جموں//پشو ، بھیڑ پالن و ماہی پروری کے وزیر عبدالغنی کوہلی نے کہا ہے کہ حکومت ریاست میں خانہ بدوش آبادی کے جائیز مطالبات پورا کرنے کی وعدہ بند ہے اور اُن کی سماجی و اقتصادی حالت میں بہتری لانے کیلئے کئی اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ ان باتوں کا اظہار وزیر موصوف نے سابق ایم ایل سی چودھری نظام الدین کھٹانہ کی قیادت میں اُن سے ملنے آئے ایک وفد کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا ۔ سانبہ ، ریاسی ، راجوری ، پونچھ ، رام بن اور کالا کوٹ سے تعلق رکھنے والے کئی دیگر وفود بھی وزیر سے ملاقی ہوئے اور انہیں اُن مسائل کے بارے میں جانکاری دی جو انہیں موسمِ گرما کے دوران وادی کے بالائی علاقوں میں ہجرت کے دوران درپیش آتے ہیں ۔ وزیر نے اُن کے مطالبات غور سے سُنے اور ان مسائل پر ہمدردانہ غور کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ کوہلی نے کہا کہ حکومت کشمیر اور لداخ کے کئی خطوں میں آنے والے گجر ، بکروال طبقے کے لوگوں کے مسائل سے پوری طرح باخبر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی اس طبقے کے لوگوں کیلئے مائیگرنٹ سکول قایم کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ خانہ بدوشوں کے مال مویشیوں کے انشورنس کا معاملہ متعلقین کے ساتھ اٹھائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ خانہ بدوش لوگوں اور اُن کے مویشیوں کو بہتر طبی سہولیات بہم پہنچانے کیلئے بھی خاطر خواہ اقدامات کئے جائیں گے ۔ اس موقعہ پر متعلقہ محکموں کے کئی اعلیٰ افسران بھی موجود تھے ۔ دریں اثناء وزیر موصوف سے سکاسٹ یونیورسٹی جموں کے ویٹرنری ٹیچرز و سائنسدانوں کا ایک وفد بھی ملاقی ہوا جس کی قیادت ایسو سی ایشن کے صدر ڈاکٹر ایس کے کھانڈی کررہے تھے ۔ وفد نے جموں میں ویٹرنری یونیورسٹی کے قیام پر زور دیا ۔اس دوران دیگر کئی مطالبات بھی اجاگر کئے گئے ۔ وفد میں ڈاکٹر مندیپ سنگھ آزاد نائب صدر اور پبلسٹی سیکریٹری ڈاکٹر ناظم خان بھی موجو دتھے ۔