پونچھ//ہفتہ وار پونچھ راولاکوٹ راہِ مِلن بس سروس ہر ہفتہ کی طرح اس بار بھی پر کنٹرول لائن کے آر پار ہوئی۔ اس بار پونچھ سے راولاکوٹ جانے والی بس سے 19افراد پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو روانہ ہوئے جو سبھی پونچھ میں اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے بعد واپس اپنے وطن لوٹ گئے ۔اس دوران پونچھ سے کوئی بھی نیا مسافر پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو روانہ نہیں ہوا۔ ادھر پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے راولاکوٹ سے پونچھ پہنچی بس سے28مسافر اپنے رشتہ داروںسے ملاقات کیلئے یہاںآئے۔ پونچھ کا کوئی بھی مسافر پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے واپس نہیں لاٹا۔ مجموعی طور پر اس بار48 افراد نے کنٹرول لائن کے آر پار سفر کیا۔ مسافروں نے دوران سفربنیادی سہولیات نہ ملنے پر ناراضگی کا اظہارکرتے ہوئے دونوں حکومتوں سے اپیل کی کہ انہیں فون و دیگر سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوںنے کہاکہ پونچھ سپورٹس سٹیڈیم میں نہ ہی کوئی کینٹین ہے اورنہ ہی وہاں بیٹھنے کاکوئی انتظام جس کے نتیجہ میں وہ مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں۔پونچھ سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے علاقہ باغ کے رہنے والے سبط حسن کوچھے نے کہا کہ وہ ہندوپاک حکمرانوں کے مشکور ہیں جنہوں نے یہ سروس شروع کر کے بچھڑوں کو ملانے کا اقدام کیا ۔انہوں نے کہا کہ وہ دونوں حکومتوں کے حکمرانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس سفر کو آسان بنائیں اور اسے ضلع ترقیاتی کمشنر کے اختیار میں دیں تاکہ لوگ ان سے رابطہ کر کے خوشی اور غمی میں ایک دوسرے کے یہاں آسانی سے آ جا سکیں۔