عظمیٰ ویب ڈیسک
دراس/مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نتن گڈکری نے منگل کے روز زوجیلا ٹنل کے مرکزی حصے میں آخری دھماکہ کرکے بریک تھرو مکمل ہونے کا اعلان کیا اور اسے کشمیر و لداخ کے درمیان ہر موسم میں رابطہ قائم کرنے کی سمت ایک ’’تاریخی لمحہ‘‘قرار دیا۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، لداخ کے رکن پارلیمان محمد حنیفہ، ایل اے ایچ ڈی سی کرگل کے چیئرمین و چیف ایگزیکٹو کونسلر ڈاکٹر محمد جعفر اخون، لداخ کے چیف سیکریٹری، ڈی جی پی لداخ، این ایچ آئی ڈی سی ایل، بی آر او اور میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔بریک تھرو کے بعد 13.15 کلومیٹر طویل مرکزی ٹنل کے دونوں سروں کو جوڑ دیا گیا، جو کشمیر کے بالتل اور دراس کے منی مرگ کے درمیان نیشنل ہائی وے-1 پر تعمیر کی جارہی ہے۔
نتن گڈکری نے منی مرگ کے مشرقی دہانے پر ریموٹ ڈیٹونیٹر دبا کر اس اہم انجینئرنگ مرحلے کو مکمل کیا۔ یہ منصوبہ ملک کے سب سے بڑے اور اہم انفراسٹرکچر پروجیکٹس میں شمار کیا جا رہا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گڈکری نے کہا کہ یہ ٹنل سری نگر اور لیہہ کے درمیان ہر موسم میں رابطہ فراہم کرے گی اور سردیوں میں لداخ کے زمینی رابطے کے منقطع ہونے کا مسئلہ ختم ہوجائے گا۔ اس سے دفاعی نقل و حرکت، سیاحت اور مقامی معیشت کو بڑا فروغ ملے گا۔
11ہزار 578 فٹ کی بلندی پر تعمیر ہونے والی زوجیلا ٹنل تکمیل کے بعد ایشیا کی سب سے طویل دو طرفہ روڈ ٹنل بن جائے گی۔ منصوبے میں مرکزی ٹنل کے علاوہ ایک ایمرجنسی ٹنل، تین عمودی وینٹیلیشن شافٹس اور تقریباً 18 کلومیٹر طویل رابطہ سڑکیں بھی شامل ہیں۔اس منصوبے کی مجموعی لاگت 6 ہزار 809 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق منصوبے کا 75 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے۔ بریک تھرو کے بعد اب ٹنل لائننگ، سڑک کی تعمیر اور الیکٹرو مکینیکل تنصیبات کے کام میں مزید تیزی لائی جائے گی۔ منصوبے کو فروری 2028 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ٹنل کے مکمل ہونے کے بعد زوجیلا پاس پر سفر کا دورانیہ تین گھنٹے سے کم ہو کر صرف 15 منٹ رہ جائے گا، جبکہ برفباری اور حادثات کے شکار راستوں سے بھی نجات ملے گی۔
یہ منصوبہ دفاعی اہلکاروں، ضروری اشیاء اور سیاحوں کی سال بھر آمد و رفت کو یقینی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔کرگل اور گاندربل کے مقامی رہنماؤں نے اس کامیابی کو ایک تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ زوجیلا ٹنل لداخ کے لیے “لائف لائن” ثابت ہوگی، جو خطے میں رابطہ، معاشی سرگرمیوں اور بنیادی سہولیات تک رسائی میں انقلاب لائے گی۔
زوجیلا ٹنل کشمیر- لداخ کے رابطے کے لیے ایک تاریخی سنگ میل: نتن گڈکری