کنگن//سرینگر لداخ شاہراہ مسافر و مال بردار گاڑیوں کیلئے بدستور بند ہے حالانکہ امسال شاہراہ کو کھولنے کے سلسلے میں بھر پور تماشے کئے گئے۔کنگن سے سونہ مرگ کے درمیان ابھی بھی قریب 400مال بردار گاڑیاں در ماندہ ہیں جبکہ 50چھوٹی مسافر گاڑیاں بھی ہیں۔شاہراہ کو کھولنے کاپہلا تماشہ 28مارچ کو کیا گیا جب ڈائریکٹر جنرل بارڈر روڑ آرگنائزیشن کی جانب سے زوجیلا میں ایک فوٹو سیشن کیا گیا اور روڑ کھولنے کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔دوسری بار تماشہ 21اپریل کو کیا گیا جب 11ٹاٹا موبائل گاڑیوں کو کرگل روانہ کیا گیا۔ لیکن بظاہر روڑ بند ہی رہا۔تیسرا تماشہ منگل 27اپریل کو کیا گیا جب انتظامیہ کی طرف سے تحریری طور پر شاہراہ کھولنے کے احکامات دیئے گئے لیکن شاہراہ بدستور بند ہے۔صوبائی انتظامیہ کے تحریری حکمنامے کے 4روز بعد434کلو میٹر سرینگر لیہہ شاہراہ پر جمعہ کو فوجی گاڑیوں کوآزمائشی طور پر کرگل کی طرف روانہ کیا گیا۔جمعرات کو کرگل اور لیہہ میں مقامی لوگوں نے احتجاج کیا اور پیٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت پر برہمی کا اظہار کیا۔جمعہ کی دو پہر 9روز بعد سونہ مرگ کے مختلف علاقوں میں در ماندہ 133تیل ٹینکر لداخ روانہ کئے گئے۔تین روز قبل 200ٹاٹا موبائلوں کو سونہ مرگ سے لیہہ اور کرگل کی طرف روانہ کیا گیا تھا۔ سرینگر سونہ مرگ شاہراہ کے مختلف مقامات پر تازہ سبزی اور دیگر اشیائے خوردنی سے لدھی مال بردار گاڑیاں درماندہ ہیں۔گگن گیر، وسن اورگنڈ میں درماندہ مال بردار ٹرکوں کی تعداد 300 کے قریب ہے جبکہ سونہ مرگ میں 130ٹاٹا موبائل اور50چھوٹی مسافر گاڑیوں میں سوار200مسافربھی د ر ماندہ ہیں۔ ٹرک ڈرائیوروں کا کہناہے کہ ان کی گاڑیوں میں لدھی ہوئی تازہ سبزی خراب ہوگئی ہے جس کی وجہ سے انہیںذہنی پریشانی ہوگئی ہے۔ ڈرائیوروںنے کہا کہ انکو وسن، گنڈ اور گگن گیر کے مقامات پر روک دیا گیا جہاں کوئی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ اس سلسلے میںڈی ایس پی ٹریفک رورل گاندربل فہیم علی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جمعہ کوفوج کی گاڑیوں کو ٹرائل کے لئے کرگل روانہ کیا گیا تاکہ بڑی گاڑیوں کو لیکر زوجیلا درہ کا پتہ چلایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اگلے دو روز تک درماندہ گاڑیوں کو بھی یکطرفہ چلنے کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سونہ مرگ سے تیل کے ٹینکروں اور سبزی سے لدھے ٹاٹا موبائلوں کو روانہ کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ لیہہ اور کرگل میں پٹرول اور ڈیزل کی کافی قلت ہے جس کی وجہ سے تیل ٹینکروں کو روانہ کرنا پڑا۔یاد رہے کہ شاہراہ کو 21اپریل کو آمدورفت کے لئے کھول دیا گیا تھا لیکن 22اپریل کو دوبارہ برفباری کی وجہ سے آمدورفت کے لئے بند کیاگیا۔ 24اپریل کو موسم میں بہتری آنے کے ساتھ ہی شاہراہ کو دوبارہ آمدورفت کے لئے کھول دیا گیا تھا جس کے بعد لیہہ اور کرگل کی طرف سونہ مرگ سے سبزیوں سے لدھے 275ٹاٹا موبائلوں کو روانہ کیا گیا تھا۔