گندو/ڈوڈہ/خطہ چناب کے بالائی علاقوں میں گذشتہ روز بعد دوپہر سے مسلسل بارشوں ، تیز ہوائوں اور تازہ برف باری کی وجہ کی وجہ سے جہاں سردی کی شدید لہر میں زبردست اضافہ ہو گیا ہے وہاں لوگوں خصوصی طور پر گوجروں اور بکروالوں ، جو ان بالائی علاقوں میں اپنے مال مویشوں کے ساتھ گئے ہوئے ہیں ، سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔یہ غیر موسمی بر فباری آج صبح سویرے وادی چناب کے بالائی علاقوں خاص طور سے گندو اور وادی بھدراہ میں شروع ہوئی جس کے نتیجہ میں بالائی علاقوں میں اپنے مال مویشوں کے ساتھ گئے ہوئے گوجروں اور بکروالوں کے لئے موجب پریشانی بن گئی ۔ کیلاش پہاری رینج ، پڈری گلی، بھال پڈری ، سیوج ، شانکھ پڈر ، ریشی ڈال ، گلداندہ، چھتر گالا،اور بھدرواہ کے گرد و نواح کے علاقوں تازہ برف باری ہوئی ہے ۔دریں اثنا وادی چناب کے بالائی علاقوں بشمول بریڑ بال، شروتھ دھار ، کتار دھار ، کینتھی، لالوپانی ، دگن ٹاپ، گوہا اور سنتھن ٹاپ میں بھی تازہ برف باری ہوئی ہے ان بالائی مقامات میں سرسبز میدان اور چراگاہیں ہیں ، جہاں میدانی علاقوں سے گوجر و بکروال اپنا مال و مویشی اور بھیڑ بکریاں لے کر آتے ہیں اس برف باری کی وجہ سے انہیں سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ان لوگوں نے بتایا کہ برف باری کی وجہ سے ان کا مال و مویشی اور بھیڑ بکریا ں کئی روز سے چارے کے بغیر ہیں اور قریباََ دو درجن بھیڑ و بکریاں سردی اور فاقہ کشی کی وجہ سے مرگئی ہیں ۔ راج باغ کٹھوعہ کی ایک بزرگ بکروال خاتون ماریہ نے بتایا کہ اس برف باری کی وجہ سے ہم لوگ سخت پریشان ہیں کہ کیا کریں کیونکہ ان کا مال مویشی فاقہ کشی کا شکار ہو رہا ہے اور اگر موسم میں بہتری نہ آئی تو ہمارا مال مویشی فاقہ کشی کی وجہ سے مرسکتا ہے ۔ زائد از ایک لاکھ گوجر اور بکروال وادی چناب کے بالائی علاقوں کے لئے اپنا مال مویشی لیکر ہر سال موسم گرما کے شروع ہوتے ہی جاتے ہیں اس سال ان میں سے بہت سارے کنبے اپنی اپنی منزل مقصود سے دور تھے کہ غیر موسمی برف باری کی وجہ سے آدھے راستہ میں ہی رکنا پڑا۔ان لوگوں کا کہنا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر متعلقہ سرکاری ایجنسیوں خاص پر ٹرئبل وزارت یا گوجر بکروال مشاورتی بورڈ کو اس مصیبت کی گھڑی میں ان کی مددکے لئے آگے آنا چاہیے۔یہ بات جان محمد حکیم جنرل سیکرٹری انجمن ترقی گوجری ادب نے بتائی۔