یو این آئی
تہران/ایران کی فٹبال فیڈریشن نے منگل کے روز امریکہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ورلڈ کپ کے گروپ میچز کے لیے ایرانی شائقین کو دیے گئے ٹکٹوں کا کوٹہ منسوخ کر دیا ہے ۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین جاری شدید سفارتی اور فوجی کشیدگی کے سائے میں، ٹورنامنٹ کے شریک میزبان (امریکہ) کی جانب سے ایرانی تماشائیوں کی اسٹیڈیم میں آمد کو روکنے کے لیے جان بوجھ کر رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔رپورٹس کے مطابق، امریکہ نے رواں سال فروری کے آخر میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر کیے گئے حملوں اور دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کے تناظر میں، ایرانی فٹبال وفد کے لیے کئی تادیبی اور بیوروکریٹک رکاوٹیں کھڑی کی ہیں، جن میں کچھ اہم سپورٹ اسٹاف کو ویزے جاری کرنے سے انکار بھی شامل ہے ۔
ایرانی فٹبال فیڈریشن نے اپنے ایک آفیشل بیان میں کہا”2026 ورلڈ کپ کے باقاعدہ آغاز میں اب تین دن سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اور ایسے میں امریکہ نے ایک بار پھر قومی ٹیم کے تینوں گروپ اسٹیج میچوں کی میزبانی کرنے والے اسٹیڈیموں میں ایرانی شائقین کی موجودگی کو روکنے کے لیے یہ کارروائی کی ہے ۔ایرانی حکام کے مطابق، فیفا کے قوانین کے تحت ہر میچ کے کل ٹکٹوں کا 8 فیصد حصہ متعلقہ ملک کی فیڈریشن کو دیا جاتا ہے تاکہ وہ سرکاری ذرائع سے اپنے فینز میں تقسیم کر سکے ۔ ایران نے نیوزی لینڈ، بیلجیم اور مصر کے خلاف (جو تمام میچز امریکہ میں کھیلے جانے ہیں) اپنے کوٹے کے ٹکٹوں کی فروخت شروع کر دی تھی اور کئی شائقین نے سفر کے انتظامات بھی مکمل کر لیے تھے ۔بیان میں مزید کہا گیا”تاہم، ایک غیر متوقع اقدام کے تحت، ایرانی فٹبال فیڈریشن کو دیا گیا یہ کوٹہ واپس لے لیا گیا ہے ، اور موجودہ حالات میں فیڈریشن قومی ٹیم کے حامیوں کو ایک بھی ٹکٹ فراہم کرنے سے قاصر ہے ۔” فیڈریشن نے اس اقدام کو بین الاقوامی مقابلوں کے جذبے اور مساوات کے اصولوں کے سراسر منافی قرار دیا ہے ۔ ایرانی فیڈریشن نے فیفا اور ٹورنامنٹ کے دیگر منتظمین پر زور دیا ہے کہ وہ غیر جانبداری، انصاف اور قائم کردہ قوانین کے اصولوں کو برقرار رکھیں اور ایرانی شائقین کے لیے ویزا اور ٹکٹوں کی فراہمی کے ضروری حالات فراہم کریں۔