سرنکوٹ //سرنکوٹ میں نوجوانوںنے پہاڑی طبقہ کو دی گئی ریزرویشن پر عمل درآمد کرانے اور سب ڈیویژن کو ضلع کادرجہ دینے کی مانگ پر احتجاج کیا ۔مقامی لوگوںنے بڑی تعداد میں جمع ہوکر ریاستی حکومت اور گورنر کے خلاف نعرے بازی کی ۔ انہوںنے کہاکہ اگر شوپیاں جیسے چھوٹے سے علاقے کو ضلع بنایاجاسکتاہے تو پھر سرنکوٹ کو کیوں نہیں جس کی سرحدیں ایک طرف کشمیر خطے سے ملتی ہیں اور دوسری طرف ضلع راجوری سے ۔ان کاکہناتھاکہ سرنکوٹ کے جغرافیائی خدوخال اور آبادی کو دیکھتے ہوئے اس علاقے کو ضلع کادرجہ دیاجائے کیونکہ یہ علاقہ اس کیلئے مستحق ہے ۔ نوجوانوںنے کہاکہ ریاستی گورنر کی طرف سے پہاڑی قوم کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیاگیاہے اور وہ یہ بات برداشت نہیں کریںگے کہ باربار ان کی فائل کسی کے کہنے پر اعتراضات کرکے واپس بھیج دی جائے ۔ انہوںنے کہاکہ پہلے تین فیصد کا جھانسا دیکھ کرکھلواڑ کیاگیا اور اب گورنر کی طرف سے فائل پر اعتراضات سے زخموں پر نمک پاشی کی گئی ہے ۔دریں اثناء پنتھرز پارٹی کے ضلع صدر اشفاق رانا کی قیادت میں بھی احتجاج کیاگیاجس دوران کارکنان نے مانگ کی کہ سرنکوٹ کو ضلع کادرجہ دیاجائے جو ایک وسیع علاقہ ہے ۔انہوںنے کہاکہ سرنکوٹ کی سرحدیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں اور یہاں کے لوگوں کو پونچھ پہنچنے کیلئے کئی گھنٹے لگتے ہیں ۔
پہاڑی ریزرویشن پر اعتراضات
گورنر پر جان بوجھ کر رکاوٹیں کھڑی کرنیکا الزام
جاوید اقبال
مینڈھر//مینڈھر کے پہاڑی طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوںنے ریاستی گورنر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ جان بوجھ کر پہاڑی طبقہ کو دی گئی ریزرویشن کی فائل میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب پہاڑی طبقہ کے لئے ریزرویشن کا بل کابینہ اور اس کے بعد اسمبلی سے بھی پاس ہوگیا تو پھر اس میں اعتراضات کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کیونکہ ایوان سے بالاتر کوئی ادارہ نہیں ۔انہوںنے کہاکہ افسوسناک امر ہے کہ پہاڑی طبقہ کی فائل کو اعتراضات کے ساتھ واپس کردیاگیاہے ۔ماسٹر عنایت اللہ خان،محمد اعظم فانی،حاجی خورشید میر ،حاجی محمد صادق خان اور ظہیر خان نے ریاستی گورنر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گورنر کو یہ حق نہیں کہ اسمبلی سے پاس کئے گئے بل کو واپس بھیجیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستی گورنر جان بوجھ کر ایساکررہے ہیںاور یہ پہاڑی قوم کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ ہے ۔ان کاکہناتھا کہ اگر کشمیر کی طرح خطہ پیر پنجال کے حالات خراب ہوئے تو اس کی ذمہ د اری ریاستی گورنر پر عائد ہو گی ۔ان کاکہناتھاکہ اس بار بھی بل کو منظوری نہ ملنے کے خلاف پہاڑی طبقہ سڑکوں پر اتر آئے گی اور بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوںگے ۔انہوںنے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ گورنر سے بات چیت کرکے اس مسئلہ کا حل نکالیں اور پہاڑی طبقہ کو احتجاج کیلئے مجبور نہ کیاجائے ۔انہوںنے کہاکہ طبقہ کے ساتھ یہ دوسری مرتبہ کھلواڑ ہواہے اور اب بات برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ تین فیصد ریزرویشن کے بعد ایس ٹی کادرجہ دیاجائے جو طبقہ کی دیرینہ مانگ ہے ۔
Contents
پہاڑی ریولشنری مومنٹ کا حکومت کو انتباہ
جاوید اقبال
مینڈھر//جموں وکشمیر پہاڑی ریولشنری مومنٹ نے پہاڑی ریزرویشن بل کو التوا کاشکا ربنائے جانے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس حوالے سے وہی لوگ رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں جو خود ریزرویشن اور شیڈیول ٹرائب کافائدہ لے رہے ہیں ۔تنظیم کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ مظہر علی ، ایڈووکیٹ تبریز خان اور رضوان خان نے کہاکہ قانون سازیہ کے دونوں ایوانوںسے بل پاس کرنے کے بعد اسے گورنر نے التواکاشکار بنادیاہے اور ایسے لوگ اپنا اعتراض پیش کررہے ہیں جو خود ریزرویشن سے فیضاب ہیں اور شاہانہ زندگی بسر کررہے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ پہاڑی طبقہ کو بھی انہی مسائل اور مشکلات کاسامناہے جو گوجر طبقہ کو ہیں اور حکومت کی طرف سے دونوں طبقوں کے ساتھ الگ الگ سلوک کیاجانا افسوسناک ہے ۔انہوںنے کہاکہ پہاڑی طبقہ کے ساتھ پچھلے پچیس سال سے ناانصافی ہوتی آئی ہے جس کو مزید برداشت نہیں کیاجائے گا۔ انہوںنے مخلوط حکومت کو انتباہ دیاکہ اگر اس نے اس حوالے سے غفلت برتی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوںگے اور پہاڑی طبقہ کے پاس احتجاج کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہے گا۔