نئی دہلی//پانچ بار آئی پی ایل جیتنے والی ٹیم ممبئی انڈینز اور ایک بار کی فاتح راجستھان رائلز آئی پی ایل 14 کے ٹاپ فور میں رہنے کے لئے جمعرات کو یہاں آمنے سامنے ہوں گی۔ آئی پی ایل 14 کے اس 24 ویں مقابلے میں جہاں ممبئی کا وقار داؤ پر لگا ہوگا ، تو وہیں راجستھان کے لئے بھی کرو یا مرو کی صورتحال ہوگی۔ اگر ممبئی میچ ہار جاتی ہے تو وہ چوتھے نمبر سے کھسک جائے گی ، جبکہ راجستھان ساتویں سے چوتھی پوزیشن پر آ جائے گا۔ ایسی صورتحال میں دونوں کے مابین سخت اور دلچسپ مقابلہ ہوگا۔فی الحال ممبئی اور راجستھان پوائنٹس کے لحاظ سے برابر ہیں۔ دونوں ٹیموں کے پاس پانچ میچوں سے تین شکست اور دو جیت کے ساتھ چار چار پوائنٹ ہیں ، لیکن ممبئی مائنس0.032 کے نیٹ رن ریٹ کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے ، جبکہ راجستھان مائنس 0.681 کے ساتھ ساتویں نمبر پر ہے۔ ممبئی کے لئے اچھی بات یہ ہے کہ چنئی جیسی سست پچ سے باہر نکلنا ہے۔اس نے اپنے پچھلے پانچ میچ چنئی میں کھیلے ہیں ، جن میں سے وہ صرف دو ہی پوائنٹ جیتی ہے اور اب ممبئی کے اگلے چار میچ دہلی میں ہیں جو بلے بازی کے لئے موافق پچ سمجھی جاتی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیکہ دہلی جیسی پچ پر ممبئی کی ٹیم اپنے رویہ کے مطابق بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتی ہے، لیکن راجستھان کو بھی سرسری طور پر نہیں لیا جاسکتا، وہ اپنا پچھلا مقابلہ چھ وکٹ سے جیت کر آرہی ہے جبکہ ممبئی نے پچھلا میچ 9 وکٹ سے ہارا تھا۔دونوں ٹیموں کی اوور آل کارکردگی کی بات کریں تو یہ خاصی اچھی نہیں رہی ہے جس کی وجہ کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی خراب ہونا ہے۔ کپتان روہت شرما اور سوریہ کمار یادو کو چھوڑ دیں تو ممبئی کا ٹاپ آرڈر اور مڈل آرڈر اب تک فلاپ رہا ہے۔ ہر میچ میں روہت کا بلا بولا ہے۔ انہوں نے پانچ میچوں میں197 رن بنائے ہیں، جبکہ سوریہ کمار نے 154 رن بنائے۔ اس کے علاوہ ٹاپ آرڈر ، مڈل آرڈر اور لوور آرڈر میں کوئی بھی بلے باز بلے سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیم پانچوں میچوں میں بڑا اور چیلنجنگ اسکور بنانے میں ناکام رہی ہے۔ تیم نے پانچوں میچوں میں بالترتیب 159، 152، 150، 137 اور 131 کا اسکور بنایا۔ اس میں سے وہ تین مقابلوں میں اسکور ڈیفینڈ نہیں کرپائی تھی۔ دونوں میچوں میں ملی جیت بھی ہار کر جیتنے والی تھی۔ممبئی کی گیند بازی میں بھی وہ دھار نظر نہیں آ رہی ہے جس کے لئے وہ جانی جاتی ہے۔ ٹیم کے سب سے اہم گیند باز اور تیز گیند بازی کی قیادت کررہے جسپریت بمراہ بھی گیند کے ساتھ ماند نظر آئے۔ پانچ میچوں میں انہیں محض چار وکٹ ہی ملے ہیں اگرچہ نوجوان لیگ اسپنر راہل چاہر کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔ انہوں نے اب تک کل 9 وکٹ لئے ہیں، جس میں سے سات وکٹ دوسرے اور تیسرے میچ میں ملے تھے اور اس کے بدولت ہی ممبئی نے یہ دونوں میچ جیت تھے۔راجستھان کے لئے اس کی بلے بازی اور گیند بازی دونوں پریشانی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ وہ بھلے ہی پچھلا میچ چھ وکٹ سے جیت کر آرہی ہو لیکن کارکردگی میں استحکام اور کنسسٹنٹسی کی کمی ٹیم کی قابلیت پر سوالیہ نشان لگا رہی ہے۔ راجستھان کا کوئی بھی بلے باز ابھی تک بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پایا ہے۔ کپتان سنجو سیمسن نے ضرور پہلے اور پانچویں مقابلے میں اچھی اننگز کھیلی تھی لیکن کہیں نہ کہیں وہ بھی سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ راجستھان نے اپنے پانچوں مقابلے ممبئی کے وانکھیڑے میدان پر کھیلے ہیں جس کی پچ بلے بازی کے لئے موافق ہے۔ اس کے باوجود راجستھان یہاں صرف دو میچ جیت پائی ہے۔ گیند بازی میں بھی ٹیم سے ابھی تک اچھی کارکردگی ہی درکار ہے اگرچہ آئی پی ایل کے سب سے مہنگے غیر ملکی کھلاڑی کرس مورس نے بہترین گیند بازی کی، لیکن ان کے علاوہ کوئی گیند بازی پراثر گیند بازی نہیں کرپایا ہے۔یو این آئی۔ این یو۔