سرینگر //کشمیر کے بیشتر سرکاری اسپتالوں میں جمعرات کی صبح سے کورونا مخالف ویکسین کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ صدر اسپتال ، کشمیر ویلی نرسنگ ہوم ، سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ، سکمز صورہ اور دیگر پرائمری ہیلتھ سینٹروں اور طبی مراکز میںمنتظمین نے ٹیکہ کاری پوائنٹ بند کرکے ان پر ’’vaccine out of stock‘‘ کے بورڈ چسپاں کئے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ کورونا مخالف ویکسین کی مانگ بڑھی ہے۔ 16جنوری 2021کو پورے بھارت کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں بھی ایک لاکھ 6ہزار ہیلتھ ورکروں کو ویکسین لگانے کا عمل شروع کیا گیا لیکن اب مہم کے آغاز کے 3ماہ بعد ہی مانگ بڑھنے کی وجہ سے ویکسین کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔اس کی وجہ سے صدر اسپتال، سی ڈی اسپتال، کشمیر ویلی نرسنگ ہوم، سکمز صورہ اور دیگر پرائمری ہیلتھ سینٹروں اور طبی مراکز میں منتظمین کو کونٹر بند کرنے پڑے ہیں۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے ترجمان ڈاکٹر محمد سلیم خان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ جمعرات صبح سے ہی ویکسین کی کافی قلت پیدا ہوگئی لیکن ہمیںانتظار کرنیکی ہدایت دی گئی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ ہمیں بتایا جارہا ہے کہ ابھی ویکسین آئے گی ، ہمارے لوگ برزلہ میں انتظار کررہے ہیں لیکن شام تک ویکسین کی کھیپ نہیں آئی ‘‘۔ ادھر شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ میں بھی جمعرات کو چند گھنٹوں بعد ہی ویکسین ختم ہوگئی ۔سکمز میں تعینات ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا ’’ جمعرات کو صبح ویکسین دستیاب تھی لیکن بعد میں وہ ختم ہوگئی ‘‘۔مذکورہ ڈاکٹر نے بتایا کہ ویکسین کو کافی احتیاط اور حفاظت کے ساتھ رکھنا پڑتا ہے اور اسلئے ہم زیادہ ویکسین سٹاک میں نہیں رکھتے۔جموں و کشمیر میں ویکسین فراہم کرنے کا محکمہ صحت و سماجی بہبود کو سوپنا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفئیرڈاکٹر سلیم نے بتایا ’’ لوگ کافی تعداد میں ویکسین لگانے کیلئے آرہے ہیںجو ہماری توقعات سے زیادہ ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین کی مانگ کافی بڑھ گئی ہے اور اسلئے کمی محسوس کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مانگ بڑھنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی کمی کے معاملہ کو حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے‘‘۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرکزی سرکار نے ملک میں کورونا مخالف ٹیکہ لینے کیلئے عمر کی اوپری حد میں کمی کرکے 18سال کردی ہے جبکہ 45سال کی اوپر کے عمر کے لوگوں اور مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کو مفت ویکسین فراہم کیا جارہا ہے۔