رام بن میں سپورٹس سٹیڈیم کے قیام کا مطالبہ
ایم ایم پرویز
رام بن //قصبہ و دیگر ملحقہ علاقوں کے نوجوانوں نے علاقہ میں سپورٹس اسٹیڈیم قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ علاقہ میں کھیلوں کی کاروائیوں کو فروغ حاصل ہو اور مقامی نوجوانوں میں کھیل کا جذبہ پیدا ہو۔انہوں نے وقت کی سرکاروں پر لوگوں کو بیوقوف بنانے کا مبینہ الزام لگایا ہے اور مختلف سیاسی پارٹیوں کی جانب سے اس سلسلہ میں ایک دوسرے پر الزام لگانے کی مذمت کی ہے۔علاقہ کے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ گُذشتہ 12 سالوں میں کئی سرکاریں اور لیڈران بدل گئے ہیں لیکن کسی نے بھی رام بن میں کھیل کا میدان تعمیر کرنے کیلئے کوئی کام کیا ہے۔اُن کا یہ بھی مبینہ الزام ہے کہ شاید رام بن ضلع فقط ایک ایسا ضلاع ہے جہاں پر سپورٹس اسٹیڈیم کا وجود ہی نہیں ہے۔سپورٹس اسٹیڈیم کی عدم دستیابی کی وجہ سے نوجوانوں کی صلاحیت کو کھیلوں کے شعبہ میں فروغ حاصل نہیں ہو رہا ہے۔اُنہوںنے کہا کہ ایک طرف بھارت سرکار ملک بھر میں’’ کھیلو انڈیا یوجنا ‘‘لانچ کر رہی ہے، وہیںدوسری جانب رام بن ضلع میںنوجوانوں کو کھیلوں کے شعبہ میں سہولیات میسر نہیں ہیں۔ان لوگوں نے وزیر سپورٹس کی توجہ اس جانب مبذول کی ہے ،تاکہ ضلع کے لئے سپورٹس اسٹیڈیم قائم کیا جا سکے۔
کشتواڑ کے عوام سڑکوں کی خستہ حالی پر برہم
کشتواڑ//کشتواڑ فیصل آباد کے لوگ فیصل آباد چوک سے این ایچ پی سی صدر دفتر تک لنک روڈ کی خستہ حالی سے پریشان ہیں۔انہوں نے ضلع انتظامیہ اور این ایچ پی سی حُکام سے اس کی مرمت کے لئے ضروری اقدام اُٹھانے پر زور دیا ہے۔فیصل آباد کے لوگوں کے ایک گروپ نے کہا کہ اس سڑک پر فلٹر پلانٹ علاقہ کے نزدیک گہرے گڑھے بن گئے ہیںاور زمین کی سطح نہایت ہی کیچڑ والی ہے۔انہوں نے کہا کہ بارش کے موقعہ میں اس سڑک پر پھسلن ہونے کی وجہ سے پیدل چلنے والوں کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔علاقہ کے مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ لنک روڈ گُذشتہ دو سال سے خستہ حالی کا شکار ہے ،جبکہ حُکام اس کی بروقت مرمت کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس لنک روڈ کا 500 میٹر کا ٹکڑا کافی خستہ ہے جس کی وجہ سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔دریں اثنا، مقامی لوگوں نے این ایچ پی سی حُکام پر الزام لگایا ہے کہ باوجود اس حقیقت کے کہ این ایچ ی سی حُکام اپنی گاڑیوں کیلئے اسی راستہ کا استعمال کر رہے ہیں،پھر بھی انہوں نے اس سڑک کی مرمت کو نظرا نداز کیا ہے۔سڑک کی خستہ حالی اور مناسب بد رو سسٹم کی عدم دستیابی سے اس سڑک پر حادثات کا خطرہ رہتا ہے۔مقامی لوگوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر اور متعلقہ محکمہ سے اس سے سڑک کی فوری مرمت کا مطالبہ کیا ہے۔
آفات سماوی سے مقابلہ
وادی چناب میں بیداری کیمپ منعقد کرنے کا مطالبہ
ڈوڈہ // وادی چناب میں قدرتی آفات سماوی جیسے کہ سیلاب اور زلزلوں پر سخت تشویش کا اظہارکرتے ہوئے سماجی کارکن مرزا جہانزیب بیگ نے ان کے تدارک کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے ۔جمعہ کے روز منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ وادی چناب میں ہر دوسرے مہینے زلزلوں کے ہلکے جھٹکے محسوس کئے جا رہے ہیںاور ہمیں یہ بخوبی علم ہے کہ ماضی میں ان جھٹکوں سے معمولی نقصان ہوا ہے ۔انہوں نے پوچھا ہے کہ اگر ایک بڑا زالزلہ رونما ہوا ،تو کیا ہم اسکا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔انہوں نے انتظامیہ سے اس حساس معاملہ پرنوٹس لینے کی گُذارش کی ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں عام لوگوں خصوصاً صحافیوں ، بار ایسو سی ایشن اور سول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ بغیر تاخیر کے نوٹس لیں۔ انہوں نے ماضی میں ہوئے زلزلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب وادی چناب میں زلزلہ آیا تھا تو لوگوں کو درکار ٹینٹ بھی میسر نہیں ہوئے،انہوں نے کہا کہ پسیاں گر آنے کی وجہ سے سڑک طویل عرصہ تک بند رہتی ہے ،جسکی وجہ سے وادی کے لئے جموں سے سپلائی متاثر ہو جاتی ہے۔انہوں نے حُکام سے کسی بھی ناگہانی ا ٓفت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنے کی گُذارش کی ہے،تاکہ قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے ۔ انہوں نے جنگلات کے کٹائو کی بھر پائی کرنے کے لئے شجر کاری پر بھی زور دیا ہے ا ور لوگوں میں آفات سماوی سے متعلق بیداری پیدا کرنے کے لئے خصوصی پروگرام منعقد کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔
رام بن کے طلاب کے درمیان تقریری مقابلہ
رام بن //ضلع کے دیہی علاقوں میں طلاب کے اعتماد سازی اور سرکاری سکولوں کے طلاب کو بحث و مباحثہ و کوئیز مقابلہ کی جانب راغب کرنے کے لئے ایک گورنمنٹ مڈل سکول ساجرو، رام بن میں بحث و مباحثہ و کوئیز مقابلہ منعقد کیا ۔اس ایوئینٹ میں کل ملا کر 81طلاب نے شرکت کی اور مضامین جیسے کہ سائنس، جغرافیہ ،ریاضی،کھیلوں اورحالیہ معاملات میں اپنی جانکاری کا مظاہرہ کیا۔دونوں بحث و مباحثہ و کوئیز مقابلہ قومی یکجہتی، ماحول کے تحفُظ اور سماجی مدعوں پر مبنی تھے۔ان مقابلوں میں طالبات کے کافی تعداد کو طلبا کے شانہ بشانہ اپنے حصہ لیکر لوگوں نے کافی مسرت کا اظہار کیا۔ ان مقابلوں میں پہلی تین پوزیشنیں حاصل کرنے والوںمیں انعامات تقسیم کئے گئے۔سکول کے ہیڈ ماسٹر نے منجانب مقامی لوگوں کے فوج کے تئیں ایسا ایوئینٹ منعقد کرنے پر اظہار تشکُر کیا اور کہا کہ اس ایوئینٹ سے طلاب کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے، جس سے ان میں مستقبل میں بھائی چارے کو استحکام ملے گا۔