بانہال // ضلع رام بن میں نظام تعلیم مسلسل مشکلات کا شکار ہے اور ضلع کے سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور سکولی عمارتوں کی کمی کی وجہ سے یہاں اپنا مستقبل بنانے آئے ہزاروں غریب بچوں کا مستقبل مخدوش دکھائی دے رہا ہے۔ ضلع رام بن کے دور افتادہ علاقہ مْہو منگت تحصیل کھڑی میں گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول مْہو میں 170 غریب طالب علم زیر تعلیم ہیں لیکن اِس ہائیر سیکنڈری میں لیکچراروں کی بارہ اسامیاں سالوں سے خالی پڑی ہیں اور تعلیمی سیشن کو چلانے کیلئے چھ غیر م مستقل لیکچراروں کو حال ہی میں یہاں تعینات کیا گیا ہے۔ اس سکول میں زیر تعلیم بچوں کے ایک وفد نے کشمیر عظمی کوبتایا کہ چھ کنٹریکچول لیکچراروں کی اسامیوں کو پْر کرنے کے باوجود بھی اْردو ، کمسٹری ، ریاضی اور جغرافی کے لیکچراروں کی اہم اسامیاں ابھی خالی پڑی ہیں اور گیارھویں اور بارھویں جماعت میں زیر تعلیم 54 طلاب کی تعلیم متاثر ہوکر رہ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہائیر سیکنڈری سکول مْہو میں 60 سے 65 لڑکیوں سمیت 170 بچے مْہو ، منگت ، کڑْجی ، ہرگام ، ولو ، بجناڑی کے دور اور گھنے جنگلوں کے پْرخطر راستوں سے یہاں تعلیم کی غرض سے پہنچتے ہیں لیکن سکول میں چار اہم مضامین کے لیکچرار موجود ہی نہیں ہیں اور تعلیمی سیشن کے دو مہینے گذرنے جانے کے بعد محکمہ تعلیم نے ایجوکیشن ، پولٹیکل سائینس، انگلش ، اکنامکس ، زالوجی اور بوٹنی کے مضامین کیلئے کنٹریکچول لیکچرار مْہو بھیجے ہیں جبکہ اردو ، کمیسٹری ، میتھ اور جغرافی کے لیکچراروں کی اہم آسامیاں مسلسل خالی پڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکولی عمارت کے نام پر یہاں چار کمرے موجود ہیں جن میں سے دو کمروں کو پلائی ووڈ کی مدد سے بیچ میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان کے اندر پڑھائی اور دفتر اور سٹور بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پلائی ووڈ کی مدد سے تقسیم کئے گئے کمروں کے اندر شور کی وجہ سے کانوں پڑی آواز بھی سنائی نہیں دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکول کے صحن میں ایک پرانی اور خستہ حال عمارت میں چھٹی اور ساتویں جماعت کے بچوں کی پڑھائی کرائی جاتی ہے ، جو کمرے اپنی خستہ حالی کی وجہ سے کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مْہو منگت کا خوبصورت علاقہ انتہائی غریب اور پسماندہ علاقہ ہے اور اِن علاقوں کے بیشتر لوگ مزدوری کیلئے پنچاب کا رخ کرتے ہیں اور دوْر دراز کا علاقہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو مقامی سطح پر مزدوری بھی نہیں ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں زیر تعلیم غریب بچے یہاں سے بانہال اور رام بن کے تعلیمی اداروں میں تعلیم کی غرض کیلئے جانا چاہتے ہیں لیکن بچوں کے غریب والدین کی مالی حالت تعلیم کیلئے اِس ہجرت کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ اس سلسلے میں بات کرنے پر محکمہ تعلیم کے اہلکار نے بتایا کہ کہ ہائیر سیکنڈری سکول مْہو میں لیکچراروں کی کمی پر قابو پانے اور بچوں کی تعلیم کو جاری رکھنے کیلئے چھ کنٹریکچول لیکچراروں کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ سکول میں پرنسپل اور دو مستقیل لیکچرار اور چھ ٹیچر تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع رام بن کی ہائیر سیکنڈری سکولوں میں مستقل سٹاف کی کمی کا مسئلہ متعدد بار اعلی حکام کی نوٹس میں لایا گیا ہے لیکن ابھی تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مْہو ہائیر سیکنڈری میں چھٹی سے بارھویں جماعت تک بچے زیر تعلیم ہیں اور وہاں تعینات اساتذہ کو تعلیم مکمل کرنے کیلئے اضافی وقت بھی دینا پڑتا ہے۔