ڈوڈہ//ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن ڈوڈہ کے سابق نائب صدر ایڈوکیٹ شعیب امان خان نے ایک بار پھر جموں بار ایسوسی ایشن جموں کی طرف سے نام نہاد بے بنیاد مطالبات کو لے کر جموں بند کے لئے دی جانے والی کال کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پیشہ وارانہ اور ذمہ دار ادارے کے طور بار ایسوسیشن جموں توی کو معصوم آصفہ کے ساتھ ہونے والے ظلم و بربریت پر سپیڈی ٹرائل کا مطالبہ کرتے ہوئے قصور واروں کے خلاف سخت سزا کا مطالبہ کرنا چاہے تھا مگر اُنہوں نے بر خلاف اس کے ملزمان کو بچانے کے لئے غیر اخلاقی اور غیر ذمہ دارانہ مطالبہ شروع کرکے قصور واروں کو قانونی کاروائی سے بچانے کے لئے معاملہ کو غلط رنگ دینا شروع کیاہے۔ شعیب امان خان نے کہا کہ 2009میں شوپیاں میں نیلوفر اور آصفہ کے بیہمانہ قتل اور عصمت دری کے واقعہ کا تاحال کوئی نتیجہ سامنے نہ آنے سے لوگوں کا سرکار سے اعتماد اُٹھ گیا ہے ،جو موجودہ حالات کے ذمہ دار ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں سیول سوسائٹی کے بعض طبقوں کی طرف سے بار ایسوسی ایشن جموں کی حمایت بھی افسوس ناک ہے اُن کو معصومہ آصفہ معاملہ میں اسی طرح احتجاج کرنا چاہئے تھا جس طرح دہلی میں ہوا تھا۔ اسی طرح روہنگیانی معاملہ میں غلط اور مذہبی نعرہ بازی ایک صاف اور واضح پیغام ہے کہ آصفہ معاملہ کی CBIانکوائری ،روہنگیانی مسلمانوں کو جموں سے نکال دینا اور قبائل طبقہ سے وابستہ لوگوں کو زبر دستی سینکڑوں برسوں کی آبادی کے حقوق سے محروم کرنا جیسے مطالبات کے پس پردہ اور کچھ ہے اور وہ صاف ہے کہ یہ آنے الے اسمبلی و پارلیمانی انتخابات کے لئے لوگوں کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرکے ایک بار پھر اقتدار کی گدی سنبھالنا ہے کیونکہ یہ لوگ حالیہ اقتدار کے دوران مکمل ناکام ہوئے ہیں۔ ایڈوکیٹ شعیب امان خان نے یہ بھی کہا کہ مذہبی جذبات بھڑکانے والوں کا مذہب سے دور کا واسطہ نہ ہے اور جموں بار ایسوسی ایشن میں بھی صرف BJPاور RSSسے وابستہ طبقہ اس ہڑتال کی حمایت کرتا ہے جبکہ جموں بارایسوسی ایشن و مضافات میں اکثریت اس احتجاج کے خلاف ہے اسی طرح خطہ چناب و خطہ پیر پنچال میں نہ صرف وکلاء برادری بلکہ سیول سوسائٹی اور عام لوگوں میں بار ایسوسی ایشن ضلع جموں کے خلاف سخت ناراضگی اور غم و غصہ پایا جاتا ہے اور ہم کسی بھی طور صوبہ جموں کو فرقہ وارانہ آگ میں جھلسنے نہیں دیں گے ۔شعب امان خان نے جموں میں بعض خواتین کی طرف سے ننھی آصفہ کو انصاف دلانے کے حق میں اُٹھنے والی آواز کے لئے اُن بہادر خواتین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے تمام خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ بلا لحاظ مذہب و ملت رنگ و نسل محض معصوم مظلوم بچی کو انصاف دلانے کے لئے آواز اُٹھائیں اور سیاسی مقاصد کے لئے سماج کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے والوں کے خلاف ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے میدان میں کود جائیں۔ اُنہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو ہم بھی احتجاج کرسکتے ہیں۔