کوٹرنکہ//کوٹرنکہ بدھل میں چھٹے روز عوام بدھل نے احتجاجی دھرناختم کردیا۔پانچ دن تک دھرنے میں سیاسی و سماجی تنظیموں سے وابستہ ذی شعور حضرات نے حصہ لیا ۔ مظاہرین نے بدھل سے تحصیلدارکوہٹانے پر سرکار کو ہدف تنقیدبنایااوراسیبد قسمتی سے تعبیر کیا ۔انہوں نے کہاکہ سرکار نے ایک حکمنامہ جاری کر کے 2014 میں بدھل میں تحصیلدار بیٹھایا تھا لیکن نہ جانے کیوں اس کو واپس اٹھا لیا اور آج ستر سال کے بعد بھی بدھل کو انصاف نہیں ملا۔ مظاہرین نے کہا کہ جو لوگ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں انہیں سرکار ایڈیشنل ڈیپٹی کمیشنر دیتی ہے اور جو ہندوستان زندہ باد کہتے ہیں انہیں تحصیلدار تک نہیں دیا جاتا۔ کیا ہمارے ہندوستانی ہونے پر کوئی شبہ ہے۔ جائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوٹرنکہ شفیق احمد کی یقین دہانی کہ بعد جائنٹ ایکشن کمیٹی نے یہ فیصلہ لیا دس دن تک ہڑتال کو ملتوی کر دیا جاے اگر دس دن میں کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تو ہڑتال دوبارہ کی جاے گی۔ شفیق احمد چوہدری نے مظاہرین سے گزارش کی آپ دس دن ہڑتال کو ملتوی کیجئے آپ کا مسئلہ سرکار تک پہنچ چکا ہے اور انشااللہ دس دن تکتحصیلدار بدہل بیٹھ جائے گا۔کہ بدھل ایکشن کمیٹی نے کہا کہ ہم ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے کہنے پر دس دن تک ہڑتال کو ملتوی کرتے ہیںاور سرکار پر ہمیں پورا بھروسا ہے یقینا! دس دن میں ہمارا معاملہ حل ہو جاے گا۔