راجوری//راجوری کے نوجوانوں نے ہیرانگرکٹھوعہ کے رسانہ کی آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانوکی عصمت دری اورقتل معاملے کے ملزمان کوکیفرکردارتک پہنچانے کے مطالبے کولے کراحتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے بارایسوسی ایشن جموں،ہندوایکتامنچ اوردیگرحمایتیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔اس دوران مظاہرین سے یوتھ لیڈرا ن بشمول حسن مرزا،عرفان خان، رومت روترا اورمحمدسلیم ودیگران نے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے آصفہ عصمت ریزی وقتل معاملہ کی تحقیقات کی چارج شیٹ درج کرانے میں کرائم برانچ کاراستہ روک کرروڑے اٹکانے والے اورملزمان کی حمایت کرنے والے کٹھوعہ اورجموں کے وکلاءکے خلاف سخت کارروائی اورملزمان کوسزائے موت دینے کی مانگ کی۔مقررین نے کہاکہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ آٹھ سالہ معصوم بچی کی عصمت ریزی اورقتل کیس میں وکلاءملزمان کی حمایت کرکے جموں بندکرواتے ہیں ۔دیگرمقررین نے کہاکہ بارایسوسی ایشن جموں کی ہڑتال ہندوستان کی تاریخ کاسیاہ ترین دن تھا۔انہوں نے کہاکہ وکلاءکوکم ازکم یہ خیال رکھناچاہیئے تھاکہ اس کیس کی تحقیقات کی نگرانی عدالت عالیہ کررہی ہے لیکن اس کے باوجودمعاملہ کوفرقہ وارانہ بنیادپردیکھ کرتحقیقات کے عمل میں اڑچنیں پیداکرنے کی کوششیں کیں۔ انہوں نے حکومت کوکسی دباﺅمیں نہیں آناچاہیئے اورآصفہ عصمت دری اورقتل سانحے کے ماسٹرمائنڈاوردیگرملزمان کوسزادلانے کےلئے سنجیدگی سے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ انہوں نے پی ڈی پی۔بی جے پی مخلوط حکومت کی عوام کے تئیں پالیسیوں کوبھی تنقیدکانشانہ بنایا۔مقررین نے متاثرہ کی وکیل کوبارایسوسی ایشن کے صدرکی دھمکیوں پربھی تشویش کااظہارکیا۔انہوں نے کہاکہ انسانیت سوزواقعے کوسیاسی اورفرقہ وارانہ رنگ دینے کےلئے ہندوایکتامنچ کاقیام عمل کرکے ملزمان کوبچانے کےلئے ترنگاجھنڈااُٹھاکر ریلیاں نکالنے والوںکے خلاف جھنڈے کی توہین کامعاملہ درج ہوناچاہیئے۔انہوں نے کہاکہ متاثرہ کوانصاف دلانے کی بجائے ملزمان کوبچانے کےلئے بارایسوسی ایشن اوردیگرفرقہ پرستوں کی انسانیت مخالف مہم موجودہ سماج کےلئے لمحہ فکریہ ہے۔واضح رہے کہ متاثرہ بچی کی نعش گذشتہ 17جنوری کورسانہ گاﺅں کے جنگلوں سے ملی تھی ،اس سے قبل متاثرہ کو10جنوری کواغواکیاگیاتھا۔بتایاجاتاہے کہ متاثرہ کے جسم پرتشددکے نشانات تھے اورقتل کرنے سے پہلے اس کے ساتھ جنسی زیادتی جیساگھناﺅناکھیل کھیلاگیا۔اس معاملے کی تحقیقات کے لیے پہلے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی مگربعدمیں یہ کیس ریاستی پولیس کی کرائم برانچ کومنتقل کردیاگیاتھا ،کرائم برانچ کی تحقیقات کی نگرانی جموں کشمیرہائی کورٹ کررہی ہے اورسی جے ایم کٹھوعہ میں تمام آٹھ ملزمان کے خلاف فردجرم داخل کردی گئی تھی۔