ڈوڈہ//ڈوڈہ میں محکمہ صحت عامہ میں کام کرنے والے ان عارضی ملازمین نے اپنے مطالبات کو لے کر احتجاج کیا محکمہ صحت عامہ کو اراضی وقف کرنے کے عوض تعینات ہونے والے ملازمین کا الزام ہے کہ 2014میں تعینات ہونے کے بعد اُن کو صرف چھ ماہ کی تنخواہ ملی اور اب چالیس ماہ گذرنے کے باوجود تنخواہ نہ ملی ہے۔ ان لوگوں کا یہ بھی الزام ہے کہ اراضی وقف کرنے سے عوض ملازمت لگانے کے لئے تقریباً سو اُمیدواروں کے کاغذات مکمل ہیں اور اُن کی تقرریوں کے لئے احکامات جاری کرنے میں غیر ضروری تاخیر کی جارہی ہے۔ ان لوگوں کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ اُن کو تعینات کرتے وقت مستقل ملازمت فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا گیا ہے مگر پانچ برس مکمل ہونے کو آرہے ہیں مگر تاحال مستقل کرنے کے حوالہ سے کوئی اقدامات نہ کرنا قابل افسوس ہے۔ احتجاج کرنے والے ملازمین کا کہنا تھا کہ وہ ایک مستقل ملازم کی طرح کام کرتے ہیں اور ہماری سروسز اہم ہے جس کے ایک روز بند رہنے سے کہرام مچتا ہے مگر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ 4500/-روپیہ ماہوار پانے والے ملازمین کو اگر چالیس ماہ سے تنخواہ نہ مل رہی ہے تو اُن کے گھروں کی حالت کیا ہوگی اور یہ بدترین انسانی حقوق کی پامالی ہے اور حکومت کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور ہمارے تینوں جائز و تسلیم شُدہ مطالبات کو جلد سے جلد پورا کرکے ہمارے اہل خانہ کو فاقہ کشی سے بچانا چاہئے۔ اس موقعہ پر صدر لینڈ کیس پی ایچ ای ایمپلائز ایسوسی ایشن ڈوڈہ بھلیسہ گندو پریتم سنگھ کو توال ، ایجاز احمد لون، بشیر احمد لون، امرجیت سنگھ، منجیت سنگھ، غلام حسن ، رویندر کمار، کیول کرشن، رنجیت سنگھ ، وکرم کمار ، جاوید احمد گوجر نے میڈیا کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اپنی حالت سے آگاہ کراتے ہوئے صاف کیا کہ انصاف نہ ہوا تو وہ سڑکوں کا رخ کریں گے جس کی تمام ذمہ داری حکومت کی ہوگی۔