ڈوڈہ//کانگرس کے سینئر لیڈر اور رکن قانون ساز کونسل شام لال بھگت نے سب ڈویژن عصر ڈوڈہ میں کرناٹک میں کانگرس پارٹی کی جیت پر جشن منایا ۔اس دوران بھاری تعداد میں کانگرس مرد و زن نے ریلی میں شرکت کی۔کانگرس کارکنان نے اس جیت کو قانون اور جمہوریت کی جیت قرار دیا ۔ ورکران نے کانگرس پارٹی کے نعرے اور کانگرس کی قومی صدر راہل گاندھی ،راجیہ سبھا میں حزب اختلاف لیڈر و سینئر لیڈر غلام نبی آزاد زندہ باد کے نعرے لگائے۔اس موقع پر کانگرس کارکنان نے پارٹی اعلیٰ کمان کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ دِن رات ایک کر کے سال 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں ان تھک محنت کرکے پارٹی کو زمینی سطح پر مضبوط کرکے بھاجپا کو ہرا دیں گے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کانگرس ورکران نے بھاجپا پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھاجپا کرناٹک میں مختلف ہتھکنڈے اپنا کراقتدار حاصل کرنا چاہتی تھی مگر وہاں کے عوام نے نے اْن کو زبردست شکست سے ہمکنار کیا ہے جو کانگرس کی ایک تاریخی جیت ہے ۔پارٹی کے کثیرالتعداد میں جمع کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے شام لال بھگت نے کہا کہ کرناٹک کا پورا معاملہ سامنے آنے کے بعد پورے ملک کی عوام کی آنکھیں کھل گئی ہیں کہ ہندوستان میں جمہوریت ابھی زندہ ہے اور قانون انصاف آزادانہ طور اپنا کام کر رہا ہے۔اْنہوں نے کہا کہ بی جے پی دباؤ اور دھونس کی سیاست اپنا کر کرناٹک میں اقتدار حاصل کرنے کی فراق میں تھی مگر اْن کے عزائم کو منہ توڑ جواب ملا ہے ۔شام لال نے پارٹی کارکنان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ سکولر طور یک جٹ ہو کر فرقہ پرست طاقتوں کو پورے میں شکست دیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ وہ آئیندہ پارلیمانی انتخاب میں جیت کے لئے پر عزم ہیں اور بھاجپا کی ہار بھی طے ہے چونکہ بھاجپا فرقہ پرست لہر کو پیدا کرکے اقتدار حاصل کرنے کی فراق میں ہیں جس کو کسی بھی قیمت پر کامیاب نہ ہونا دیا جائے۔