سمت بھارگو
راجوری//جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں جاری شدید گرمی، خشک موسم اور جنگلاتی زمین میں بڑھتی ہوئی خشکی کے باعث مختلف علاقوں میں جنگلاتی آگ کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جس سے قیمتی جنگلاتی وسائل اور سبزہ بڑے پیمانے پر تباہ ہو رہا ہے۔ ان واقعات نے نہ صرف ماحولیاتی توازن کے لئے خطرہ پیدا کر دیا ہے بلکہ مقامی آبادی اور جنگلی حیات کے لیے بھی سنگین خدشات جنم لے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ضلع راجوری کے کئی دیہات میں گزشتہ چند روز کے دوران جنگلات میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے وسیع رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ لگنے کے باعث سرسبز جنگلات راکھ کے ڈھیروں میں تبدیل ہو رہے ہیں جبکہ قیمتی درخت، پودے اور قدرتی وسائل شدید متاثر ہو رہے ہیں۔جنگلاتی آگ کے باعث اٹھنے والا دھواں مقامی آبادی کے لیے بھی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ دھوئیں کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ جنگلات میں رہنے والے جنگلی جانوروں اور پرندوں کی زندگی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے کیونکہ آگ ان کے قدرتی مسکن کو تباہ کر رہی ہے۔
آتشزدگی کا ایک بڑا واقعہ راجوری کے چکلی گاؤں میں پیش آیا، جہاں پیر کی شام جنگلاتی علاقے میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ مقامی لوگوں کے مطابق خشک گھاس، پتوں اور موسم کی شدت کے باعث آگ تیزی سے پھیلتی گئی اور سینکڑوں ایکڑ جنگلاتی اراضی اس کی زد میں آ گئی۔مقامی باشندوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بعض شرپسند عناصر ذاتی مفادات کے لیے جان بوجھ کر جنگلات میں آگ لگا رہے ہیں، جس سے نہ صرف ماحولیات کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ قیمتی جنگلاتی وسائل بھی تباہ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔دریں اثناء مقامی نوجوانوں نے سماجی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیر اور منگل کی درمیانی شب متاثرہ جنگلاتی علاقوں کا رخ کیا اور اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوششیں شروع کیں۔ نوجوانوں نے مختلف طریقوں سے آگ پر قابو پانے اور مزید نقصان کو روکنے کی بھرپور کوشش کی۔ادھر جموں و کشمیر محکمہ جنگلات اور فارسٹ پروٹیکشن فورس نے بھی صورتحال پر قابو پانے کے لیے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ محکمہ کے افسران اور فیلڈ اسٹاف کو متاثرہ علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے، جو دشوار گزار علاقوں میں مسلسل کام کرتے ہوئے آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگلاتی علاقوں میں احتیاط برتیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔