ڈوڈہ //ایک طرف یوٹی کے مختلف اضلاع میں کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہونے سے آکسیجن کی کمی پائی جارہی ہے وہیں دوسری طرف جی ایم سی انتظامیہ ڈوڈہ کی عدم توجہی سے ضلع کیلئے آئی آکسیجن مشینری تین روز تک گاڑی میں پڑی رہنے کے بعد واپس پنجاب پہنچ گئی جس کے نتیجے میں سیول سوسائٹی نے انتظامیہ کی بے حسی پر غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ عوام کو اس بارے میں سوشل میڈیا کے ذریعے پتہ چلا جس کے بعد سماجی حلقوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ سابق ایم ایل سی نریش کمار گپتا نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ تین اضلاع کی عوام کا سہارا ہے۔ لیکن اگر وہاں بنیادی سہولیات میسر نہیں ہے تو یہ افسوس کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں آکسیجن کی کمی ہے اور جی ایم سی ڈوڈہ کیلئے آرہی مشینری واپس جانا اچھی بات نہیں ہے۔ سماجی کارکن اشتیاق احمد دیو نے کہا کہ فی الحال حالات بہتر ہیں لیکن کسی بڑی ایمرجنسی کے دوران آکسیجن کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایم سی انتظامیہ کو اپنی غلطی کا اعتراف کرکے اسے مستقبل میں دہرانا نہیں چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آکسیجن مشینری کو جلد واپس لانے کا بندوبست کرنا چاہئے بصورت دیگر وہ سڑکوں پر اترنے کیلئے مجبور ہوں گے ۔سعداللہ رنگریز نامی ایک مقامی شہری نے کہا کہ انتظامیہ نے آنکھیں بند رکھیں اور بدقسمتی سے آکسیجن مشینری واپس گئی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے پرنسپل جی ایم سی ڈوڈہ ڈاکٹر دنیش کمار نے کہا کہ زیر تعمیر آکسیجن پلانٹ 31 مئی تک مکمل ہو گا۔ آکسیجن مشینری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خراب موسم کے باعث ٹرک ڈرائیور سے ایک دن رکنے کو کہا تھا لیکن وہ نکل گیا۔انہوں نے کہا کہ اس بارے میں مجھے ایگزین مکینیکل نے دوسرے روز بتایا جس کے فوراً بعد ہم نے اس معاملہ کو ڈی سی و ایس ایس پی کی نوٹس میں لایا لیکن تب تک ٹرالہ لکھن پور سے باہر نکل گیا تھا۔ پرنسپل نے کہا کہ مشینری اُتارنے کیلئے کرین وقت پر دستیاب نہ ہو سکا۔تاہم انہوں نے کہا کہ بہت جلد اعلیٰ حکام کی مدد سے مشینری واپس پہنچے گی۔اور مذکورہ ڈرائیور کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔