نیویارک //انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیل پر فلسطینیوں کیخلاف نسلی عصبیت کاالزام عائد کردیا۔ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے جاری213صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہاگیاہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کیخلاف نسلی عصبیت اور ایذا رسانی کی پالیسیز پر عمل پیرا ہے۔اسرائیل نے فلسطینیوں کی نقل و حرکت کو محدود کرکے ان کی زمین پر قبضہ کرلیاہے جبکہ اسرائیل کیجرائم انسانیت کیخلاف ہیں۔اسرائیل نے ہیومن رائٹس کے عائد کردہ الزامات کو مسترد کرتیہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ہیومن رائٹس واچ اسرائیل مخالف ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ادھراسرائیلی پولیس کی جانب سے اتوار کی رات یروشلم کے باہر دمشق دروازے کے پاس کھڑی کی گئی وہ رکاوٹیں ہٹا لئے جانے پر فلسطینیوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ رکاوٹیں ہٹانے کا مطلب ہے کہ فلسطینیوں کو اب اس چوک تک رسائی حاصل ہو گئی ہے، جو رمضان کا مہینہ شروع ہونے کے بعد سے لڑائی کا میدان بنا ہوا تھا۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، پولیس کی جانب سے یروشلم کے پرانے شہر کے داخلی دروازے سے رکاوٹیں ہٹانے کے بعد مشرقی یروشلم پلازا میں ہزاروں فلسطینیوں کا ہجوم اکٹھا ہوگیا۔ چند نوجوان فلسطینی پرچم لہرا رہیتھے۔ ماہِ رمضان میں یہ مقام نماز تراویح کی ادائیگی کے لئے مقبول ہے۔تاہم ،جب اسرائیلی پولیس نے ہجوم میں داخل ہو کر فلسطینی پرچم قبضے میں لینا شروع کئے، تو اس وقت ہاتھاپائی شروع ہو گئی۔جشن کے مناظر پیر کی صبح تک جاری رہے۔یروشلم میں پہلے سے پھیلی اشتعال انگیز کشیدگی، تیرہ اپریل کو ماہ رمضان کے آغاز پر تصادم میں تبدیل ہو گئی تھی۔یہ اشتعال مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی پھیل گیا۔جہاں مشرقی یروشلم کے مکینوں سے یکجہتی کیلئے مظاہرے شروع ہو گئے، اور غزہ سے فلسطینی عسکریت پسند گروپوں نے درجنوں راکٹ اسرائیل پر داغے۔تشدد اس وقت عروج کو پہنچا، جب جمعرات کو فلسطینیوں کے طبی عملے نے کہا کہ ایک سو کے قریب فلسطینی زخمی ہوئے ہیں اوراسرائیلی پولیس نے پچاس کو گرفتار کر لیا ہے۔