سرینگر//گورنر این این ووہرا جو امر ناتھ جی شرائین بورڈ کے چئیر مین بھی ہیں ، نے بورڈ کے سی ای او امنگ نرولہ کے ہمراہ یاترا شروع ہونے سے اب تک زخمی ہوئے یا جانبحق ہوئے یاتریوں سے جُڑے معاملات کا جائیزہ لیا ۔ سی ای او نے گورنر کو جانکاری دی کہ 29 جون سے 16 جولائی تک 19 یاتری طبی وجوہات کی بنا پر فوت ہوئے جبکہ حادثات کے دوران 20 یاتری جانبحق ہوئے علاوہ ازیں دس جولائی کو یاترا بس پر ہوئے دہشت گردانہ حملے میں 8 یاتری مارے گئے ۔ سی ای او نے کہا کہ دہشت گردانہ حملے میں ہوئی ہلاکتوں کے تناظر میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ مارے گئے یاتریوں کے لواحقین کو دئیے جانے والے ایکس گریشیا ریلیف میں اضافہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ مارے گئے یاتریوں کی میتوں کو ہوائی جہاز کے ذریعے اپنے اپنے قصبوں تک پہنچانے کیلئے چئیر مین کی ہدایات پر عمل کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اب تک بورڈ نے ٹرانسپورٹیشن پر 1466975 روپے جبکہ ایکس گریشیا ریلیف کی ادائیگی پر 13475000 روپے صرف کئے ۔ 16 جولائی کو بانہال کے نزدیک ایک سڑک حادثے میں جانبحق ہوئے 16 یاتریوں کے بارے میں سی ای او نے کہا کہ چئیر مین کے فیصلے کے مطابق مارے گئے یاتریوں کی میتوں کو اٹینڈنٹ سمیت ہوائی جہاز کے ذریعے اپنے اپنے قصبوں کو بھیج دیا گیا ۔ جیسا کہ پہلے سی ای او نے گورنر کے ساتھ تبادلہ خیال کیا کہ یاتریوں کے اٹینڈنٹوں کے ساتھ ساتھ پولیس کے ایک اہلکار کو بھی میت کے ساتھ بھیج دیا گیا ۔ اس موقعہ پر مزید بتایا گیا کہ 12 یاتریوں کی میتوں کو جہاز کے ذریعے بہار ، راجستھان ، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کے نزدیکی ہوائی اڈوں تک پہنچایا گیا یہاں سے انہیں ایمبولینس گاڑیوں کے ذریعے اپنے اپنے گھروں تک پہنچایا گیا ۔ اس کے علاوہ تین یاتریوں کی میتوں کو ایمبولینسوں کے ذریعے سکر راجستھان ، پانی پتھ ہریانہ اور آر ایس پورہ جموں تک پہنچایا گیا ۔