راجوری //کالج کی مانگ پر درہال میں جاری احتجاج تیسرے روز بھی جاری رہا جبکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے آج راجوری چلو کی کال دی ہے ۔کمیٹی کے بینر تلے جمعہ سے جاری احتجاج اتوار کو بھی جاری رہا جس دوران مظاہرین نے مانگ کی کہ درہال میں کالج کا قیام عمل میں لایاجائے ۔اتوار کو مظاہرین نے دھرنا دیا جبکہ کچھ لوگوںنے ریلی بھی نکالی۔اس دوران انہوںنے حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کہاکہ درہال کے ساتھ روا رکھاگیا سوتیلا ترک کیاجائے اور اس علاقے کا اس کا حق دیاجائے ۔انہوںنے الزام لگایاکہ حکومت تمام تر اقدامات کرکے ان کی آواز دبانے کی کوشش کررہی ہے اور ان کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیاجارہاہے ۔ انہوںنے کہاکہ درہال ہسپتال کی حالت شرمناک ہے اور ڈاکٹر وں کی اسامیاں خالی پڑی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ مقامی لوگوںکو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ۔دریں مقامی لوگوںکی ایک میٹنگ ہوئی جس میں اس بات کافیصلہ لیاگیاکہ آج راجوری کی طرف مارچ کیاجائے گا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کنوینئرایڈووکیٹ زاہد سرفراز نے کہا کہ ڈگری کالج عوام کی دیرینہ مانگ ہے اوروہ کسی غلط بات کا مطالبہ نہیں کررہے ۔انہوںنے کہاکہ درہال ایک وسیع علاقہ ہے جہاں 10ہزار سے زائدبچے اعلیٰ تعلیم کے لئے ہر سال تحصیل سے باہر جاتے ہیں اور ہر سال 4ہزار بچے اسکنڈری اسکول پاس کرتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ درہال تحصیل میں 20سے زاہد سرکاری اور پرائیویٹ اسکول ہیں لیکن اس سب کے باوجود ریاستی سرکار کالج کا علان نہیں کررہی اور اس بار بھی اس علاقے کونظرانداز کردیاگیاہے ۔انہوںنے تمام لوگوںسے اپیل کی کہ وہ راجوری مارچ میں شامل ہوں ۔