غور طلب
سلیم یوسف راتھر
ایک عام سی صبح ہے۔ سورج کی کرنیں زمین کو حرارت بخش رہی ہیں، پرندے اپنے گھونسلوں میں چہچہا رہے ہیں اور صبح سویرے اٹھنے والے اپنے اپنے مقاصد کی جانب رواں دواں ہیں۔ پختہ سڑکیں ابھی اپنے روزمرہ کے ہنگامے اور شور و غوغا سے بھرنے والی ہیں اور مصروفیت کی چکاچوند نے ابھی اپنا جادو نہیں چلایا۔ آپ سڑک پر سفر کرتے ہیں تو چنار کے درخت آپ کے راستے پر سایہ فگن ہوتے ہیں، ایک لمحے کے لیے رک کر گہرا سانس لینے اور سکون کا احساس کرنے کا موقع ملتا ہے۔ دیہات کو ملانے والے چوراہوں اور سنگموں پر یہ بلند و بالا چنار اپنے کشادہ وجود کے ساتھ کھڑے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اپنی برکتیں سب پر نچھاور کر رہے ہوں۔
اس عظیم درخت کا سائنسی Platinus orientalis ہے، مگر ہمارے لئے یہ محض ایک درخت یا ’’بُوٗنی‘‘ نہیں۔ یہ ہماری شناخت، ہماری تہذیب اور ہمارے منظرنامے کی زندہ علامت ہے۔ یہ ہمارے مرکز کے زیر انتظام علاقے کا ریاستی درخت بھی ہے۔ یہ کیسے قدرتی طور پر پروان چڑھا اور ہماری اجتماعی شعور کا حصہ بن گیا؟ اس کی طویل عمر ہمیں اپنی ہی عمر کا تسلسل محسوس ہوتی تھی۔
بُوٗن آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے۔ یہ ہماری علامتوں میں شامل ہے، ہماری فنونِ لطیفہ کی سب سے نمایاں نقش نگاری ہے۔ سرکاری تقریبات میں بطور یادگار پیش کیا جاتا ہے۔ لکڑی کی نقش کاری میں اس کی جھلک ملتی ہے، پشمینہ شالوں اور قالینوں میں اس کے نقوش بُنے جاتے ہیں، پیپر ماشی کے فن پاروں میں اسے سمویا جاتا ہے اور تانبے کے برتنوں پر اس کے نقش کندہ کیے جاتے ہیں۔
اس درخت کو مغلوں کی سرپرستی حاصل رہی۔ ’’چار چناری‘‘ اور ’’نسیم باغ‘‘ کی صورت میں یہ ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ بن گیا۔ اس نے ہمارے ویران اور گھاس سے ڈھکے قبرستانوں کو بھی ایک عجیب سکون اور وقار عطا کیا، گویا کسی پُرشکوہ قوت نے انہیں اپنی آغوش میں لے رکھا ہو۔ اس کے پتوں نے ہمارے چولہوں کو گرمایا اور ہمارے گھروں کو آسودگی بخشی۔ ہم نے کبھی اسے کاٹنے چھانٹنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، کیونکہ یہ ہمارے لیے قیمتی بھی تھا اور مقدس بھی۔
مگر راتوں رات ہمارے مناظر بدل گئے۔ ہمیں ترقی چاہیے، سڑکوں کی توسیع درکار ہے، ہمیں رفتار پکڑنی ہے۔ ہر قیمت پر ’’وکست‘‘ بننا ہے۔ اب چنار راستے میں رکاوٹ محسوس ہوتے ہیں۔ میرے معمول کے بس ڈرائیور کو ان کے گرد سے گزرنا دشوار لگتا ہے۔ سیکنڈوں کے حصے بھی اہم سمجھے جانے لگے ہیں، ایندھن مہنگا ہے اور چنار لگانے والوں کی نسلیں گویا ختم ہو چکی ہیں۔ میرے راستے کی نشانیاں مٹ گئی ہیں۔ اب تمام سڑکیں ایک جیسی دکھائی دیتی ہیں اور یہ یکسانیت خود ایک خطرہ بن چکی ہے۔
ہم شجرکاری مہمات پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم انہیں مناتے ہیں اور یقیناً یہ قابلِ ستائش عمل ہے۔ لیکن شجرکاری اور درختوں کی مسماری ایک دوسرے کی تکمیل نہیں ہیں۔ ہمارے ’’جنگل کے نگہبان‘‘ کہاں ہیں؟ ہماری میدھا پاٹکر اور جادو پائینگ کہاں ہیں؟ چنار جل رہے ہیں، مگر یہ آتش چنارخزاں کی نہیں، بہار کے موسم کی ہے۔
(مضمون نگار ہایر اسکنڈری اسکول زچلڈارہ میں پڑھاتے ہیں)