کشتواڑ کے بے روزگاروں کا اجلاس
ہائیڈل پروجیکٹوں پر فوری طور کام شروع کرنے کا مطالبہ
اے آئی بٹ
کشتواڑ//ضلع کے بیروزگاروں کا جمعرات کے روز ایک اجلاس زیر قیادت چیئر مین چنار پائور پروجیکٹس یونین منعقد ہوا، جس میںمقررین نے ہائیڈل پروجیکٹوں پر کام فوری طور سے شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔مقررین نے کہا کہ ضلع میں ہائیڈل پائور پروجیکٹوں کا کام افقانز انفراسٹریکچر لمیٹڈ کو الاٹ کیا گیا ہے ا ور کمپنی کا کور گروپ ڈول ڈیم سائٹ پر واقع ہے لیکن یہ افسوس کی بات ہے کہ کمپنی نے ابھی تک اپنا کام شروع نہیں کیا ہے،جس کے لئے ضلع کے بیروز گار بڑی بے صبری سے منتظر ہیں، تاکہ انکو پروجیکٹ میں ایڈجسٹ کیا جائے۔انہوںنے کیرو اور کو اڑ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹوں پر کام فوری طور شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے،تاکہ ضلع کے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو روز گار فراہم ہو۔مقررین نے ریٹلی ہائیڈروالیکٹرک پروجیکٹ پر بھی کام شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے،جس کو2014میں ترک کیا گیا ہے ۔ انہوں نے جنرل منیجر پکل ڈول (ایچ ای پی) پر زور دیا ہے کہ وہ تعمیری ایجنسی کو پروجیکٹ پر فوری طور کام شروع کرنے کی ہدایت دے،تاکہ ضلع کے بیروز گار نوجوانوں کو روزگار مہیا ہو۔اجلاس میں شرکت کرنے والوں میںجوگیندر بھنڈاری، رنکو سین، انیل شرما ، سردار ست پال سنگھ ، جعفر حُسین گنائی، رنجیت شرما ، شنکر وزیر ،سرجیت بڈیال، حفیظ مٹو، سنجے بھگت، طارق پتری،محمد اشرف گنائی ،فاروق لون وغیرہ موجود تھے۔
روہنگیائی مہاجرین کیخلاف ریشہ دوانیاں افسوس کن
کشتواڑ //جموں میں سیاسی لیڈروں اور وکلاء کی طرف سے روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف شروع کردہ مہم کو افسوس کن قرار دیتے ہوئے سماجی کارکن شاکر صدیقی نے کہا ہے کہ یہ لوگ بین الاقوامی ضابطہ کے تحت یہاں پناہ لئے ہوے ہیں انکی حفاظت کرنا اور ضروریات کو پورنا سرکار کی ذمہ داری ہے۔ انہوںنے کہا کہ ملک بھر میں کئی مقامات پر روہنگیائی پناہ گزین ہیں لیکن ان کے خلاف کہیں بھی اس قسم کی مہم نہیں چلائی جا رہی ہے جب کہ انہیں ملک بدر کرنے کا معاملہ عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے ایسے میں مطالبہ کرنے والے لوگوں کو پاکستانی رفیوجیوں اور نیپال سے آئے ہوے لوگوں کو بھی جموں نکالنا ہو گا۔برما میں بھی ابھی تک روہنگیا لوگوں پر مظالم ڈھائے جارے ہیں۔لہذا وہ وہاں نہیں جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں میں سیاسی بیداری نہ ہونے کی وجہ سے چند عناصر ایسے اوچھے اور ناقابل قبول مطالبات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ سالہ معصوم بچی جس کو مظالم کا شکار بنایا گیا وہ قابل مذمت ہے۔ترقی کے اس دور میں بھی ایسے وحشیانہ ڈھنگ اپنانا گندی ذہنیت اور غیر انسانی عمل کا ثبوت ہے۔ جس پر جتنا افسوس کیا جاے کم ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جرم میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دی جاے تاکہ آئیندہ کوئی اور ایسی گھناونی حرکت نہ کر پائے۔ انہوںنے کہا کہ دو ریاستی وزراء کا مستعفی ہونا کافی نہیں ہے کہ انہیں ممبر شپ سے بھی مستعفی ہونا چاہے اورہ سرکار کو کٹھوعہ کے گجر بکروال طبقہ کی حفاظت کا معقول انتظام بھی کرنا چاہے تاکہ ان کے جان ومال کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
عصمت ریزی میں ملوث ملزم گرفتار
ڈوڈہ //ڈوڈہ پولیس نے عصمت ریزی میں ملوث ملزم کو جموں سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے،جو جرم کا انجام دینے کے بعد فرار چل رہا تھا۔پولیس کے مطابق مورخہ 20/10/2017کو پولیس اسٹیشن ٹھاٹھری میں متاثرہ کے والدین نے ایک شکایت درج کی کہ شکتی کمار ولد کندن لعل ساکنہ چھریا،تحصیل ٹھاٹھری ضلع ڈوڈہ نے انکی بیٹی کا اغوا کرکے اسکی عصمت ریزی کی ہے۔پولیس نے اس شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے زیر ایف آئی آر نمبر69/2017 زیر دفعہ 363/376 آر پی سی ایک معاملہ پولیس اسٹیشن ٹھاٹھری میں درج کرکے تحقیقات شروع کر دی۔دوران تحقیقات پولیس نے مغویہ کو چھریا علاقہ سے باز یاب کیا ،تاہم ملزم فرار چل رہا تھا ۔پولیس نے کافی جد و جہد کے بعد مبینہ ملزم شکتی کمار ولد کندن لعل کو ایس ایچ او پولیس اسٹیشن ٹھاٹھری سنیل شرما کی قیادت میں ایک پولیس ٹیم نے ضلع جموں کے ارنیہ علاقہ سے گرفتار کیا ۔پولیس ٹیم کی نگرانی ایس ڈی پی او برجیش شرما ، ایڈیشنل ایس پی بھدرواہ راجندر سنگھ نے کی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ملزم ایک ٹائیل فیکٹری میں کام کرتا تھا ۔علاقہ کے لوگوں نے اسکی گرفتاری پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
خرمنِ امن میں آگ کیلئے لال سنگھ ذمہ دار: سروڑی
کشتواڑ//جموں وکشمیرپردیش کانگریس کمیٹی کے نایب صدر ورکن اسمبلی اندروال غلام محمد سروڑی نے آج کٹھوعہ میں چاقوئوں سے حملہ کرکے ایک نوجوان کے بہمانہ قتل کی واردات پراپنی گہری تشویش ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ صوبہ جموںکے خرمنِ امن میں آگ لگانے کیلئے کابینہ سے نکالے گئے وزیرچوہدری لال سنگھ سرعام سرگرمیاں چلارہے ہیں اورحکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔سروڑی نے بلاورمیں گروہی تصادم کے بیچ بچائوکی کوشش کرنے والے دکاندارلیاقت کے قتل کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کیخلاف سخت سے سخت کارروائی کی مانگ کی ہے۔سروڑی یہاں تحصیل مغل میدان کے گائوں تگدوڑمیں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔اُنہوں نے کہاکہ لیاقت علی ولد منیرحسین کی ہلاکت پی ڈی پی۔بھاجپاحکومت کے دورمیں بھاجپالیڈرچوہدری لال سنگھ کی جانب سے چلائے جارہے نفرت آمیزجرائم کاحصہ ہے۔اُنہوں نے کہاکہ سرعام چوہدری لال سنگھ امن وقانون کامسئلہ پیداکررہے ہیں اورحکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔سروڑی نے کہاکہ اقلیتی طبقہ کے نوجوان کی تازہ ہلاکت محبوبہ مفتی کی سربراہی والی حکومت کیلئے چشم کشاہے جونفرت کی سیاست اورنفرت سے لبریزجرائم کوبڑھاوادینے والوں کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ بھاجپارکن اسمبلی چوہدری لال
سنگھ نوجوانوں کواُکسارہے اوراقلیتوں کوہراساں کرنے کی راہیں ہموارکررہے ہیں۔سروڑی نے کہاکہ چوہدری لال سنگھ کیخلاف سخت کارروائی کے بجائے رسانہ معاملے پرنام نہادسی بی آئی جانچ کیلئے پروپگنڈہ چلایاجارہاہے۔سروڑی نے کہاکہ چوہدری لال سنگھ اورچندرپرکاش گنگاکی کابینہ سے چھٹی عوام کی آنکھوںمیں دھول جھونکنے کے مترادف ہے،جس معاملے پرانہیں کابینہ سے باہرنکالنے کادعویٰ کیاگیاوہ باہرجاتے ہی اورشدت سے وہی معاملہ اُٹھارہے ہیں جس سے صاف ہوتاہے کہ بھاجپانے انہیں بولنے اور سرگرمیاں چلانے کی آزادی دی ہے نہ کہ سزادی۔سروڑی نے کہاکہ حکومت فرقہ پرست قوتوں کی پشت پناہی کررہی ہے۔سروڑی نے جموں صوبہ میں آباد اقلیتوں کے اعتمادکوبحال کرنے کیلئے چوہدری لال سنگھ کی فوری گرفتاری کی مانگ کی۔سروڑی نے کہاکہ اگرچوہدری لال سنگھ واس
کے ساتھی عناصرکی غنڈہ گردی پرلگام نہ کسی گئی تواقلیتیں سڑکوں پراُترنے کیلئے مجبورہوجائیں گی۔سروڑی نے لیاقت کے لواحقین کیساتھ اپنی گہری ہمدردی کااِظہارکیااور کہاکہ لیاقت کی شہادت رائیگاں نہیں جائیگی۔انہوں نے کہاکہ ملزمین ابھیشک شرما اور ہانی کھجوریہ سے واضح ہوتاہے کہ وہ علاقے میں اقلیتوں کیخلاف چلائی جارہی سازش سے متاثرہیں جنہوں نے یہ گھنائوناقتل انجام دیا۔اس دوران سروڑی نے تگدوڑکے مقامی لوگوں کے مسائل سنے اورلوگوں نے اس موقع پرپینے کے صافی پانی کی فراہمی ، تگدوڑسڑک پرتارکول بچھانے اور دیگراہم مسائل اُبھارے۔سروڑی نے تمام درپیش مسائل کاجلدازالہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔سروڑی نے اس موقع پرڈیڈپیٹھ تاتگدوڑسڑک کی بلیک ٹاپنگ کیلئے4کروڑ روپے کے کام کااعلان کیا،یہ لوگوں کی ایک دیرینہ مانگ تھی۔اُنہوں نے کہاکہ یہ کام محکمہ تعمیراتِ عامہ پی ایم جی ایس وائی کے تحت کرے گا۔اُنہوں نے بونگام، بزدیوا اور تگدوڑ کے دیگر دیہات میں محکمہ تعمیراتِ عامہ کے تحت
سڑکوںکی تعمیرکااعلان کیا۔
معذور افراد اور بزرگ دوبرس سے پنشن کے بغیر
جموں//سماجی بہبود کا محکمہ جسما نی طور نا خیز ،بیواؤں ،عمر رسیدہ افراد کیلئے وبال جان بنتا جا رہا ہے،نچلی سطح پر ایسے ا فراد کو سر کاری امداد حاصل کرنے میں طرح طرح کے مشکلات سے گزر نا پڑ رہا ہے جبکہ امداد با ہمی محکمہ کے اہلکار جسما نی طور نا خیز بیواؤں ،عمر رسیدہ افراد کو اپنے دفتروں کا چکر کاٹنے پر مجبور کیاکر تے ہیں اور اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ریاست میں امداد کیلئے30ہزار افراد نے لوازمات پورے کر دیئے ہیں ۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق پچھلے 2بر سوں کے دوران ایسے افراد کو امداد با ہمی محکمہ کی جا نب سے ایک پھوٹی کوڑی بھی ان کے بینک کھا توں میں جمع نہیں کی گئی ۔ امداد با ہمی کا محکمہ ریاست میں بیواؤں ،یتیموں ،جسما نی طور ناخیز افراد کی لئے وبال جان بنتا جا رہا ہے۔امداد با ہمی محکمہ نے جسما نی طور نا خیز ،عمر رسیدہ افراد اور بیواؤں کو رجسڑر کیاہے انہیں بھی امداد حاصل کر نے میں پاپڑ بیلنے پڑ تے ہیں اور ہر ماہ با قاعدگی کیساتھ ان کے بینک کھاتوں میں امدادی رقم جمع نہیں ہوا کر تی ہے جبکہ مر کزی و ریاستی حکو مت کی جا نب سے ایسے افراد کیلئے رقو مات پہلے ہی مختص کی جاتی ہے ا ور با قاعدگی کیسا تھ انہیں نچلی سطح پر واگزار کیاجاتا ہے تا کہ ناخیز افراد بیواؤں اور عمر رسیدہ افراد کو وقت پر امداد فرہم کی جاسکے اور انہیں اپنی ضروورتیں پورا کرنے میں مشکلوں کا سامنا نہ کر نا پڑے ۔نچلی سطح پر ایسے افراد کو وقت پر امدادی رقو مات ان کے بینک کھاتوں میں جمع نہیں ہوتی ہے اور جب ایسے افراد سماجی بہبود امداد با ہمی کے محکمہ سے اس بار ے میں دریافت کیا کر تے ہیں تو انہیں فنڈس کی عدم دستیا بی کا بہا نہ بنا یاجاتا ہے ۔اس بات کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ پچھلے دو بر سوں کے دوران 30ہزار کے قر یب جسما نی طور نا خیز بیواؤ ں ،عمر رسیدہ افراد نے امداد با ہمی محکمہ کے ساتھ رابطہ قا ئم کر کے امدادی رقم حاصل کر نے کیلئے تمام دستا ویزات جمع کی ہے تا ہم ایسے افراد کو محکمہ کی جانب سے ابھی تک ایک پھوٹی کوڑی بھی ان کے بینک کھاتوں میں جمع نہیں کی گئی جبکہ بجٹ اجلاس کے دوران امداد باہمی کے ریاستی وزیر سجاد غنی لون نے انکشاف کیا تھا کہ سر کاری امداد حاصل کرنے کیلئے جن لو گوں نے دستا ویزات جمع کئے ہیں انہیں ما یوس نہیں کیاجائیگا اور سر کار ان کی ضرورتوںکو پورا کرنے کیلئے ما ہانہ امدادی رقم ان کے بینک کھاتوں میں جمع کرنے کیلئے کو ئی بھی دقیقہ فروگزاشت ادانہیں کریگے ۔سینکڑوں کی تعداد میں ایسے دستا ویزات جمع کرنے والے عمر رسیدہ ،جسما نی طور نا خیز افراد نے خبر رساں ادارے اے پی آئی کوبتا یا کہ امداد با ہمی محکمہ کے اہلکار انہیں صرف اپنے دفتروں کا چکر کاٹنے پر مجبور کر تے ہے جبکہ ان کی مشکل کا ازالہ کر نے کیلئے کسی بھی طرح کی کاروا ئی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے ۔مذکورہ افراد کا یہ بھی کہنا تھا کہ امداد با ہمی کاادارہ جسما نی طور نا خیز ،بیواؤں اور عمر رسیدہ افراد کیلئے وبال جان بنتا جا رہا ہے ۔