بانہال// رہبر تعلیم آساتذہ نے مرکزی سرکارکی طرف سے سروا شکھشا ابھیان کے بجائے ریاستی بجٹ سے اپنی ماہانہ تنخواہیں واگذار کر نے کی مانگ کو لیکر دو روزہ سکول تالا بند کرکے جمعہ کو احتجاجی مظاہرے کئے ،جس کی وجہ سے وادی چناب کے باقی علاقوں کی طرح ضلع رام بن کے مختلف تعلیمی زونوں میں بھی بیشتر پرائمری سکول بند رہے جبکہ رہبر تعلیم ٹیچروں کے رحم وکرم پر چلنے والے درجنوں سرکاری مڈل سکولوں میں بھی معمول کا کام کاج متاثر ہو کر رہ گیا جبکہ بانہال ، کھڑی اور اْکڑال میں اساتذہ نے اپنی مانگوں کو لیکر احتجاجی مظاہرے بھی کئے ۔ آج جمعہ سے رہبر تعلیم اساتذہ اپنی مانگوں کو لیکر دو روزہ سکول تالا بند احتجاج پر ہیں اور سات مئی کو انہوں نے سیکریٹریٹ کو گھیرنے کی بھی کال دے رکھی ہے۔ جموں وکشمیر رہبر تعلیم ٹیچرس فورم کی کال پر جمعہ کے روز ضلع رام بن کے بانہال ، کھڑی ، اْکڑال ، رام بن ، بٹوٹ اور گول کے تعلیمی زونوں میں قائم سرکاری پرائمری اور مڈل سکولوں میں رہبر تعلیم ٹیچروں کی ہڑتال کی وجہ سے معمول کا تعلیمی سلسلہ نظام متاثر رہا۔ رہبر تعلیم ٹیچروں سے چلنے والے ضلع رام بن کے بیشتر پرائمری سکول بند رہے جبکہ مڈل سکولوں میں بھی رہبر تعلیم ٹیچروں کی ہڑتال کا اثر رہا ۔ کھڑی زون کے ایک دیہات میں تعینات ایک جنرل لائین ٹیچر نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر کشمیر عظمی کو بتایا کہ اس کے مڈل سکول میں کْل پانچ اساتذہ تعینات ہیں جن میں سے چار رہبر تعلیم ٹیچرشامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کے روز چاروں رہبر تعلیم ٹیچر ہڑتال پر تھے اور سکول میں کام کام متاثر ہوکر رہ گیا۔ اسی طرح ضلع رام بن کے کئی زونوں سے ایسی ہی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بانہال ، کھڑی اور اْکڑال کے علاقوں میں اساتذہ نے احتجاجی مظاہرے بھی کئے اور سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ رہبر تعلیم ٹیچروں کی تنخواہوں کو مرکزی بجٹ کے بجائے باقی ملازمین کی طرح ریاستی بجٹ سے ادا کرنے کے احکامات صادر کریں اور ماہانہ تنخواہوں کی واگذاری کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو ہر بار احتجاجی مظاہروں کے بعد تین۔ چار ماہ کی بقایا پڑی تنخواہ میں سے ایک ماہ کی تنخواہ واگذار کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرسرکار کی رہبر تعلیم ٹیچروں کے تئیں اپنائی جارہی بے رخی ختم نہیں کی جاتی ہے تو اساتذہ بھی اپنے احتجاجی مظاہروں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان احتجاجی اساتذہ کا کہنا ہے کہ اْنہیں سابقہ وزرائے تعلیم نے کئی بار یقین دہانی کرائی کہ اْن کی تنخواہوں کو سٹریم لائین کیا جائے گا لیکن ابھی تک ان یقین دہانیوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا اور سروا شکھشا ابھیان کے تحت کام کرنیو الے ہزاروں آساتذہ کو بغیر تنخواہ کے اپنا فرض اور اپنے کنبوں کو چلانا مشکل ہوگیا ہے ۔ اْنہوں نے کہا کہ وہ ریاستی سرکار کے ملازمین ہیں اور اْنہیں ریاستی بجٹ سے تنخواہ واگذار کی جانی چاہئے تاکہ وہ ماہانہ بنیادوں پر تنخوائیں حاصل کر سکیں۔ ادھر ممبر اسمبلی بانہال وقار رسول نے بھی ضلع رام بن کے اْکڑال علاقے میں احتجاجی رہبر تعلیم ٹیچروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس جماعت ان کے ساتھ برابر کھڑی ہے اور ان کی مانگوں کیلئے وہ اسمبلی میں سرکار کو معاملہ حل کرنے کیلئے اپنا فرض ادا کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ وہ رہبر تعلیم ٹیچروں کی تنخواہوں کو سٹریم لائین کرنے کیلئے احتجاجی دھرنا دینے کیلئے بھی تیار ہیں تاکہ ہزاروں اساتذہ اکرام سے جڑے اس انسانی مسئلے کو مکمل طور سے حل کیا جائے۔ اس سلسلے میں جب چیف ایجوکیشن افسر رام بن عبدالحمید فانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ ڈپٹی کمشنر رام بن کے ساتھ ایک میٹنگ میں موجود تھے جس کی وجہ سے انہیں سرکاری سکولوں میں رہبر تعلیم ٹیچروں کی ہڑتال کی وجہ سے پڑے اثر کا کوئی علم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ضلع کے زونل ایجوکیشن افسروں سے اس بارے میں بات کرینگے اور اْن سے پورے دن کی تفصیل لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اکا دکا پرائمری سکولوں میں ہڑتال کا اثر پڑ سکتا ہے لیکن مڈل سکولوں میں ہمارا دیگر سٹاف بھی تعینات ہے جس سے تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھی جا سکتی ہیں۔ دریں اثناء ریاسی میںجمعہ کے روز آر آر ای ٹی اور آر ای ٹی اساتذہ نے اپنے مطالبات کو لیکر چیف ایجوکیشن دفتر کے سامنے ایک احتجاجی دھرنا دیا ۔مظاہرین ایس ایس اے کے تنخواہ کو ڈی لنک کرکے ریاستی بجٹ کے ساتھ شامل کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔جے کے آر ای ٹی ریاسی کے ضلع صدر بہادر سنگھ رسیال نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سراکر سے انکے تنخواہیں واگُذار رکنے کا مطالبہ کیا جو کہ گُذشتہ کئی مہینوں سے واجب الادا ہیں۔انہوں نے کہا کہ جے کے آر ای ٹی ٹی ایف کی کال پر ضلع کے پرائمری اور مڈل سکول مقفل رہے ۔انہوںنے مطالبہ کیا کہ دیگر ملازمین کی طرح انکے تنخواہوں کو بھی ریاستی بجٹ میں شامل کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ پانچ ،چھ مہینوں کے بعد انہیں ایک ماہ کی تنخواہ واگُذار کی جاتی ہے جس سے وہ فقط بینک قرضہ کی قسط ادا کر سکتے ہیں۔انہوںنے سرکار کو متنبہ کیا کہ اگر ان کے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا گیا تو وہ اپنے اہل خانہ بیویوں اور بچوںسمیت سڑکوں پر آئیں گے۔مظاہرین سے دیگر اساتذہ نے بھی خطاب کیا۔ڈاک بنگلہ مہور میں بھی آر آر ای ٹی اساتذہ نے زیر قیادت آر ای ٹی زونل صدر فاروق ملک احتجاجی دھرنا دیا ۔