منیر خان
راجوری//کٹھوعہ سانحہ میں ملوث افراد کو سزائے موت دینے اور قاتلوں کی پشت پناہی کررہے افراد خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے راجوری سیول سوسائٹی نے کہاکہ روہنگیاکی جموںبدری سے قبل دیگر غیر ملکیوں کو جموںسے باہر کیاجائے ۔ راجوری پریس کلب میںایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئر مین اوقاف اسلامیہ عبدالقیوم ڈار،افتخار ڈار ، پروفیسر ماگرے ، شفقت میر، عبدالرشید بٹ ، شفیع ڈار ، خورشید جانم ، زبیر مرزا اور تعظیم ڈار نے کہاکہ کٹھوعہ سانحہ کے ملوثین کو جلد ازجلد سزاسنائی جائے تاکہ انسانیت کو شرمسار کرنے والے افراد معاشرے میں دوبارہ اس طرح کا فعل انجام نہ دیں ۔ انہوں نے کہا کہ جموں صوبہ میں کچھ شرپسند سادہ لوح عوام میں نفرت کا بیج بورہے ہیں جو پر امن عامہ کیلئے خطرناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی سرکار میں رہتے ہوئے بھی کچھ لوگ قاتلوں کی پشت پناہی کررہے ہیں جن کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ انہوںنے مانگ کی کہ کیس کو جموں یا سرینگر ہائی کورٹ منتقل کیاجائے ۔انہوں نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ پہلے سے ہی عدالت میں زیرسماعت ہے اور سبھی کو چاہئے کہ اس فیصلے کا انتظار کریں اوربرما کی حکومت کے ستائے ہوئے ان مہاجرین کو بلاوجہ نہ ستایاجائے ۔ان کاکہناتھاکہ روہنگیاسے قبل جموں سے نیپا لی ، مغربی پاکستان سے آئے ہوئے غیر ملکیوں اور تپتی باشندگان کو باہر نکالاجائے ۔
مجرموں کو پھانسی پر لٹکایاجائے:مولانا سلطان
جاوید اقبال
مینڈھر//امام و خطیب جامع مسجد مینڈھر مولانا محمد سلطان نقشبندی نے کٹھوعہ میں پیش آئے واقعہ کے مجرمان کو پھانسی کے تختے پر لٹکانے کی مانگ کی ہے ۔جمعہ کی نماز کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ریاستی وزیر اعلی و وزیر اعظم خود مداخلت کرکے کٹھوعہ میں پیش آئے واقعہ پر متاثرہ کنبے کو انصاف دلائیںتاکہ ریاست کے حالات خراب نہ ہوں۔ان کاکہناتھا کہ اس سے قبل ریاست میں حالات خراب ہوں ،حکومت فوری طور ملزمان سزا سنائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ جموں کے وکلاء نے ملزمان کو بچانے کے لئے جموں بند کی کال دی ۔ان کاکہناتھاکہ ان وکلاء کو رسانہ کے متاثرہ کنبہ کی حمایت کرنی چاہئے تھی تاہم وہ اس کے برعکس کام کررہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ریاستی حکومت کے ان وزراء کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوںنے ہندو ایکتا منچ کے جلوس میں شامل ہوکر مجرموں کی حوصلہ افزائی کی ۔ان کاکہناتھاکہ سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کرنے والوںکو یہ معلوم ہوناچاہئے کہ ریاست جموں وکشمیر میں تحقیقات کرائم برانچ کرتی ہے ،اگر انہیں سی بی آئی پر اتنا زیادہ بھروسہ ہے توپھر لکھن پور سے پار ہوجائیں ۔ انہوں نے خطہ پیر پنجال اور خطہ چناب کے وکلاء کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے شکر گزار ہیں جنہوںنے جموں بارکی کال کی مخالفت کی اور اس کے خلاف احتجاج بھی کئے ۔دریں اثناء مولانانے امریکہ کی طرف سے افغانستان میں مدرسہ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ کی تباہی کی دعا مانگی ۔
رسانہ قتل اور روہنگیا معاملہ
راجوری کے ائمہ مساجد نے سخت کارروائی پر زور دیا
منیر خان
راجوری //نماز جمعہ کے خطبوں میں ائمہ مساجد راجوری نے کٹھوعہ سانحہ میں ملوث افراد کے حق میں ریلیاں نکالنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ترنگے اور مذہبی جنونیت کی آڑ میں قاتلوں کی پشت پناہی کی جارہی ہے جس کی وجہ سے ہندوستان کا نام پوری دنیا میں شرم سے نیچاہورہاہے ۔ ضلع صدر انجمن اہل سنت الجماعت راجوری مولانا فاروق احمد نعیمی نے عیدگاہ جامع مسجد میںاپنے خطاب میں کہا کہ ریاستی سرکار کو چاہئے کہ وہ فاسٹ ٹریک پر کٹھوعہ سانحہ کی تحقیقات کرکے ملوثین کوسرعام پھانسی دے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں میں وکلاء سمیت فرقہ پرست طاقتیں انسانیت کو شرمسار کرتے ہوئے ملوثین کے حق میں ریلیاں نکال رہی ہیں۔ان کاکہناتھاکہ ریاستی سرکار کو ایسی ذہنیت رکھنے والے فراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کیس کو جموں ہائی کورٹ یاپھر سرینگر ہائی کورٹ منتقل کردینا چاہئے تاکہ اس پر اثرانداز ہونے کی کوششیں نہ ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف آئے روز نئے قصے کہانیاں بناکر انہیں حراساں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اورسرکار کو چاہئے کہ وہ ایسے افراد پر لگام کسے ورنہ نتائج سنگین برآمد ہوسکتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ روہنگیا کو باہر نکالنے والوں کو چاہئے کہ وہ مغربی پاکستانیوں ، بنگلادیشیوں ، نیپالیوں کو بھی باہر نکالنے کی مہم چلائیں ۔وہیں کوٹرنکہ میں بھی بعد نماز جمعہ لوگوں نے کٹھوعہ سانحہ کے خلاف احتجاج کیاگیا۔