تک پیوست ہیں۔ جس کی بنا پر عورت کی ترقی کے لیے کی جانے والی ہر تدبیر ناکام ثابت ہورہی ہے۔ سماج و افراد کی سوچ میں مثبت تصور لائے بغیر اب تو یہ ناممکن ہے اور یہ تبدیلی تعلیم کی وجہ سے ہی آسکتی ہے۔کیونکہ صدیوں سے جاری سماجی برتائو نے عورت کو اس قدر ذہنی غلامی میں جکڑ دیا ہے کہ وہ حرکت و عمل سے دورحاشیہ پر رہنے ہی میں اپنی عافیت سمجھتی ہے۔لیکن اس بنا پر جو نقصان ہورہا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ کیوں کہ ایک عورت کو اس کی صلاحیتوں ،خوبیوں اور اس کی قربانیوں، اس کی سوچ اور اس کے کاموں کو نظرانداز کردینا، مفلوج کردینا گویا پوری ایک نسل کی تباہی کے مترادف ہے۔کیوں کہ عورت ہی اخلاقی قدروں کی پاسدار ہے اور آئندہ نسلوں کی صحتمندانہ سوچ کی ذمہ دار بھی۔ اگر یہی عورت ذہنی طور پر مفلوج رہی اور اپنی نسل میں بہتر سوچ اور قوت فیصلہ کے جراثیم منتقل نہ کرسکی تو معاشرہ تباہی کے دہانے پر لاکھڑا ہوگا!
 ( ڈاڈہ سرہ ترال، کشمیر  ۔موبائل نمبر:7006769276)
   ای میلimtiyazwani07@gmail.com
 

تازہ ترین