مہور//مرکزی سرکار جہاں ہر گائوں کوسڑک کے ساتھ جوڑنے کا دعویٰ کررہی ہے وہیں اگر اُن پرانی سڑکوں کی طرف دیکھا جائے تو ان پرچلنا دشوار بن گیا ہے ۔کروڑوں خرچنے کے با وجود ان سڑکوں کی حالت ابتر ہے ۔یہاں مہور سے گول52کلومیٹر سڑک کی حالت نا گفتہ بہہ ہے ،وہیں بدھن علاقہ کو تحصیل تھرودھرماڑی کیساتھ ملانی والی سڑک کی حالت بھی نہایت ہی ابتر ہے ۔اگر چہ یہ سڑک گریف حکام کے سپردہے اور اسے دفاعی رابطہ سڑک سے بھی جانا جاتا ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو دفاعی دعوے تو سرکار کے بڑے بڑے ہوتے ہیں لیکن سڑک کے لحاظ سے صفر دکھائی دے رہاہے۔مہور سے گول تک سفرکرنے میں اتنا ہی وقت لگتا ہے جتنا جموں سے مہور تک لگتا ہے کیونکہ مہورسے گول سڑک کی حالت بہت ہی زیادہ ابتر ہے۔گریف حکام تو ہر سال کروڑوں ،لاکھوں روپے اس سڑک پرنکالتا ہے لیکن اس کی حالت بہت ہی زیادہ ابتر ہے ۔ یہاں پرمقامی لوگوں نے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ’’افسوس کامقام ہے کہ ہندوستان میں تو بڑے بڑے نقشے بدل گئے ، جموں سرینگر شاہراہ بدل گئی، ریلوے لائنیں بدلیں ،نئی ریلیں چلیں، لیکن گول مہور سڑک کی حالت نہیں بدلی ۔1962کے دوران اس سڑک کوتعمیرکیا گیا لیکن ابھی تک اس کی حالت کو نہیں بدلا گیا ۔اگر چہ یہ سڑک دواضلاع،دوحلقہ انتخاب میں آتی ہے ۔گول سے دگن ٹاپ تک یہ سڑک ضلع رام بن میں پڑتی ہے اوربدھن تک حلقہ انتخاب گول ارناس کے ساتھ جڑتی ہے اور وہاں سے آگے مہور گلاب گڑھ انتخاب کے ساتھ اوردگن ٹاپ سے مہور تک ریاسی ضلع میں پڑتی ہے لیکن اس کے با وجود اس سڑک کی حالت جوں کی توں ہے ۔ لوگوں نے اس بات پربھی سخت افسوس کا اظہارکیا ہے کہ یہاں دونوں حلقہ انتخاب میں مومودہ اور پرانے ایم ایل اے صاحبان پچھلی سرکاروں کے کابینہ وزراء بھی رہ چکے ہیں لیکن انہوں نے بھی اس سڑک کو بہتر بنانے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکار کو اپنے دعوئوں کو صحیح ثابت کرنے کے لئے عملی طور پرکام کرنا چاہئے تا کہ لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو صحیح ثابت کیا جائے۔