پکل ڈول میںمقامی نوجوانوں کو روزگار دینے کا مطالبہ
کشتواڑ//کشتواڑ کے نوجوانوں کا ایک اجلاس چنار پاور پروجیکٹس ورکرس یونین کے بینر تلے منعقد ہوا ،جس کی صدارت جوگیندر بھنڈاری نے کی۔اجلاس میں متعدد مدعوں پربات کی گئی جن میں سے مقامی نوجوانوں کو پکل ڈول ہائیڈرالک پروجیکٹ میں تعینات کرنے کا مسئلہ بھی شامل تھا۔شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سی وی پی پی ڈبلیو یو کے چیئر مین نے کہا کہ پروجیکٹ میں کشتواڑ کے مقامی نوجوانوں کو ترجیح دی جائے۔انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ پروجیکٹ سے متاثرین کو روز گار دالنے میں بھی ترجیح دی جائے۔اس موقعہ پر انہوں نے بتایا کہ پکل ڈول ہائیڈرالک پروجیکٹ افرادی قوت کو ٹرانسفر کی بنیادوں پر مہیا کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جبکہ مقامی نوجوانوں کو ماہانہ رول کے بنیادوں پر تعینات کیا جا تا ہے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر افرادی قوت بیرون ریاست سے لائی گئی تو اسکے خطر ناک نتائج نکلیں گے ۔مقامی نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پر پروجیکٹ میں روز گار فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔دریں اثنا ، جوگیندر بھنڈاری کو چنار پاور پروجیکٹس ورکرس یونین کا دوبارہ چیئر مین نامزد کیا گیا ۔اجلاس میں رنکو سین، انیل شرما ، غلام حسن گنائی، اشرف گنائی، سردار ست پال سنگھ، اختر حُسین،مدثر نائیک، جعفر ۔راجندر شان ، طارق پتری، سنی شرما ،مظفر حُسین، عاشق حُسین،مسعود علی، رام رتن ،اجے شرما ،شنکر سنگھ وزیر ،رنجیت شرما ، سرجیت بڑھیال، سندیپ شرما ، چندر کانت، راجندر کمار، سلمان سلیم، ارشد گنائی، اصغر علی ،فاروق ڈوگہ نے بھی شرکت کی۔
تنگالی گول میں بجلی کی آنکھ مچولی
زاہد بشیر
گول//پنچایت گول سی علاقہ تنگالی وارڈ نمبر پانچ گزشتہ دو ہفتے سے گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے جس وجہ سے یہاں کی عوام کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹرانسفارمر دو ہفتے قبل خراب ہو گیا لیکن ابھی تک محکمہ پی ڈی ڈی کا کوئی اہلکار اس کو دیکھنے کے لئے نہیں آیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکار دعویٰ کر رہی ہے کہ متبرک ایاموں ماہ صیام میں عوام کو بناء پریشانی بجلی کی سپلائی دی جائے گی لیکن یہاں یہ علاقہ ابھی بھی گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے ۔ انہوں نے انتظامیہ اور سرکار سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد یہاں پر بجلی کے معقول انتظامات کئے جائیں ورنہ یہاں کی عوام احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔
سنتھن سڑک پر تارکول بچھانے کیلئے21 کروڑ روپئے واگزار کئے :سروڑی
سیاحوں کی آمدسے مقامی لوگوں کی معیشت میں اضافہ ہوگا
کشتواڑ//موسم سرما اور برف باری کے چھ ماہ بعد برف ہٹاتے ہوئے کشتواڑ سنتھن سڑک ٹریفک کیلئے کھول دی گئی ہے ۔واضح رہے کشتواڑ سنتھن شاہراہ کشتواڑ ضلع کو کشمیر کے اننت ناگ ضلع سے ملاتی ہے ۔اس سلسلہ میں جموں وکشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر و ایم ایل اے اندروال غلام محمد سروڑی نے کہا کہ موسم اور اولوں کے ساتھ جد و جہد کرتے ہوئے عوامی مدد سے سڑک پر سے برف ہٹائی گئی ۔سروڑی نے سڑک کے کھلنے پر سب ڈویژن چھاترو کی عوام کو مبارک باد پیش کی ہے جس سے یہاں کی مقامی عوام کی معیشت میں اضافہ ہوتا ہے۔انہوں نے جموں وکشمیر کی عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سنتھن کا دورہ کریں جس یہاں سیاحت کو فروغ حاصل ہو گا۔انہوں نے مزیدکہا کہ سیاحت کی وجہ سے یہاں کے مقامی عوام کی معیشت میں جان پڑجائے گی ۔موصوف نے کہا کہ سنتھن سڑک پر تارکول بچھانے کیلئے اکیس کروڑ روپئے کا اعلان کیا جا چکا ہے اور درجہ حرارت بڑھتے ہی اگلے ماہ تارکول کا کام شروع کیا جائے گا۔سروڑی نے حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقہ میں سیاحت کا ڈھانچہ بہتر بنانے کیلئے اقدام اٹھائے جائیں۔
گول: ایس ڈی ایم سے وفد کی ملاقات
بس اسٹینڈ گول تا سلبلہ سڑک کے معاوضے کی مانگ
زاہد بشیر
گو//ایس ڈی ایم گول پنکج بگوترہ کے پاس ایک وفد جس کی صدارت سابق سرپنچ حاجی محمد سلیم ملک کر رہے تھے ، نے ملاقات کی ۔ اس موقعہ پر وفد نے گول بازا ر سے سلبلہ تک سڑک کے معاوضے کی مانگ کی جو عرصہ اٹھارہ سال سے التواء میں ہے اور آج تک یہاں کے زمیندار در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ وفد نے کہا کہ جو بھی لوازمات انتظامیہ نے مانگے وہ ہم نے پورے کئے لیکن اس کے با وجود یہاں کے زمینداروں کو معاوضہ نہیں ملا جو افسوس ناک ہے جبکہ اس کے بعد جتنی بھی سڑکیں نکلی تمام کو معاوضہ ملا ہے اور صرف یہ ایک سڑک ہے جو کافی عرصہ سے اس کا معاوضہ یہاں کے عوام کو نہیں دیا جا رہا ہے ۔ اس موقعہ پر وفد نے ایس ڈی ایم سے اپیل کی کہ وہ یہاں کے عوام کو معاوضے دینے میں بھر پور مدد کریں ۔ وفد نے ایک یاداشت بھی پیش کی اور کہا کہ اگر پندرہ دن کے اندر اندر معاوضہ نہیں ملے گا تو ہر زمیندار اپنی اپنی زمین بند کرے گا اور یہاں پر احتجاج کیا جائے گا اور اس سلسلے میں عدالت عالیہ سے بھی مطالبہ کیا جائے گا ۔
عصمت ریزی کے خلاف سزائے موت
مختلف انجمنوں نے گورنر کا شکریہ ادا کیا
ایم ایم پرویز
رام بن //ضلع کی مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں نے ریاست جموں و کشمیر کے گورنر کا 12سال سے کم عمر کے ساتھ عصُمت ریزی کے خلاف سزائے موت کے آرڈینینس کو منظوری دینے پر شکریہ ادا کیا ہے۔ان تنظیموں نے اسے خواتین کے خلاف تشدُد کو ختم کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔یاد رہے کہ ریاست کے گورنر این این ووہرہ نے جمعرات کے روزاس آر ڈی ننس کو منظوری دی ہے جسکی رُو سے 12سال سے کم عمر کی لڑکی سے عصُمت ریزی کرنے والوں کے سزائے موت اور 16سال سے کم عمر کی کواتین کے ساتھ عصمت ریزی کرنے والوں کو 20 سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ریاستی سرکار نے ملک بشمول ریاست جموں و کشمیر میں خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کے پیش نظر اسکی تجویز پیش کرکے اسکے لئے ایک آرڈی ننس جاری کیا، جسے ریاست کے گورنر نے بھی ہری جھنڈی دی۔اس قانون کی ضرورت کافی دنوں سے ریاست میں محسوس کی جا رہی تھی ۔