ریاسی//گائوں کنڈرہ میں کافی تعداد میں عوام اکٹھے ہوئے اور جن میں کافی تعداد میں بچے بھی شامل تھے۔ سابقہ سرپنچ بودھراج کی قیادت میں یہ مظاہرہ کیا گیا۔ عوام نے بچوں کے ساتھ مل کر یہ مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ ہائی سکول کنڈرہ جو ایک بچھڑا علاقہ ہے1984 میں ہائی سکول بنایا گیا تھا بڑے دکھ کی بات ہے ضلع ہیڈ ریاسی سے یہ سکول70کلومیٹر دوری کے فیصلے پر ہے۔ کئی بار ریاستی و مرکزی سرکاروں سے فریاد یں کی گئیں۔گذشتہ ماہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے بھی فریاد کی گئی کے گورنمنٹ ہائی سکول کنڈرہ کا درجہ بڑھا کر ہائر سیکنڈری کیا جائے۔ عوام بذریعہ پریس نوٹ ریاستی و مرکزی سیاست دانوں منسٹروں آئی اے ایس آفیسر ز سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ ہائی سکول کا درجہ بڑھا کر فوری طور سیکنڈری کیا جائے اگر ایسا نا ہوا تو یہ لوگ آب دکھی ہیں اور ان کے بچے بچیاں آگے پڑھائی سے محروم ہوتے جا رہے ہیں کوئی سخت قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے جس کی ذمہ داری مرکزی اور ریاستی سیاست دانوں و بیوروکریٹس کی ہوگی ۔اس موقعہ پرکافی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔اس سکول میں چار پنچایتوں جن میں ڈیرہ ٹانڈہ،بھبھر رسیالاں و براہمناں و دیگر 10کلومیٹر کے ایریا سے لگ بھگ400کے قریب بچے بچیاں پڑھتے ہیں۔