پوری دنیا کو کوِڈ وبا نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ وبا کی دوسری لہر نے ہمارے سبھی دعوے جھٹلا دئے ہیں۔ دفاعی سودوں پر جب لاکھوں کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہورہی تھی تو حکومت نے صحت عامہ کے شعبے میں خرچ ہونے والے بجٹ کو چند فی صد بڑھا دیا تھا، لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ چاند پر کمند لگانے کی تیاری کرنے والے ملک میں لوگ سانس لینے کے لئے ترس جائیں گے۔
اب بحران قدرے قابو میں ہے۔ مودی سرکار نے فوری طور آکسیجن ایکسپریس ریل گاڑیا چلائیں، صنعتی مقاصد کے لئے آکسیجن کے استعمال پر پابندی عائد ہے اور عالمی برادری نے بڑھ چڑھ کر ملک کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ جب ہم ملکی سطح پر بحران کا تجزیہ کرتے ہیں تو حالت قدرے بہتر ہے۔ ٹاٹا گروپ نے کئی ہسپتال بنائے ہیں، کیرلا میں سرمایہ داروں نے آکسیجن پلانٹ نصب کئے ہیں اور دیگر ارب پتیوں نے باقاعدہ ہیلتھ کیئر سروس شروع کررکھی ہے۔ آئیے اپنے کشمیر کا رْخ کرتے ہیں۔
کشمیر میں بحران سے نمٹنے کے لئے حکومت کو 20 ہزار بستروں والے ہنگامی ہسپتالوں کی ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لئے حج ہائوس، یونیورسٹی اور سٹیدیم میں بستر لگائے گئے مگر وہاں آکسیجن کی فراہمی ابھی تک ممکن نہیں۔ حکومت اپنے طور پر بہت کچھ کررہی ہے۔ موجودہ وسائل کی بنا پر جتنا کچھ ہو سکتا تھا ہو رہا ہے۔ لیکن سماج میں اہل ثروت اور دولت مند حلقوں کی کیا ذمہ داری ہے؟
ہمارے یہاں زبرون پہاڑی سلسلے میں موجود لائم سٹون کے بے پناہ ذخائر پر ہاتھ صاف کرنے والے سیمنٹ صنعت کاروں نے گزشتہ چالیس برس سے ہر حکمران کی مْٹھی گرم کرکے کشمیر کو سیمنٹ کا جنگل تو بنادیا، لیکن کسی نے ان صاحبان ثروت سے یہ نہیں پوچھا کہ اگر کشمیر کے ننھے پہاڑوں کو نچوڑ کر وہ اربوں روپے کما رہے ہیں تو اس کے عوض وہ سماج کو کیا دے رہے ہیں؟ چالیس برس کے دوران کشمیر میں سرمایہ داروں نے ایک جدید ترین ہسپتال بنانے کی کوشش تک نہیں کی۔
سیمنٹ کی صنعت سے ہی جڑے ایک گروپ نے سرینگر میں ایک خیراتی ہسپتال تعمیر کیا اور شروع شروع میں اعلان کیا کہ یہاں غریب اور محتاج لوگوں کا علاج جدید ترین سہولات اور عالمی معیار کے مطابق ہوگا۔ لیکن وقت نے دیکھ لیا کہ وہی ہسپتال بعد میں ایک تجارتی مرکز بن گیا جہاں صرف وہی جاسکتا ہے جسکے پاس لاکھوں خرچ کرنے کی اہلیت ہو۔
ہمارے یہاں این جی اوز کی کمی نہیں۔ اربوں روپے کے عطیات اِن این جی اوز کی ٹھاٹ باٹ پر صرف ہوتے ہیں۔ کہیں کہیں انہوں نے دواخانے بھی لگائے ہیں جہاں مہلک امراض کی دوائیاں سبسڈی پر فروخت ہوتی ہیں، لیکن یہ مسلے کا حل نہیں ہے۔ ہمارے یہاں ہوٹل مالکان، صنعت کار اور دوسرے شعبوں میں بہترین تجارت کرنے والے دولت مند حلقے سماج کے تئیں اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں۔ اللہ والوں کو کھانا کھلانے ، مساجد کی آرائیش پر لاکھوں خرچ کرنے اور دارلعلوموں کو فرنیچر عطیہ دینے سے وہ ذمہ داری پوری نہیں ہوتی جو ایک دولت مند کے کاندھوں پر ہوتی ہے۔ زکواۃ اور صدقات تو سبھی دیتے ہیں، لیکن میں ’’اخلاقی سرمایہ کاری‘‘ کی بات کررہا ہوں۔
سرمایہ کاری کا روایتی مطلب ہے کہ ایک نفع بخش شعبے میں پیسہ لگایا جائے تاکہ تجارت میں چار چاند لگ جائیں۔ یہ غلط بات نہیں ہے، تجارت کا مقصد ہی یہی ہے۔ لیکن سرمایہ کاری کا ایک اور پہلو ہے جسے ہم ’’اخلاقی سرمایہ کاری‘‘ کہتے ہیں۔ ایسی سرمایہ کاری میں سرمایہ کار کے زیر نظر نقد منافع یا تجارت کی توسیع نہیں بلکہ سماجی بہبود ہوتا ہے۔ اگر آپ 800 کروڑ روپے مالیت کا سیمنٹ پلانٹ چلارہے ہیں تو دس پچاس کروڑ روپے اخلاقی سرمایہ کاری کے لئے وقف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ مذہبی طبقے کو جیب میں رکھنے سے آپ کی سماجی پہچان ضرور بنے گی، لیکن وہ فرض پورا نہیں ہوگا جو خدا نے دولت عطا کرنے کے ساتھ ہی آپ پر عائد کردیا ہے۔
ہر بار ضروری نہیں کہ تھیلا اور کشکول لے کر پیسہ جمع کیا جائے اور ایک عدد شفاخانہ تعمیر ہو۔ سرمایہ داروں کو آگے آنا ہوگا، کیونکہ اکیسویں صدی کے رْبع اول میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اب دْنیا کو پھر ایک بار وہی کچھ دیکھنا ہوگا جو وہ بیسویں صدی کے رْبع اول میں دیکھ چکی ہے۔ یعنی جنگ وجدل، ناگہانی آفتیں اور وبائی صورتحال۔ ایسے میں سب کچھ سرکار کے سر پر تھوپنا دانشمندی نہیں ہے۔
جدید دور میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ’’کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی‘‘ کا نظریہ عام ہے۔ یعنی ایک بڑی کمپنی کو اپنے منفافع کا اڑھائی فی صد سماجی بہبود پر خرچ کرنا ہوتا ہے۔ ستم یہ ہے کہ اس کام کے لئے ایجنسیاں سرگرم ہیں۔ چند اپاہج لوگوں کو جمع کرکے انہیں چند لاکھ روپوں کے ویل چیئر تھما کر اس ذمہ داری سے دامن جھاڑنا اب معمول ہے۔ کشمیر نہ صرف جنوب ایشیائی راہداریوں کا چوراہا ہے بلکہ موسمی اور جغرافیائی اعتبار سے نہایت مخدوش خطہ ہے۔ یہاں سیلاب ، زلزلے اور وبا وقفے وقفے سے آتے ہیں۔ ہمارے یہاں حکومت کئی دہائیوں سے ٹراما ہسپتال نہیں بنا پائی ہے۔ ایسے میں سرمایہ داروں پر فرض بنتا ہے کہ مستقبل کے چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے وہ ’’اخلاقی سرمایہ کاری‘‘ کے نطریہ کے قائل ہوجائیں۔ اگر سیمنٹ کارخانوں کے چار مالکان ہی ایک ساتھ جمع ہوکر ایک جدید ہسپتال کی تعمیر کا ذمہ اْٹھا لیں تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اگر حکومت نصف درجن آکسیجن پلانٹ لگا رہی ہے تو ہمارے سرمایہ داروں کو دو درجن پلانٹ لگانے ہونگے اورایسا ممکنات میں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا تاجر، صنعت کار اور دولت مند شہری منافع سے کیا مراد لیتا ہے۔ کیا منافع صرف نقد روپیہ ہے ؟ کیا یہ منافع نہیں کہ سماج کو آفت کا سامنا ہو اور سرمایہ داروں کے بنائے ہسپتالوں یا طبی مراکز کی وجہ سے وہ آفت ٹل جائے؟ آستانوں پر مہنگی چادر چڑھانے، اللہ والوں کے لئے مہنگی گاڑیاں وقف کرنے اور مساجد کو دْلہن کی طرح سجانے کا رْجحان بْرا نہیں، لیکن اگر سماج کے تئیں اخلاقی سرمایہ داری کا کلچر پروان نہیں چڑھتا تو یہ سب محض اپنی تجارتی سلطنت کے اِرد گرد مذہبی لبادہ اوڑھنے کے مترادف ہے۔
���
ای میل ۔[email protected]
موبائل نمبرات;؛7780882411،9469679449