راجوری //راجوری میں نیا اوروسیع بس اڈہ بیکار پڑاہواہے جبکہ گاڑیوں کے ڈرائیوروںنے جگہ جگہ اڈے بنارکھے ہیں جس سے نہ صرف ٹریفک جام لگ رہے ہیں بلکہ مسافروں کو بھی مشکلات کاسامناہے اور باہر سے آنے والے لوگوں کو یہ تک معلوم نہیںہوتاکہ انہیں فلاں جگہ کیلئے گاڑی کہاںسے ملے گی ۔قصبہ میں ٹریفک کا نظام اس قدر بے تکاہے کہ انجان شخص کیلئے گاڑی تلاش کرنا بہت مشکل کام ہے ۔راجوری میونسپل حدود میں مختلف مسافر اڈے چل رہے ہیں جو نہ صرف گاڑیوں کے جام کا سبب ہیں بلکہ عام راہگیروں کے لئے بھی پریشانی کا سبب بھی ہیں۔ضلع انتظامیہ کے پاس ایک وسیع بس اڈہ موجودہے جو اس وقت میونسپل کمیٹی راجوری کے زیراستعمال ہے جہاں پر ریت بجری اور دیگر قسم کاکاروبار تو ہورہاہے لیکن کروڑوں روپے سے بنے اس بس اڈہ کو گاڑیوں کے لئے استعمال کرنے میں حکام ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔ذرائع کاکہناہے کہ ٹھیکیدار اور دیگر تاجروں کو میونسپل کمیٹی راجوری نے نیا بس اڈہ کرایہ پر دیا ہوا ہے جہاں پر ریت بجری سمیت دیگر تجارتی کام کاج کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے اس اڈے کے قائم کرنے کا مقصد ہی فوت ہوگیاہے اور لوگ بدستور جام اور جگہ جگہ گاڑیوں کے کھڑے کئے جانے جیسی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ۔ سنجیوشرما، گوتم کمار، ابھیشیک ، ذوالفقارحسین ، شوکت احمد اورجاوید احمد نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ راجوری ،درہال ، تھنہ منڈی اور دیگر مقامات کی طرف گاڑیاں خچر گرائونڈ سے نکلتی ہیں جبکہ بدھل ، کوٹرنکہ پنہڈ کیلئے پنجہ چوک سے اور جموں و دیگر مقامات کیلئے گاڑیاں اڈے کے بجائے سڑک کناروںپر لگادی جاتی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ ڈپٹی کمشنر راجوری کی قیادت میں کئی مسائل کا حل نکالاگیاہے لیکن نہ جانے اس مسئلہ کا حل کیوں نہیں ہورہا اور ٹریفک نظام بے تکا سابناہواہے ۔انہوںنے حکام سے اپیل کی کہ نئے بس اڈہ کو استعمال کیاجائے اور ڈرائیوروں کی من مانیوں کے سلسلے کو ختم کیاجائے ۔