سرحدی آبادی کو تحفظ دینے کی اپیل
بختیار حسین
سرنکوٹ// جموں وکشمیر ہیومن ویلفیئر سوسائٹی جڑانوالی گلی کی ایک میٹنگ ڈاک بنگلہ سرنکوٹ میں منعقد ہوئی جس میں حاجی ممتاز احمد منہاس حاجی فتح محمد بجاڑ، ڈاکٹر نیاز بجاڑ ،حاجی محمد منشی کھٹانہ، صابر حسین، امتیاز علی خان وغیرہ نے بھی شرکت کی ۔اس موقعہ پر مقررین نے سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ عام لوگ مارے جارہے ہیں اور گزشتہ دنوں بالاکوٹ میں اسی وجہ سے ایک ہی کنبے کے پانچ افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ دوچھوٹی چھوٹی بچیاں موت و حیات کی کشمکش میں ہیں ۔انہوںنے حکومت سے اپیل کی کہ لوگوں کوتحفظ فراہم کیاجائے اور سرحدی علاقوں میں بینکر تعمیر کئے جائیں ۔انہوںنے طبی و دیگر سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا ۔
سرحدی کشیدگی پر بھاجپا پر تنقید
پرویز خان
منجاکوٹ // کانگریس لیڈر فاروق خان نے سرحدی علاقوں کادورہ کرکے لوگوں کودرپیش مسائل کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔اس موقعہ پر فاروق خان نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ آئے روز فائرنگ اور گولہ باری سے لوگ مارے جارہے ہیں اور گزشتہ دنوں بالاکوٹ میں ایک ہی کنبے کے پانچ افراد لقمہ اجل بنے لیکن کیاوجہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی پاکستان کے ساتھ بات نہیں کر رہی ۔انہوںنے کہاکہ سرحدی آبادی کو تحفظ دیاجائے اوراس کے ساتھ خون کی ہولی نہ کھیلی جائے ۔فاروق خان کاکہناتھاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے آنے کے بعد جتنے لوگ مارے گئے ہیں ،اتنے ہندوستان اور پاکستان کے بٹوارے کے پہلے نہیں مرے ہونگے۔انہوںنے کہاکہ یہ پارٹی ترقی کے دعوے کرتی ہے مگر ترقی بھی کہیں نظر نہیں آرہی اور نہ ہی لوگوں کے جان و مال کو تحفظ حاصل ہے ۔انہوںنے کہاکہ دونوں ممالک آپس میں بات چیت کرکے مسائل حل کریں ۔
پانچ روزہ جانکاری کیمپ اختتام پذیر
طارق شال
طارق شال
تھنہ منڈی // نہرو یووا کیندر اراجوری اور لوہر یوتھ کلب دوداسن بالا کے اشتراک سے دداسن بالا میں پانچ روزہ جانکاری کیمپ منعقد کیا گیا جس میں مقامی نوجوانوں کے علاوہ مختلف محکموں کے سرکاری ملازمین نے شرکت کی۔اس دوران آنگن واڑی ورکرز،محکمہ پنچایت ،میونسپلٹی تھنہ منڈی، محکمہ صحت وغیرہ سے ملازمین نے شرکت کی ۔اس کیمپ کے ذریعہ لوگوں کو جانکاری فراہم کی گئی کہ اپنے آنگن کو کیسے صاف ستھراء رکھا جا تاہے ۔ کیمپ کے آخری روز ایس ڈی ایم تھنہ منڈی محمد افضل مرزا، انسپکٹر میونسپلٹی محمد قاسم، رشید حسین جی آر ایس، شاہدہ اختر، تنویر احمد، محمد حسین اور عبدالحمیدموجود تھے۔ اس دوران شرکاء نے ترنگا جھنڈا بھی لہرایا۔ لوہر یوتھ کلب دداسن بالا کے انچارج محمد فاروق نے بتا یا کہ مرکز کی طرف سے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے سوچ بھارت ابھیان سکیم چلائی جارہی ہے جس سے لوگوں کو فائدہ اٹھاناچاہئے ۔
محکمہ دیہی ترقی کے ڈیٹا آپریٹر 7ماہ سے تنخواہوںسے محروم
طارق شال
طارق شال
تھنہ منڈی // بلاک دفتر تھنہ منڈی میں کام کرنے والے ڈیٹا آپریٹرگزشتہ سات ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں جسکی وجہ سے ان کا گزر بسر مشکل ہورہاہے ۔ تھنہ منڈی میں کام کرنے والے ڈیٹا آپریٹرز کی تعداد ڈیڑھ درجن تک ہے جنہیں سات ماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئیں ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ یہ ان ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہے کہ انہیں تنخواہ نہیں دی جارہی جو محنت سے محکمہ کیلئے کام کررہے ہیں ۔
پونچھ کے گنڈی علاقہ میں پانی کی شدیدقلت
حسین محتشم
پونچھ//ضلع پونچھ کے صدر مقام سے 2کلو میٹر دوری پر واقع گائوں گنڈی کی آبادی پینے کے پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے سخت مشکلات سے دوچار ہے۔پانی کی قلت کے سبب لوگوں کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔پینے کے پانی کی قلت پر مقامی لوگوں کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔اس دوران مظاہرین نے پونچھ کی جانب جانے والی سڑک پر دھرنادیتے ہوئے محکمہ پی ایچ ای کے خلاف ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے شدیدنعرے بازی کی ۔واضح رہے کہ اس علاقہ میں لوگوں کو پانی دستیاب کرنے کے لئے ایک ٹینک بنایا گیا ہے جس میں گاڑیوں کے ذریعہ پانی ڈال کر لوگوں کو نلکوں کے ذریعہ گھروں تک پہنچایاجاتا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ایک ماہ سے آبادی کو پینے کا پانی فراہم نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ دور نالے سے اپنے استعمال کے لئے پانی ڈھو کر لاتے ہیں۔مظاہرین کاکہنا ہے کہ ان کے علاقہ میں سرکار کی جانب سے کسی سکیم پر کام شروع نہیں ہوا جبکہ اس علاقہ میں لفٹ سسٹم کی سخت ضرورت ہے۔ آبادی کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے ایک ماہ سے پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترس رہے ہیں۔ایک مقامی شہری غلام دین کاکہنا تھا کہ معتدد بار حکام کی نوٹس میں لانے کے باوجود بھی علاقے میں پینے کے پانی کا معاملہ حل نہیں کیا گیا جس وجہ سے آبادی کو احتجاج کا راستہ مجبوراً اپنانا پڑا۔رابطہ کرنے پر ایکس ای این محکمہ پی ایچ ای پونچھ نے کہا کہ ان لوگوں کو پینے کا پانی فراہم کرنا انکی اہم ترجیحات میں شامل ہے اور وہ اس ضمن میں منصوبہ بند طریقہ کار اپنائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ فی الحال متاثرہ علاقے میں ٹینکر سروس سے پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا۔
خاوند کی دوسری شادی پرناخوشی
پہلی بیوی نے دوسری کو لہولہان کردیا
راجوری //راجوری کے جنگریال گائوں میں پیش آئے ایک واقعہ میں ایک شخص کی پہلی بیوی نے دوسری بیوی پر تیز دھار والے ہتھیار سے حملہ کرکے اسے شدیدزخمی کردیا ۔یہ واقعہ پولیس تھانہ دھرمسال کے تریاٹھ علاقے میں پیش آیاہے ۔ زخمی اکیس سالہ منشا بی زوجہ محمد الطاف کو مقامی ہسپتال لایاگیاجہاںسے اسے گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں منتقل کیاگیاہے ۔ بتایاجاتاہے کہ اس کی حالت تشویشناک ہے ۔پولیس کے مطابق اس سلسلے میں تحقیقات شروع کردی گئی ہے اور کیس بھی درج کیاگیاہے ۔پولیس نے بتایاکہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلاہے کہ زخمی خاتون کی اس کے خاوند کی پہلی بیوی پروین اخترنے مار پیٹ کی اوراس کے سر پر تیز دھار والے ہتھیار سے بھی حملہ کیا ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ پروین اپنے خاوند کی دوسری شادی سے ناخوش تھی اور اس نے اپنا غصہ خاوند کی نئی بیوی پر نکالا۔ذرائع نے بتایاکہ ملزمہ کو پولیس نے حراست میں لے لیاہے۔
گرام سبھامیں تصادم آرائی
پنچایت انسپکٹر سمیت 5افراد زخمی
سمت بھارگو
راجوری//راجوری کے سندر بنی علاقے میں ایک گرام سبھا کے دوران تصادم آرائی ہوگئی جس کے نتیجہ میں محکمہ دیہی ترقی کے پنچایت انسپکٹر سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ یہ واقعہ سندر بنی کے پراٹ علاقے میں پیش آیاہے ۔ذرائع کے مطابق سندر بنی کی پنچایت پراٹ کے محلہ رگا کیلئے حال ہی میں دس لاکھ روپے کا ایک پروجیکٹ منظور ہوا اور بی اے ڈی پی کے اس پروجیکٹ کے تحت سڑک تعمیر کی جانی ہے ۔ذرائع نے بتایاکہ سڑک کی تعمیر پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے مقصد سے ایک گرام سبھا منعقد کی گئی جس کی صدارت محکمہ دیہی ترقی کے پنچایت انسپکٹر نصیب سنگھ کررہے تھے ۔تاہم اس دوران توتومیں میں کے بعد دو گروپوں کے درمیان لڑائی ہوگئی جو پروجیکٹ کو اپنے حق میں چاہتے تھے ۔ ذرائع نے بتایاکہ تصادم آرائی کے دوران محکمہ دیہی ترقی کی ٹیم پر بھی حملہ کیاگیا جس پر اگرچہ دیگرملازم بھاگ گئے تاہم پنچایت انسپکٹر نصیب سنگھ کی مار پیٹ کی گئی ۔ ان کے علاوہ دونوں گروپوںسے دیگر چار افراد بھی زخمی ہیوئے ہیں جن کو سب ضلع ہسپتال سندر بنی منتقل کیاگیاجہاںسے انہیں مزید علاج کیلئے گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں بھیجاگیاہے ۔زخمیوں کی شناخت پنچایت انسپکٹر نصیب سنگھ ، طارق حسین ، شمیم اختر ، نذیرہ بیگم اور آشا بیگم کے طور پر ہوئی ہے ۔پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی ہیں ۔
ممبراسمبلی راجوری کا دورہ ٔ دسل کرایاں
منیر خان
راجوری//ایم ایل اے راجوری چودھری قمر حسین نے دسل کرایاں میں عوامی دربار منعقد کرکے عوام کے مسائل سنے ۔ اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ریاستی سرکار ترجیحاتی بنیادوں پر عوامی مشکلات کے ازالہ کے لئے کام کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سابق سرکارنے رجوری کے پسماندہ دور دروز علاقوں کو یکسر نظر اندازکیا ہواتھا جس کی وجہ سے عوام پانی اوربجلی جیسی بنیادی ضروریات سے محروم رہے ۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ انتخاب راجوری کے ہر فرد کو اس کا بنیادی حق اس کے گھر تک پہنچایاجائے گا ۔ انہوںنے دعویٰ کیا کہ آج راجوری حلقہ انتخاب کاکوئی بھی گاؤں ایسانہیں جہاں سڑک ،پانی اور بجلی جیسی اہم اور ضروری سہولیت فراہم نہ کی گئی ہو۔ان کاکہناتھاکہ گاؤں دیہات میں عوام کو جمع کرنے کا ایک ہی مقصد ہے تاکہ سرکاری ملازمین کو جوابدہ بنایاجائے اور عوام کی مانگوں کو عملی جامہ پہنایا جائے ۔ انہوںنے اس موقعہ پر لوگوں کو یقین دلایا کہ کرایاں دسل کی عوام کو ہر ممکنہ سہولیت فراہم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیںگے ۔
پروین سرور خان احمد پٹیل سے ملاقی
نئی دہلی //آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ممبر نامزد ہونے کے بعد پروین سرور خان نے سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل سے نئی دہلی میں ملاقات کرکے انہیں خطہ پیر پنچال کے عوامی مسائل سے روشناس کروایا ۔یہاں جاری بیان کے مطابق پروین سرور خان نے کانگریس کے82ویں سیشن میں شرکت کی جس کے بعد انہوںنے سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل سے ملاقات کرکے خطہ پیرپنچال کے مسائل سے روشناس کروایا۔انہوںنے کہاکہ اس خطے میں حالات بہت زیادہ خراب ہیں اور حکومت خاموش بیٹھی ہوئی ہے ۔انہوںنے کہاکہ بات چیت کرکے فائرنگ بند کروائی جائے یاپھر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیاجائے تاکہ آئے روز ہلاکتوں کاسلسلہ رک سکے ۔انہوںنے کہاکہ کشیدگی کی وجہ سے بچوں کی تعلیم متاثر ہورہی ہے جن کیلئے محفوظ جگہوں پر ہوسٹل تعمیر کئے جائیں ۔انہوںنے کہاکہ بالاکوٹ کے لوگوں کو چھ ماہ کا راشن مفت دیاجائے کیونکہ انہیں فصل اگانے کا موقعہ ہی نہیں مل سکا۔انہوںنے بتایاکہ مقامی سطح پر بنیادی سہولیات کافقدان ہے ۔احمد پٹیل نے یقین دلایاکہ وہ اس سلسلے میں ہائی کما ن سے بات کریںگے ۔
پیر پنچال عوامی پارٹی کا اجلاس
سرحد کے آر پار ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار
حسین محتشم
پونچھ//جموں و کشمیر پیر پنچال عوامی پارٹی کا ایک اجلاس زیر صدارت ریاستی صدر ایڈووکیٹ محمد یونس چوہان منعقد ہوا۔اس اجلاس کے دوران مقررین نے بالاکوٹ سیکٹر میں پاکستانی گولہ باری کی وجہ سے لقمہ اجل ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا ۔انہوں نے پر زور الفاظ میں اس سانحہ کی مذمت کی۔اس دوران خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے ریاستی صدر ایڈووکیٹ چوہدری محمد یونس چوہان نے وزیر اعظم ہند نریندر مودی و انکے پاکستانی ہم منصب سے اپیل کی کہ وہ بے گناہ شہریوں کا حدِ متارکہ کے دونوں اطراف قتل و غارت بند کریں اور بات چیت کی راہ ہموار کریں۔انہوں نے کہا کہ حدِ متارکہ کے ہر دو جانب وہاں رہائش پذیر باشندگان کشیدگی کی پالیسی سے تنگ آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا چونکہ بے گناہ و معصوم شہریوں کہ ہلاکت آئے دن بڑھتی جا رہی ہے اس لئے ہندو پاک حکومتوں کو اپنی فوجوں پر لگام ڈالنی چاہئے۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے سربراہان سے اپیل کی کہ وہ کشیدگی کی پالیسی ترک کرکے جلد از جلد بات چیت شروع کریں۔انہوں نے مزید دونوں ممالک کے دانشوروں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنی اپنی حکومتوں کے سربراہان کو اسر و رسوخ میں لاکر بات چیت کا عمل شروع کروائیں۔انہوں نے کہا چونکہ بالاکوٹ سانحہ کس میں ایک ہی کنبہ کے پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں ہر عقل مند اور با شعور انسان کی آنکھیں کھول دینے والا ہے۔انہوں نے ہلاک شدگان کے لواحقین کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار اور متوفیوں کے لئے دعائے مغفرت کی ۔
راجوری کے نوجوان پر پی ایس اے نافذ
جموں//پولیس نے راجوری کے ایک بدنام زمانہ مجرم کوباربارچوری کی واردات میں شامل ہونے کی پاداش میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتارکیاہے۔ایس ایس پی راجوری کے مطابق ملزم کی شناخت سنی شرماکے طورپرہوئی ہے اوراس کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیاگیااورضلع مجسٹریٹ راجوری کے احکامات کے بعد کوٹ بھلوال جیل جموں منتقل کیاگیاہے۔ انہوں نے کہاکہ راجوری پولیس سٹیشن کے سب انسپکٹراعجازمرزانے عملایا ،ملزم پولیس سٹیشن راجوری میں درج 7کیسوں میں ملوث تھا۔اسے متعددبار سماج دشمن سرگرمیوں جن میں چوری اورنقب زنی کی واردات ملوث تھاجس کی وجہ سے امن وامان کی صورتحال ،انسانی جانوں اورعوامی اثاثوں کوخطرہ لاحق تھا ۔ایس ایس پی نے لوگوں سے کہاہے کہ وہ سوشل میڈیا کامثبت طوراستعمال کریں نہ کہ اس کے ذریعے نفرت پھیلائی جائے۔
مینڈھر کیلئے اے ڈی سی پوسٹ کی منظوری کا مطالبہ
جا وید اقبال
مینڈھر//مینڈھر کے لوگوںنے حکومت سے مانگ کی ہے کہ اس علاقے کے جغرافیائی خدوخال اور آبادی کو دیکھتے ہوئے یہاں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پوسٹ دی جائے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ مینڈھر کا زیا دہ تر علا قہ سر حدپر واقع ہے اور زور بروز فا ئر نگ اور گو لہ با ری کی وجہ سے لوگوں کو ہرروز متاثر ہوناپڑتاہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات خر اب ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کے کام کاج بھی نہیں ہورہے ۔انہوںنے کہاکہ لوگوں کے مسائل اور جغرافیائی خدوخال کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر مینڈھر کیلئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی پوسٹ کی منظوری دی جائے ۔انہوںنے کہاکہ جب حالات خراب ہوتے ہیں تو پونچھ کی انتظامیہ مینڈھر نہیں پہنچ پاتی اور مقامی انتظامیہ کیلئے ان حالات کاسامنا کرنا مشکل ہوجاتاہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ مینڈھر تین تحصیلوں پر مشتمل ہے جبکہ سب ڈیویژن میں سات نیا بتیں ہیں ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ وہ پرامن طریقہ سے اپنی مانگ اجاگر کررہے ہیں اور حکومت کو احتجاج شروع کرنے سے قبل ہی ان کا یہ جائز مطالبہ پورا کرناچاہئے ۔ انہوںنے کہاکہ اگر راجوری پونچھ میں اے ڈی سی پوسٹ کیلئے سب سے مستحق کوئی علاقہ ہے تو وہ مینڈھر ہے جہاں سے پونچھ جانے کیلئے تین سے چار گھنٹے لگ جاتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ حکومت نے کچھ ایسی جگہوں پر بھی ایڈیشنل ڈی سی تعینات کئے ہیں جہاں ضرورت نہیں تھی اور مینڈھر جیسے دور دراز اور سرحدی علاقے کو نظرانداز کیاہے ۔
سرحدی کشیدگی باعث تشویش
پاکستانی حکومت سے بات چیت پر زور
جا وید اقبال
مینڈھر//بالاکوٹ یو تھ کلب کے چیئر مین ما جد کھٹا نہ نے سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پاکستانی حکومت سے بات چیت کرکے گولہ باری کا سلسلہ بند کروایاجائے ۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کٹھانہ نے کہاکہ تین رو ز قبل گولہ باری سے بالاکوٹ میں ایک ہی کنبے کے پانچ افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ دو بچیاں گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں میں موت و حیات کی کشمکش میں ہیں ۔ انہو ں نے کہا کہ اس وقت تک مر کز کی جانب سے کسی بھی وزیر نے علا قہ کا دورہ نہیں کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جمو ں کے سر حدی علا قو ں میں صرف فا ئرنگ ہوتی ہے تو بہت سارے وزرا ء دوڑ کر پہنچ جاتے ہیں لیکن مینڈھر کے لوگ بھی انسان ہی ہیں اور ان کا خون بھی انسانی خون ہے ۔انہوںنے مرکزی حکومت پر زور دیاکہ فوری طور پر پاکستان سے بات چیت کرکے گولہ باری کے سلسلے کو بند کروایاجائے اور اگر ایسا نہیں کیاجاسکتاتو پھر سیدھا اعلان جنگ کیاجائے تاکہ باقی بچ جانے والے لوگ تو آرام کی زندگی بسر کرسکیں ۔ انہوںنے کہاکہ اس سرحدی کشیدگی کی وجہ سے راجوری پونچھ کے لوگ سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں اور انسانی جانیں تلف ہورہی ہیں جبکہ لوگوں کو بھاری مالی نقصان کاسامناکرناپڑرہاہے ۔