مینڈھر// سب ضلع ہسپتال مینڈھرکے ارگرد دیوار بندی نہ ہونے کی وجہ سے جہاں لوگوںنے اس کے اندر جانے کیلئے کئی کئی راستے بنارکھے ہیں وہیں ہسپتال کے نام کی اراضی دن بدن سکڑتی جارہی ہے جس پر لوگ قابض بھی ہورہے ہیں ۔مقامی شہریوں محمد کبیر ،گل محمداورمحمد اشفاق کا کہنا ہے کہ سب ضلع ہسپتال مینڈھر میں اس وقت تک چار دیواری نہیں کی گئی جس کی وجہ سے لوگ ہسپتال کی زمین پر لگاتار قبضہ کر رہے ہیں جبکہ ہسپتال کے اندر سے کئی راستے گزرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال کی زمین کو لوگوں نے اپنی ملکیتی زمین سمجھ رکھاہے اور وہ اپنی نجی گاڑیاں ہسپتال احاطے میں پارک کرتے ہیں جس کے وجہ سے ہنگامی حالت میں کسی زخمی یا مریض کو لانے والی گاڑی کے کھڑ اہونے کیلئے جگہ نہیں ملتی ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی مریض ایمرجنسی ہسپتال میں پہنچتا ہے تو لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ ڈاکٹرکہاں پر بیٹھتے ہیں کیونکہ راستہ عام ہونے کی وجہ سے عام مریضوں کو کئی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال کے ارد گرد کئی لوگوں نے ہسپتال کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے اس لئے اس اراضی کی نشاندہی کرکے اسے ناجائز قبضہ سے بچایاجائے ۔اس سلسلہ میں بات کرتے ہوئے بی ایم او مینڈھر ڈاکٹرپرویز خان نے کہا کہ کچھ سال قبل چار دیواری کے لئے پیسہ آیا تھا لیکن اس کا کوئی پتہ نہیں کہ کیوں خرچ نہیں کیاگیا اور پھر یہ پیسہ واپس کرلیاگیا۔انہوںنے بتایاکہ ایک منصوبہ بناکر حکومت کوروانہ کیاگیاہے تاکہ دیوار بندی کروائی جاسکے ۔ انہوںنے کہاکہ لوگ ہسپتال اراضی پر قبضہ کررہے ہیں جس پر انہوںنے انتظامیہ کو بھی خط تحریر کیاہے اوراس سلسلے میں کارروائی کرتے ہوئے نائب تحصیلدار مینڈھر تعار ف حسین شاہ نے سوموار کو ہسپتال کا چکر لگا کر کچھ ناجائز تعمیرات ہٹائی لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔