این ایچ ایم ایمپلائز ایسوسی ایشن یونٹ ڈوڈہ کی تعزیتی میٹنگ
ڈوڈہ//آل جے کے این ایچ ایم ایمپلائز ایسوسی ایشن ڈسٹرکٹ یونٹ ڈوڈہ نے جمعرات کو ایک تعزیتی میٹنگ منعقد کی جس میں سونیکا ورما اور مونیکا ورما کے چھوٹے 20سالہ بھائی شیوم ورماکی مختصر کھٹوعہ میں بیماری کے بعدموت پر تعزیت کا اظہار کیا۔ضلع صدر این ایچ ایم ایمپلائز اسوسی ایشن ڈوڈہ فیضان احمد ترامبونے ایک تعزیتی بیان میں شیوم کی اچانک موت پر تعزیت اور کنبہ خصوصی طور سے سونیکا اور مونیکا کے ساتھ ہمدردی کا اظہا ر کیا ۔ایسوسی ایشن نے شیوم ورما کی موت خاندان کیلئے ایک بڑا نقصان قرار دیا۔انہوں نے دعا کی کہ مرحوم کی روح کو سکون ملے اور کنبہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔اس موقعہ پر ڈاکٹر حمید پرے ،مسعود لطیف،ڈاکٹر ناصر اندرابی، ڈاکٹر حسام الدین ،اشوک شان ،شبیر احمداور محمد رفیق موجود تھے ۔اس دوران ضلع ڈوڈہ کی تمام بلاک یونینوںنے شیوم ورما کی موت پر اظہار تعزیت کیا اور مرحوم کی روح کو سکون ملے کیلئے دعا کی۔
بی جے پی کا اُپواس فقط ایک جملہ ہے: بھنڈاری
کشتواڑ//یوتھ کانگریس ایل وائی سی ترجمان ٹھاکور رندیپ بھنڈاری نے بی جے پی کی جانب سے ریاست جموں و کشمیر میں اُپواس منعقد کرنے کی سخت مذمت کی ہے اور اسے ایک سیاسی چال سے تعبیر کیا ہے،جو کہ وہ اپنی ناکامیوں کو چھُپانے کے لئے کررہے ہیں۔بھنڈاری نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ جے اینڈ کے کا عوام مرکز اور ریاست میں بی جے پی کی کارکردگیوں سے تنگ آچُکے ہیں۔انہوں نے وزیر اعظم کے دفتر میں تعینات مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور ممبر پارلیمنٹ جگل کشور کوکانگریس پر انگلی اُٹھانے سے قبل اپنے رپورٹ کارڈ کا مشاہدہ کرنے کو کہا ۔انہوںنے مزید کہا کہ جن ووٹران نے انکو ووٹ دئے ہیں، اب انکو احسا س ہو گیا ہے کہ انہوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔بھنڈاری نے بی جے پی پر لوگوں کو بانٹنے کا مبینہ الزام لگایا اور کہا ہے کہا ب انکی مدت کا تھوڑا ہی وقت رہ گیا ہے اور لوگ انکو بہت جلد سبق سکھائیں گے۔
لاپتہ خاتون بازیاب
کشتواڑ//پولیس نے کافی محنت کے بعد ایک لاپتہ خاتوں کو بازیاب کیا ہے،بازیاب کرنے کے بعد خاتوں کو اپنے کنبہ کے ساتھ ملایا گیا ہے۔پولیس بیان کے مطابق پولیس پوسٹ مغل میدان کو ایک شکایت موصول ہوئی تھی ،جس میں لاپتہ ہوئی خاتون کے خاوند نثار احمد ساکنہ شیخ پورہ، دوربیل تحصیل مغل میدان نے اپنی بیوی کے لاپتہ ہونے کی ایک رپورٹ درج کرائی تھی۔پولیس پوسٹ مغل میدان میں اس رپورٹ پر ایک معاملہ درج کیا گیا ۔ پولیس پوسٹ مغل میدان کے انچارج ایس آئی ارون بھگت کی قیادت میں ایک ٹیم نے زیر نگرانی ایس ایچ او چھاترو انسپکٹر بشیر احمد مختلف مشتبہ مقامات پر چھاپے مارے ۔ پولیس نے کافی جد و جہد کے بعد لاپتہ خاتون کوبازیاب کرنے کے بعد تمام قانونی لوازمات پُر کرنے کے بعد اسے اپنے کنبہ کے ساتھ ملایا ۔
مویشی سمگلنگ کے الزام میں دو گرفتار
ریاسی //ضلع میں مویشیوں کی سمگلنگ میں ملوث دو مبینہ سمگلران کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس بیان کے مطابق پولیس نے ریاسی میں د ومبینہ ملزمان کو روکا جو ریاسی علاقہ سے 13 مویشیوں کو سمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔پولیس نے دونوں مبینہ ملزمان کو موقعہ پر ہی گرفتار کیا اور تمام مویشیوں کو بازیاب کیا ۔مبینہ سمگلروں کی پہچان لیاقت علی کھٹانہ اور محمد شریف کھٹانہ ساکناں کشمیر کے بطور کی گئی ہے۔پولیس نے اس سلسلہ میں ایک معاملہ درج کرکے مزید کاروائی شروع کر دی ہے۔
شادی کے چند گھنٹے قبل دوشیزہ کا اغوا
ایم ایم پرویز
رام بن//رام بن سے ایک سنسنی خیز واقعہ میں ایک دلہن کو شادی کے چند گھنٹے قبل اغوا کرنے کی ایک اطلاع موصول ہوئی ہے۔ رام بن پولیس کے مطابق ایک نوجوان محمد امین ساکنہ موضع واگن نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو ایک دوشیزہ کے اغوا ہونے کی ایک رپورٹ درج کرائی ہے۔مغویہ اور اغوا کا ر دونوں کا پولیس کو ابھی تک کوئی اتہ پتہ نہیں چلا۔ایس ایچ او پولیس اسٹیشن رام بن انسپکٹر اجے بھٹ نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ایک دلہن بننے والی دوشیزہ کو شادی انجام دینے سے چند گھنٹے قبل ایک محمد امین نے اغوا کیا ۔پولیس نے مغویہ کے والدین کی تحریری شکایت پر زیر ایف آئی آر 50/2018 زیر دفعہ 366/109 آر پی سی اغوا کار اور اسکے دو ساتھیوں حیات علی اور شاکر احمد کے خلاف ایک معاملہ پولیس اسٹیشن رام بن میں درج کیا ہے۔پولیس اسٹیشن رام بن میں مغویہ کو بازیاب کرنے کے لئے ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔
وادی نیل کو سیاحتی نقشے پر لانے کی مانگ
بانہال//بانہال کے عوام نے ریاستی سرکار سے وادی نیل کو سیاحتی نقشے پر لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک پریس بیان میں وادی کے عوام نے ایک دفعہ پھر سے سرکار کی نقطہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ہر بار الیکشن کے وقت تحصیل بانہال کے باشندوں کو سبز باغ دکھا ئے جاتے ہیں اور الیکشن کے بعدجب حکمران اپنی کرسی سنبھالتے ہیں تو پھر وہ عوام کے ساتھ کئے گئے وعدے بھول جاتے ہیں،یہاں تک کہ خواب غفلت میں بھی انہیں یہ وعدے یاد نہیں آتے ۔جہاں تک نیل ٹاپ کی خوبصورتی کا سوال ہے، یہ گلمرگ اور پہلگام سے کم نہیں ہے ۔نیل ٹاپ بانہال کے تحصیل ہیڈکواٹر سے 30کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔اس کے دامن میں سرسبز جنگلات ہیں اور پہاڑی کے دونوں اطراف چملواس اور نیل جیسے خوبصورت علاقے ہیں ۔چملواس جس کو جموں کا شوپیاں کہا جاتا ہے ، قدرتی مناظر سے مالا مال ہے ،وہیں دوسری طرف نیل کی بات اگر کی جائے یہ وادی سارا سال سرسبز رہتی ہے ۔یہاں کے دلکش مناظر بیمار کو قرار بخشنے میں دوائی کا کام کرتے ہیں۔بدقسمتی کی بات ہے کہ گُذشتہ تیس برس سے کئی سیاست دان نیل ٹاپ کا چکر لگاچکے ہیں اور یہا ںکے عوام کو کئی باریقین دلا چکے ہیں کہ اس وادی کو سیاحت کے نقشے پر لایا جائے گا لیکن یہا ں کے عوام کا انتظار ابھی تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔وادی نیل کے عوام نے ایک بار پھر سے سرکار سے اپیل کی ہے کہ ایک بار اس وادی کی طرف بھی انصاف کی نظر دوڑا کر یہاں کے عوام کادیرینہ خواب شرمندہ تعبیر کیا جائے۔ وادی نیل کو اگر سیاحتی نقشے پر لایا جائے تو اس سے وادی کے عوام کی ایک دیرینہ مانگ پوری ہوگی،نیز اس سے علاقہ کے لوگوں کی اقتصادی حالت میں بھی سدھار آئے گا۔
ہائی اسکول چملواس میں تدریسی عملہ کی قلت
بانہال//تحصیل بانہال کے علاقہ چملواس کے ہائی اسکول میں تدریسی عملہ کی کمی کی وجہ سے طلباء کا مستقبل دائو پر لگا ہوا ہے۔ کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے چملواس کے عوام نے کہا کہ اس ہائی اسکول میںتقریباً 300بچے زیر تعلیم ہیں جن کو تعلیم دینے کیلئے فقط 5اساتذہ تعینات ہیں ۔ علاقہ کے مکینوں کا کہناہے کہ ہائی اسکول میں فقط 5 اساتذہ ہونے سے تدریسی کام متاثر ہوا ہے۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے بھی ضلع انتظامیہ کے سامنے اس مسلے پر بات کی اور انتظامیہ نے مسلے کو فوری طور پر حل کرنے کی یقین دہانی بھی کی لیکن ابھی تک مسلہ جوں کا توں بنا ہوا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ عملہ کی کمی کی وجہ سے اُنکے بچوں کا مستقبل برباد ہو رہا ہے ۔عوام نے متعلقہ حُکام سے کہا ہے کہ ہائی اسکول چملواس کیلئے اساتذہ کی مزید تعیناتی کو یقینی بنایا جائے،تاکہ علاقہ کے طلاب کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
بٹوت میںبے روزگاری سنگین حد تک بڑھ گئی
مقامی لوگوں کی حکومت سے روزگار مہیا کرانے کی اپیل
ارشد کاظمی
بٹوت//کچھ عرصہ قبل کارو باری لحاظ سے اقتصادی طور خوش حال تحصیل بٹوت کے عوام کو موجودہ وقت میں بے روز گاری کے سنگین مسئلہ کا سامنا ہے۔ ایک لمبے عرصہ تک جموں سری نگر قومی شاہراہ پر مرکزی قصبے کی اہمیت کے حامل بٹوت تحصیل کے لوگ مقامی سطح پر مختلف کاروباری ذرائع سے منسلک ہوکر اپنے لئے روزگار پیدا کرتے آرہے تھے ۔کچھ لوگ جموں سری نگر شاہراہ پرمختلف اقسام کا کاروبارکر کے اپنے لئے روزگار کماتے تھے اورکچھ لوگ علاقے میں لمبے عرصہ سے زیر تعمیر رہے بڑے تعمیری منصوبوں میں محنت مشقت کر کے اپنی روزی روٹی کا بندوبست کرتے تھے مگریہ سلسلہ جموں سری نگر شاہراہ پر ناشری چنینی ٹنل کی تعمیرکی وجہ سے بٹوت کے شاہراہ سے کٹ جانے ا ورعلاقے میںزیر تعمیر رہے بڑے تعمیری منصوبوں کاتعمیری کام پایہ تکمیل پہنچنے پر ختم ہوگیاجس کی وجہ سے مختصر سے عرصہ میںبٹوت و گرد نواح کے علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں ہنر مند محنت کش اورتعلیم یافتہ طبقے کے لوگ اپنے روزگار کے ذرائع سے محروم ہوکرنئے روزگار کی تلاش کی کشمکش کی زندگی جینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے لوگوںکاکہنا تھا کہ وہ سنگین نوعیت کی بیروزگاری کے مسئلے سے دوچار ہیں مگر انتظامیہ و حکومت بیروزگاری کے سدباب کیلئے کوئی اقدام نہیں کررہی اورنہ ہی متبادل ذرائع فراہم کئے جارہے ہیں۔
راج گڑھ کے متعدد دیہات بنیادی سہولیات سے محروم
ایم ایم پرویز
رام بن//ضلع کے راج گڑھ تحصیل کے عوام نے آزادی کے70 سال سے ان علاقوں کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کی مبینہ شکایت کی ہے۔ان لوگوں نے کہا ہے کہ ان دور دراز علاقوں میں نہ تو سڑکوں کا رابطہ ہے، نہ ہی پینے کا پانی ہے اور نہ ہی بجلی کی سہولیت ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق تحصیل راج گڑھ کو وقت کی سرکاروں نے ہر شعبہ میں فراموش کیا ہے۔ان لوگوں کی شکایت ہے کہ انتخابات کے دوران سیاست دان ان کے علاقوں میں آتے ہیںاور انتخابات ختم ہونے کے ساتھ ہی رفو چکر ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران سیاست دان ان کے ساتھ بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں لیکن انتخابات ختم ہونے کے ساتھ ہی وہ اقتدارکا لطف لینے کیلئے اپنی رہائش ریاست کی دو راجدھانیوں میں منتقل کرتے ہیں۔ان کی یہ بھی شکایت ہے کہ ایسے بھی بہت سارے علاقے ہیں جہاں کی آبادی ہزاروں کی تعداد میں ہے لیکن مرکزی معاونت والی سکیم پی ایم جی ایس وائی کے باوجود ان کو سڑکوں کا رابطہ فراہم نہیں کیا گیا ۔کیمونٹی ہیلتھ سنٹر راج گڑھ ہالہ بغیر کسی اسپیشلسٹ ڈاکٹر کے ہے اور نیم طبی عملے کی بھی کمی ہے ۔ویسا ہی حال ہائر سیکنڈری سکول راجگڑھ، ہائی سکول گنوٹ کا ہے،جہاں پر تدریسی عملے کی قلت ہے۔ان لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض دیہات میں پینے کے پانی کی سخت قلت ہے۔انہوں نے انتظامیہ سے ان علاقوں میں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے، تاکہ ان علاقوں کے لوگوں کی پریشانیوںکا ازالہ ہو۔
سڑک کی خستہ حالی سے ہلر و پوہی کی عوام برہم
نمائندہ عظمیٰ
کشتواڑ// ضلع میں بہتر سڑکوں کے رابطہ کے بلند بانگ دعوئوں کے باوجود ضلع کی بیشتر سڑکیں خستہ حالی کی شکار ہیں۔مکینوں کے مطابق کلید۔ پوہی سڑک براستہ ہلر و دیگر ملحقہ دیہات گذشتہ کئی برسوں سے خستہ بنی ہوئی ہے۔یہ سڑک ضلع پوہی علاقہ تک کے کئی دیہات کو ضلع صدر دفتر سے جوڑتی ہے۔سڑک کی خستہ حالی سے طلاب اور ملازمین کواپنے منزل و مقصود تک پہنچنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دریں اثنا مکینوں نے متعلقہ محکمہ کے اہلکاروں پر اس سڑک کی تعمیر کے لئے ٹینڈر جاری نہ کرنے کا مبینہ الزام لگایا ہے ۔سڑک کی خستہ حالی سے مکینوں کو کافی پریشانیاں ہو رہی ہیں۔ہلر کے ایک مقامی شخص نے کہا کہ بارشوں کے موسم میں یہ سڑک بہت ہی خطرناک ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہلر کو سرکاری ریکارڈ میں2009 میں ایک ماڈل ولیج قرار دیا گیا ا ور سرکار نے اس پر1.20 کروڑ روپیہ خرچ کیا ہے لیکن سڑکوں ، پانی کی پائپوں،اسٹریٹ لائٹوں ،سولر لائٹوںکی دیکھ بال نہ کرنے کی وجہ سے یہ گائوں خستہ حالی کا شکار ہوا ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ حالات تب اور بھی مشکل بن جاتے ہیں جب ہمیں کسی مریض کو کشتواڑ ضلع ہسپتال لینا ہوتا ہے۔ایک مقامی ڈرائیور نے کہا کہ سڑکوں کی خستہ حالی سے مسافر بردار گاڑیوں کو کافی نقصان ہوتا ہے، جسکی وجہ سے ڈرائیور اس سڑک پر اپنی گاڑیاں چلانے سے گریز کرتے ہیں،جسکا اثر مسافروں پر پڑتا ہے۔مکینوں نے کہا کہ ہم نے کئی بار متعلقہ محکمہ کو کلید سے پوہی براستہ ہلر سڑک کی خستہ حالی کے متعلق جانکاری دی لیکن ہماری درخواست پر کوئی دھیان نہیں دیاجارہا۔انہوںنے ڈپٹی کمشنر سے مداخلت کرکے اس سڑک کی فوری مرمت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایچ ڈی سی ، ہینڈی کرافٹ اور ہینڈ لوم محکموں کی کارکردگی کا جائزہ
آسیہ نقاش کااختراعی طریقوں کوبروئے کارلاکرجدیدیت لانے پر زور
جموں/ صنعت و حرفت، مکانات و شہری ترقی ، سماجی بہبود ، صحت و طبی تعلیم اور پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی وزیر مملکت آسیہ نقاش نے ایک میٹنگ کے دوران ہینڈ لوم ڈیولپمنٹ کاپوریشن ، ہینڈی کرافٹ اور ہینڈ لوم ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کاجائزہ لیا۔وزیرنے مختلف سکیموں اور کاروباری سرگرمیوں کے تحت مقررہ اہداف کا جائزہ لیا ۔انہوں نے تفصیل سے ان اداروں کو مزید فعال بنانے اور انہیں فروغ دینے کے سلسلے میں متعلقین کے ساتھ غور و خوض کیا۔متعلقہ محکموں کے سربراہاں نے پاور پوائنٹ پرزنٹیشن کے ذریعے اپنے محکموں کی سرگرمیوں کو اُبھارا ۔ وزیر موصوفہ نے اختراعی طریقوں ہینڈلوم او رہینڈی کرافٹ شعبوں میں جدیدیت لانے پر زور دیا اور کہا کہ یہی ایک طریقہ ہے جس سے یہ محکمے ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں۔میٹنگ میں ڈائریکٹر ہینڈی کرافٹ ڈاکٹر مشتاق احمد ، ڈائریکٹر آئی آئی سی ٹی کشمیر آئی ایچ درابو ، ڈائریکٹر ہینڈ لوم روبینہ کوثر ، ایم ڈی راکیش شرما، جوائنٹ ڈائریکٹر ہینڈ لوم جموں نمروتہ ڈوگرہ ، ڈپٹی ڈائریکٹر ہینڈ لوم روی کھجوریہ اور متعلقہ محکموں کے سینئر افسران موجود تھے۔