’وزیر اعلیٰ انصاف دلائیں ‘
طارق شال
تھنہ منڈی // امام و خطیب مرکزی جامع مسجدتھنہ منڈی مفتی عبدالرحیم خان ضیائی قاسم نے بھاجپاسرکارپرسخت تنقیدکرتے ہوئے گذشتہ دنوں اترپردیش میں پیش آنیوالے واقعہ پر تشویش کا اظہار کیا۔نمازجمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ بی جے پی کاایک لیڈرعصمت دری کاارتکاب کرتاہے مگرپولیس اسکے خلاف شکایت درج کرنے کے بجائے متاثرہ خاتون کے والد کوہی حراست میں لیتی ہے جسے بی جے پی کے غنڈوں نے مارمارکرنیم مردہ کردیاتھا۔انہوںنے تین ماہ قبل کٹھوعہ میں عصمت دری اوردردناک اندازمیں قتل کی جانیوالی آٹھ سالہ معصوم بچی کاذکرکرتے ہوئے ریاستی سرکارسے پرزورمطالبہ کیاکہ وہ چارج شیٹ کے مطابق اس وحشیانہ حرکت کے مرتکب اوراس میں شامل تمام لوگوں کوکڑی سے کڑی سزا دے ۔انہوںنے کہاکہ انہیں وزیر اعلیٰ سے امید ہے کہ وہ اس سلسلے میں انصاف دلائیںگی ۔انہوںنے کہاکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھاجپا کی بنیاد مسلم مخالف ذہنیت پر ہے اورگجرات فسادات، بابری مسجدکی شہادت، مظفرنگرفسادات اورحالیہ واقعات اس کا بین ثبوت ہیں۔
وزراء کے استعفیٰ اچھی پیشرفت ، دیگران کیخلاف بھی کارروائی ہو
عدالت عظمیٰ کے اقدام کی سراہنا ، گریٹر پیر پنچال لائیرز فورم کاجنرل اجلاس اتوار کو
جموں//گریٹر پیر پنچال لائیرز فورم کی مجلس عاملہ کی میٹنگ جموں بار ایسو سی ایشن و اس کے اتحادی سیاسی اور مذہبی گروہوں کی ہڑتال کا ل سے پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے منعقد ہوئی ۔میٹنگ میں ملک بھر سے انسانی حقوق اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کی جانب سے اس معاملہ کواس کے صحیح تناظر میں منظر عام پرلانے اور فرقہ وارانہ قوتوں کو بے نقاب کرنے کی کوششوں کی سراہنا کی گئی لیکن ساتھ میں یہ بھی واضح کیاگیاکہ اتناہی کافی نہیں ہے بلکہ اس سارے معاملے میں فرقہ پرست قوتوں اور ان کی ریشہ دوانیوں کو مزید بے نقاب کرنا باقی ہے ۔ ذرائع ابلاغ کے ان اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے دبائو میں بی جے پی کے دو وزراء کے استعفیٰ کو جہاں فورم نے اچھی پیشرفت قرار دیا وہیں دیگر تنظیموںبالخصوص کانگریس سے بھی مطالبہ کیاکہ وہ ان عناصر کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے اپنی تنظیموں سے فوری طور پر معطل کریں ۔فورم نے حکومت جموں و کشمیر سے مطالبہ کیاہے کہ جموں بار ایسو سی ایشن کے اہلکاران جنہوںنے ہتھیار اٹھانے اور بزور بازو ایک خاص طبقہ کے لوگوں کو جموں شہر سے ختم کرنے کی اعلانیہ دھمکیاں دی ہیں ،کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت فوری طو رپر زیر حراست لیاجائے تاکہ ریاست کا امن قائم رہ سکے ۔فورم نے عدالت عظمیٰ کے حکم کی سراہنا کی جس کے تحت عدالت نے از خود نوٹس لیکر کٹھوعہ کے شرپسندوکلاء اور جموں بار کے غیر قانونی ہڑتال کے مرتکب وکلاء کے معاملات کو سننے پر رضامندی کا اظہار کیاہے اور ریاستی چیف جسٹس سے یہ استدعا کی ہے کہ بار ایسو سی ایشن جموں کے ان ارکان کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کیاجائے جو عدالت عظمیٰ کے حکم کے خلاف ایک غیر قانونی ہڑتال کی سربراہی کرنے کے مرتکب ہیں اور دیگر سیاسی، سماجی و مذہبی تنظیموں کو اپنے تشدد آمیز بیانات پر بدامنی کیلئے اکسا رہے ہیں ۔ فورم نے صدر بار ایسو سی ایشن جموں کے اس بیان کی نہ صرف مذمت کی بلکہ اسے مضحکہ خیز قرار دیا جس میں صدر بارایسو سی ایشن جموں نے آصفہ قتل معاملہ کو ہڑتال کی وجہ قرار دینے سے اپنے بیان میں انکار کردیاتھا کیونکہ بقول اس کے یہ معاملہ اب عدالت کے زیر سماعت آچکاہے۔فورم کاکہناتھاکہ اگر آصفہ قتل معاملہ عدالت کے زیر سماعت ہونے کے باعث ہڑتال کی وجہ نہیں ہوسکتا تو روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ نہ صرف عدالت عالیہ جموں کشمیر بلکہ عدالت عظمیٰ کے زیر سماعت ہونے کے بعد بھی کیسے ہڑتال کی وجہ بن سکتاہے ۔ فورم کاکہناتھاکہ یہ فرقہ پرست قوتیں ایک یا دوسرے بہانے پر ایک خاص طبقہ کے خلاف منافرت پھیلانے کی کوششوں میں ملوث ہیں اور انہیں اپنے عتاب کا شکار بنانے پر آمادہ ہیں ۔فورم نے یہ بھی فیصلہ لیاکہ وہ جموں بار کے کسی بھی ہڑتالی یا فرقہ وارانہ فیصلہ میں شامل نہ ہے ۔ دریں اثناء مجلس عاملہ نے فورم کا جنرل اجلاس اتوار کے روز جموں میں طلب کیاہے جس میں ریاست بھر میں پیداشدہ صورتحال پر غور و خوض کیاجائے گا۔اس اجلاس میں گریٹر پیر پنچال خطہ کی تمام وکلاء تنظیموں کے مندوبین کو مدعو کرنے کا بھی فیصلہ کیاہے تاکہ فورم کے آئندہ پروگرام کو موثر اور فعال بنانے کیلئے ان کی تجاویز اور تعاون کو حاصل کیاجاسکے ۔فورم نے ان تنظیموں کی کاوشوں کی سراہناکی اور ان پر زور دیاکہ وہ اپنے مشن کو جاری رکھیں تاکہ باطل قوتوں کو مقابلہ کیاجاسکے ۔
انصاف مومنٹ کا احتجاجی مظاہرہ
حسین محتشم
پونچھ//رسانہ قتل کیس میں تحقیقاتی عمل میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف جموں و کشمیر انصاف مومنٹ کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔مومنٹ کے چیئرمین جاوید اقبال ریشی نے کہا کہ اس وقت عوام میں سخت بے چینی پائی جا رہی ہے،ریاستی سرکار کے دو وزرا لعل سنگھ اور چندر پرکاش گنگا نے عوام کے دلون کو رنجور کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان وزراء کو نااہل قرار دیکر جلد از جلد ان سے وزارت کے عہدے چھین لئے جائیںتاکہ نہ ہی مجرموں کی حوصلہ افزائی ہو اورنہ ہی بھائی چارے کو نقصان پہنچے ۔انہوں نے کہا کہ وہ ان تمام لوگوں کی مذمت کرتے ہیں جو آصفہ کے قاتلوں کے ساتھ ہ کسی طرح کی بھی ہمدردی رکھتے ہیں۔احتجاج میں عبدالر شید شاہپوری نائب چیئر مین،محمد رشید سیکریٹری، مولوی محمد رشید، شمیم احمد قریشی، فاروق کٹھانا، مقصود چوہان وغیرہ بھی شامل تھے ۔
بار ایسوسی ایشن کی مداخلت نا قابل قبول:مصباحی
حسین محتشم
پونچھ//رسانہ ریپ و قتل کیس اور اس ضمن میں جموں بار ایسو سی ایشن کی جانب سے قاتلوں کے حق میں حمایت کئے جانے کے خلاف مرکزی جامع مسجد پونچھ سے خطیبِ پونچھ مولانا مفتی فاروق حُسین مصباحی کی قیادت میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس مظاہرے میں مختلف مکتبہ فکر کے افراد نے بڑی تعداد میںشریک ہو کر ریاستی حکومت سے قصور وار افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کی اپیل کی۔ شرکائے احتجاج نے قصوروار افراد کے خلاف اور متاثرہ بچی کے حق میں لکھے گئے پلے کارڈ اُٹھائے ہوئے تھے۔ مقررین نے جموں بار ایسو سی ایشن کی جانب سے قاتلوں کی حمایت میں دی گئی بند کال کی پُر زور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سفاکانہ قتل کو فرقہ واریت کا رنگ دے کر قانون نافذ کرے والے اداروں کی توجہ اصل مسئلہ سے ہٹانے کی مذموم کوشش کر رہی ہے جسے ہر گز کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس موقعہ پر بولتے ہوئے مفتی فاروق مصباحی نے کہا کہ بار ایسو سی ایشن کو ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے اورہماری سادگی اور خاموشی کو ہر گز ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے کیوں کہ ہم امن پسندی پر یقین رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ کتنی شرم کی بات ہے کہ ریاستی کابینہ کے دو و زراء قاتلوں کی حمایت میں عوامی احتجاج کی قیادت کر رہے تھے جبکہ مظاہرین نے قومی پرچم ترنگا بھی اُٹھا رکھا تھا۔ مولانا نے کہا کہ یہ قومی پرچم کی سراسر توہین ہے جس پر مقدمہ درج کیا جانا چاہیے اور ایسے وزرا ء کو کابینہ سے باہر کا راستہ دکھانا چاہیے۔ مقررین نے اُتر پردیش کے اُنائو ضلع میں بی۔جے۔پی ممبر اسمبلی کی جانب سے ایک خاتون کا ریپ کئے جانے اور بعد ازاں اُس کے والد کا قتل کر دیئے جانے پر بھی یوپی حکومت کی پُر زور مذمت کی اور اُس کے قاتلوں کو بھی کیفرِ کردار تک پہنچانے کی اپیل کی۔ مقررین میں پیر نثار شاہ، اعجاز احمد مدنی، کمل جیت سنگھ، چوہدری فضل حُسین، حافظ مجید احمد اور کلب عباس شامل تھے۔
مینڈھر میں این سی کا احتجاج
مینڈھر //آصفہ کے قاتلوں کو کیفریکردار تک پہنچانے کی اپیل کرتے ہوئے مینڈھر میں نیشنل کانفرنس نے احتجاج کیا ۔ یوتھ نیشنل کانفرنس کے صوبائی سکریٹری ایڈووکیٹ ذیشان جاوید رانا کی قیادت میں پارٹی کے دفتر مینڈھر میں ایک اجلاس منعقد ہواجس دوران احتجاج بھی کیاگیا ۔اس موقعہ پر ذیشان رانا نے کہا کہ آصفہ کے قاتلوں کو پچانے کی سازش رچی جا رہی ہے اور اس میں جموں کے وکیل بھی شامل ہو گئے ہیں جو افسوسناک ہے ۔انہوںنے کہاکہ وکیل ہونے کے ناطے انہیں اس بات سے نفرت ہورہی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے ساتھی ہیں جو معصوم کے قاتلوں کو پناہ دیتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اگر آصفہ کے گھر والوں کو انصاف نہیں ملاتویہ ہندستان کی سرکار پر سوالہ نشان ہوگا۔اس موقعہ پر ضلع صدر شوکت چوہدری ، سابق سرپنچ آفتاب چوہدری، این سی بلاک صدر گورسائی حاجی عبدالرشید، منشی خان، یوتھ نیشنل کانفرنس کہ ٰضلع صدر ایڈووکیٹ ظفر چوہدری، یوتھ لیڈر مکھنا چوہدری ، سکندر چوہدری ،یوتھ بلاک صدر و سابق نائب سرپنچ سرفراز چوہدری بھی موجو دتھے ۔بعد میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جو تحصیلدار مینڈھر کے دفتر میں اختتام پذیر ہوئی جہاں ایک میمورنڈم پیش کیاگیا۔